دو وَجوہات کی بناء پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو منظر عام پر آنا پڑا۔ پہلی وجہ یہ کہ وہ (اپنا مکروہ چہرا دکھاکر) پریس کانفرنس کے ذریعہ یہ ثابت کردیں کہ اُن کی ہلاکت کی خبر غلط ہے، وہ ابھی موجود ہیں اور ایران کے ہاتھوں اپنے ملک کی ذلت کا نظارہ دیکھ رہے ہیں ۔
دو وَجوہات کی بناء پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو منظر عام پر آنا پڑا۔ پہلی وجہ یہ کہ وہ (اپنا مکروہ چہرا دکھاکر) پریس کانفرنس کے ذریعہ یہ ثابت کردیں کہ اُن کی ہلاکت کی خبر غلط ہے، وہ ابھی موجود ہیں اور ایران کے ہاتھوں اپنے ملک کی ذلت کا نظارہ دیکھ رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ کئی دن سے خبریں گرم تھیں کہ وہ ایران کے حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں ۔ اس طرح کی غیر مصدقہ خبریں سوشل میڈیا سے نکل کر میڈیا میں بھی آنے لگی تھیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جنگ شروع ہوئے ۱۰۔۱۲؍ دن گزر جانے کے باوجود نیتن یاہو نہ تو کسی عوامی پلیٹ فارم پر آئے تھے نہ ہی اُنہوں نے کوئی پریس کانفرنس کی تھی۔ جنگ شر وع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب اُنہوں نے اخباری نمائندوں سے خطاب کیا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ جمعرات ہی کو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے رہبر اعظم بننے کے بعد اپنا اولین خطاب قوم کے نام جاری کیا۔ اس کے باوجود اگر وہ سامنے نہ آتے تو اُن کی رُسوائی میں اضافہ ہوتا اور قیاس آرائیوں کو طاقت ملتی۔
مگر، منظر عام پر آنے کے باوجود نیتن یاہو نے کوئی تیر نہیں مارا۔ پریس کانفرنس کی زیادہ تفصیل سامنے نہیں آئی مگر جتنی بھی آئی ہے اُس سے ظاہر ہے کہ اُن کے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ اُنہوں نے چند جھوٹے دعوے کئے اور ایران کو تباہ کرنے نیز حزب اللہ کو نقصان پہنچانے کی بات کہی۔ دُنیا میں کوئی جنگ ایسی نہیں ہوتی جس میں دونوں طرف کا نقصان نہ ہو۔ ایسا ہی جاری جنگ میں بھی ہوا۔ جہاں ایران نے اسرائیلی شہروں کے ساتھ ساتھ خلیج کے امریکی ٹھکانوں پر امید سے کہیں زیادہ شدید بمباری کی ہے وہیں خود ایران کو بھی کافی نقصان اُٹھانا پڑا ہے مگر اسرائیل اورامریکہ کی فوجی و معاشی طاقت اور ایران کی فوجی و معاشی طاقت کے مقابلے میں جنگی نقصان کا تجزیہ کیا جائے تو بہت آسانی سے کہاجاسکتا ہے کہ ایران کی ضرب زیادہ کاری ہے اور اسرائیل و امریکہ مشترکہ فوجی کارروائی کے باوجود ایران کو اُتنا نقصان نہیں پہنچا سکا ہے جتنا کہ ان کی فوجی طاقت کے ذریعہ ممکن تھا۔ ان دو ملکوں کی امیج کا بھی بڑا نقصان ہوا ہے کیونکہ دُنیا انہیں غیر معمولی فوجی طاقت کا حامل سمجھتی تھی مگر ایران نے ان کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔
نیتن یاہونے اپنے ملک میں اتنی سخت سنسر شپ لگا رکھی ہے کہ اسرائیل سے خبریں باہر نہیں آ رہی ہیں ۔ جس طرح ایران اپنے نقصان کی پوری تفصیل فراہم کررہا ہے اور اُس کے حملوں کے ویڈیوز بھی منظر عام پر ہیں ، اُس طرح کی تفصیل اسرائیل کے بارے میں کسی کے پاس نہیں ہے جبکہ گمان غالب ہے کہ ایران کے شدید حملوں کی وجہ سے اسرائیل دہل گیا ہے۔ اس کے راڈار سسٹم کا تلف اور آئرن ڈوم نامی میزائل مخالف نظام کا ناکام ہوجانا اپنے آپ میں کافی بڑا نقصان ہے۔ شاید اسی لئے نیتن یاہو روپوش تھے۔ ہوسکتا ہے امریکہ بالخصوص ٹرمپ کی ممکنہ لعن طعن کے سبب اُن کی طبیعت بھی بگڑی ہو کیونکہ بڑبولے پن کے عادی ٹرمپ خود کو بُری طرح جکڑا ہوا پا رہے ہیں ۔ خبرہے کہ امریکہ خلیجی ملکوں اور اسرائیل چین کے ذریعہ ایران کو گفتگو کیلئے آمادہ کررہے ہیں ۔ ہوسکتا ہے یہ درست ہو تبھی تو جنگ بندی کیلئے ایران نے تین شرطیں رکھی ہیں ورنہ اس کی ضرورت نہیں تھی بالخصوص ایسی صورت میں جب جنگ میں ایران کی پوزیشن مضبوط ہے۔