شیوسینا (ادھو) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نےکہاکہ حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں، غدار ایم پیز کو الیکشن جیتنے کا چیلنج دیا ۔
شیوسینا (اُدھو )کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرےمیڈیا سے گفتگو کے دوران۔تصویر: سید سمیر عابدی
ادھو ٹھاکرےکی شیو سینا سے منتخب ہونے والے ۶؍اراکین پارلیمان نے پیر کو ایکناتھ شندے کی شیو سینا میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس سلسلے میں جب شیو سینا (ادھو) کے لیڈر و رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے پوچھا گیا تو انہوںنے اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ سبھی غدار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ اراکین پارلیمان ادھو بالا صاحب ٹھاکرے کے چہرے اور ان کی پارٹی کے ٹکٹ پر بی جے پی اور شندے سینا کے خلاف منتخب ہوئے تھے۔ ان کیلئے ادھو ٹھاکرے ، این سی پی ( شرد) اور کانگریس کے لیڈروں نے ریلیاں کی تھیں ، تب جا کر انہوں نے الیکشن میں مہا یوتی کے خلاف فتح درج کرائی تھی۔ لیکن آج وہ ذاتی مفاد کیلئے شندے خیمے میں شامل ہو رہے ہیں اور اپنے ضمیر کو بیچ دیا ہے۔ یہ افسوسناک ہے ۔ ان میں اگر میں ہمت ہے تو وہ رکن پارلیمان کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے اور اس کے بعد بی جے پی یا ان کے کسی مقبول لیڈر کے چہرے پر دوبارہ الیکشن لڑ کر جیت کر دکھائیں۔آدتیہ ٹھاکرے نے الزام لگایا کہ’’ بی جےپی ملک کے آئیں کو بدلنا چاہتی ہے اور اسی لئے اراکین اسمبلی کو خرید رہی ہے ۔مہا یویتی دو تہائی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے اور اسی لئے اس طرح اپوزیشن لیڈروں کو خرید رہی ہے ۔‘‘
مہا یوتی حکومت فنڈدینے میں تفریق کر تی ہے
جب یہ بتایاگیا کہ پارلیمانی حلقہ اور مہاراشٹر کی ترقی کیلئے پارٹی بدلنے کا جواز پیش کیاجارہا ہے، اس پر آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ’’ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی اور مہا یوتی حکومت فنڈ کی تقسیم میں تفریق کرتی ہے۔ اپوزیشن کے لیڈروں کو ان کے اسمبلی اور پارلیمانی حلقہ کی ترقی کیلئے فنڈنہیں دیاجارہاہے جو عوام کے حق کے ساتھ نا انصافی ہے اور اسی لئے یہ حکومت ترقی مخالف سرکار ہے۔
بی جے پی کی توجہ پارٹیوں کو منقسم کرنے پر ہے
شیو سینا ( ادھو) کے لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ’’ امسال مانسون تاخیر سے شروع ہو نےسے عوام کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ممبئی میں ۱۰؍ فیصد پانی کٹوتی کہہ کر اس سے زیادہ کی کٹوتی کی جارہی ہے۔جھیلوں میں محض ۸؍ فیصد پانی بچا ہے اور ریزرو کوٹے سے پانی کا استعمال کرنے کی نوبت آگئی ہے۔ ممبئی میں بیسٹ کےملازمین کے مطالبات پورے نہ ہونے پر ہڑتال کی جارہی ہے لیکن مہا یوتی حکومت کو عوام مسائل حل کرنے میں نہیں لیکن پارٹیوں کو توڑنے ، اراکین پارلیمان ،اسمبلی اور کارپوریٹر کو خریدنے میں دلچسپی ہے۔ مہا یوتی یہ سہولتیں مہیا کرانے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔