Inquilab Logo Happiest Places to Work

امراوتی : میل گھاٹ میں پانی کے مسئلے سے دوچار بوردھا گاؤں والوں نے بورویل خود کھدوالیا

Updated: June 23, 2026, 12:23 PM IST | Ali Imran | Amravati

حکومتی انتظامیہ کےمبینہ تساہل سےناراض گاؤں کے۱۱۰؍ خاندانوں نے ڈھائی لاکھ روپے اکٹھے کئے اورنجی ایجنسی کوبلاکر پانی کا مسئلہ حل کیا۔

The Place In The Village Where The Borewell Work Was Done.Photo:INN
گاؤں کا وہ مقام جہاں بورویل کا کام کیا گیا-تصویر:آئی این این
 ودربھ کے انتہائی پسماندہ علاقے میل گھاٹ کے چیکھلدرا تعلقہ کے بوردھا گاؤں کے مکینوں نے پینے کے پانی کے مسئلے کو خود حل کرنے کی پہل کرکے حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔ انتظامی لاپروائی کی وجہ سے گزشتہ کئی برسوں سے اس گاؤں میں پانی دستیاب نہیں تھا۔ گاؤں کے ۱۱۰؍خاندانوں نے اپنی مستقل پریشانی کا حل نکالتے ہوئے خود ہی ہر گھر سے ڈھائی ڈھائی ہزار روپے لے کر کل ۲؍لاکھ ۷۵؍ ہزار روپے جمع کرکے گاؤں میں بورویل کھدوالی۔
 
 
اطلاع کے مطابق بوردھا گاؤں میں پینے کے پانی کی شدید قلت تھی۔ گاؤں والوں کا الزام ہے کہ بار بار کہنے کے باوجود ضلع انتظامیہ نے توجہ نہیں دی۔ یہ گاؤں، جس کی کل آبادی ۵۵۰؍ نفوس پر مشتمل ہے، سب نے مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ بورویل کھودنے کے لیے کوئی رسمی میٹنگ نہیں ہوئی۔ گاؤں کے چار پانچ نوجوان رات کو اکٹھے بیٹھ کر اس مسئلے پر بات کرتے تھے۔ انہوں نے پانی کی فراہمی کے لئے بورویل کیلئے جگہ کا انتخاب کیا اور اگلے دن انہوں نے ایک نجی ایجنسی سے لاگت کی معلومات حاصل کی اور یہ اطلاع ہر خاندان تک پہنچائی گئی۔ 
 
 
دلچسپ بات یہ ہے کہ گاؤں کے ہر خاندان نے ان نوجوانوں کی منصوبے اور تجویز پر یقین کیا اور رقم جمع کرنے میں مدد کی۔ صرف ۸؍دنوں میں۲؍لاکھ ۷۵؍ہزار روپے جمع ہوئے۔ کچھ خاندانوں کے پاس پیسے نہیں تھے تاہم وہ پیچھے نہیں ہٹے اور انہوں نے ساہوکاروں سے قرض لیا، جب کہ کچھ نے اپنے زیورات رہن رکھ کر یا اپنی بکریوں کو بیچ کر وقت پر رقم جمع کردی۔ بورویل کے لئے  مناسب جگہ تلاش کرنے کے لیے مدھیہ پردیش سے ایک کمپنی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ چونکہ گاؤں میں پرانا ہینڈ پمپ پانی فراہم نہیں کر رہا تھا، اس لیے دوسری جگہ کا انتخاب کیا گیا۔ پہلے بورویل تقریباً ۶۵۰ ؍فٹ گہرا کھودا گیا۔ پانی کے منبع تک پہنچنے پر انہیں بتایا گیا کہ ایک سو فٹ پائپ پر اضافی لاگت آئے گی۔ چونکہ یہ گاؤں والوں کی جمع کردہ رقم سے ممکن نہیں تھا، اس لئے نچلی سو فٹ کے کیسنگ (پلاسٹک کے پائپ کو ڈھانپنے) کو روک دیا گیا۔ اگرچہ اس کی وجہ سے پانی کا دباؤ قدرے کم ہے لیکن گاؤں والے اس کوشش سے مطمئن ہیں۔ پہلے انہیں پانی لانے کے لئے  گاؤں سے باہر ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا تھا۔  بوردھا گاؤں کے رہائشیوں کی اس کوشش نے جہاں حکومت اور انتظامی لاپرواہی کو آئینہ دکھایا۔ وہیں اُن کی یہ اس کوشش دوسرے دیہاتوں کے لئے ایک مشعل راہ بن چکی ہے کہ حکومت و انتظامیہ پر انحصار کرنے کے بجائے خودکفیل بنا جائے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK