Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ بندی معاہدہ :ایران کے کچھ منجمد اثاثےفعال

Updated: June 23, 2026, 1:05 PM IST | Agency | Tehran

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران کیلئے تیل اور پیٹروکیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں اورناکہ بندی بھی اٹھالی گئی ہے ۔

Iran, US Continue Efforts To Turn 60-Day Ceasefire Into Permanent Ceasefire.Photo:INN
ایران امریکہ ۶۰؍روزہ جنگ بندی کومستقل جنگ بندی میں بدلنے کی کوششیں جاری ہیں-تصویر:آئی این این
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کے بعد اہم پیش رفت میں امریکہ کی جانب سے ایران کے کچھ منجمد اثاثوں کو فعال کردیاگیا ہے۔۶۰؍ روزہ جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنے کیلئے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور امریکہ کی جانب سے ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری کر دئیے گئے ۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اس تعلق سے اطلاع دی ہے۔ سوئزلینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری  کیا گیا تھا جس پر ردعمل  ظاہر کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے لیے تیل اور پیٹروکیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ عباس عراقچی نے بتایا کہ ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے اور کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیے گئے ہیں ۔ اس سے پہلے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدہ تک پہنچنے کیلئے بھی بات چیت جاری ہے جس میںدوسرے فریق کی ذمہ داریوں پر عملدرآمد سے متعلق اچھی پیش رفت ہوئی ہے ۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق فریقین نے مذاکرات کی نگرانی کیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام پر اتفاق کرلیا ہے اور حتمی معاہدہ کیلئے ۶۰؍روزہ روڈمیپ منظور کرلیا گیا۔
ایران آئندہ چند روز میں منجمد اثاثوں کا استعمال شروع کر ے گا 
ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کے استعمال کا عمل آئندہ چند روز میں بتدریج شروع ہو جائے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کے روز اپنے بیان میں عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ ان اثاثوں کا استعمال  مرحلہ وار کیا جائے گا اور اس حوالے سے تمام اقدامات مرکزی بینک کی پالیسیوں اور ہدایات کے مطابق کئے جائیں گے ۔ انہوں نے مزید وضاحت نہیں کی کہ ابتدائی مرحلے میں کتنی رقم دستیاب ہو گی یا ان فنڈز کو کن شعبوں میں استعمال کیا جائے گا۔ تاہم حالیہ مہینوں میں ایرانی حکام بارہا یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ بیرونِ ملک موجود منجمد اثاثوں تک رسائی تہران کی اہم ترجیحات میں شامل ہے ۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے اربوں ڈالرز کے اثاثے مختلف ممالک میں موجود ہیں جن کی بحالی کا معاملہ حالیہ سفارتی مذاکرات میں بھی زیر بحث رہا ہے۔ان اثاثوں کی بحالی سے ایران کی معیشت کے بھی پٹری پر آنے کی امید ہے۔
 
 
ایران اورامریکہ میں تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے
سوئزرلینڈ میں ثالثوں نے اعلان کیا ہے کہ پیر کے روز امریکہ اور ایران کے اعلیٰ عہدیداروںکے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا جبکہ تکنیکی مذاکرات باقی ہفتوں کے دوران بورگن اسٹاک کے مقام پر جاری رہیں گے۔تہران کی جانب سے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں کے بعد، دو ثالث ممالک قطر اور پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران ۶۰؍دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر متفق ہو گئے ہیں۔قطری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق تکنیکی مذاکرات سوئس پہاڑی مقام میں باقی ہفتے جاری رہیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فریقین لبنان میں لڑائی ختم کرنے کے طریقہ کار پر متفق ہو گئے ہیں اور تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کے لیے رابطہ لائن کھول دی گئی ہے۔امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو ایرانی عہدیداروںکے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھاجو گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کے تحت شروع کئے گئے تھے۔ اس کا مقصد اپریل میں شروع ہونے والی جنگ بندی میں مزید۶۰؍ دنوں کی توسیع کرنا تھا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان کے ملک نے تیل اور پیٹرو کیمیکلز کی برآمدات کیلئے چھوٹ، کچھ منجمد اثاثوں کافعال کی جانا اور ایران میں تعمیر نو کے منصوبے کا آغاز جیسی رعایت حاصل کر لی ہے، حالانکہ وہائٹ ہاؤس نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
 
 
مذاکرات میں تعطل بھی آیا 
امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف دیے گئے سخت بیان سے بدمزگی پیدا ہوگئی جس کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، بعد ازاں وفد واپس روانہ ہوگیا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے لبنان کے معاملے پر اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے بجائے ایران کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر نے ایک پوسٹ میں مطالبہ کیا کہ ایران لبنان میں اپنے پراکسیز(حمایت یافتہ جنگجوؤں)کو گڑ بڑ کرنے سے روکےورنہ ہم اس پر دوبارہ بہت سخت حملہ کریں گے۔اس دھمکی کے بعد ایرانی وفد نے ہال میں جانے سے انکار کردیا تھا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK