ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تقریباً دو ہفتے بعد اسرائیل کے اندر سیاسی اختلافات دوبارہ شدت اختیار کرنے لگے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کو بجٹ کٹوتیوں، جنگی حکمتِ عملی اور انتظامی نااہلی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 6:05 PM IST | Tal Aviv
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تقریباً دو ہفتے بعد اسرائیل کے اندر سیاسی اختلافات دوبارہ شدت اختیار کرنے لگے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کو بجٹ کٹوتیوں، جنگی حکمتِ عملی اور انتظامی نااہلی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ کو تقریباً دو ہفتے گزرنے کے بعد اسرائیل کے اندر سیاسی اختلافات دوبارہ سامنے آنے لگے ہیں، حالانکہ ابتدا میں ایک طرح کا اتحاد دکھائی دے رہا تھا۔ اپوزیشن کے بہت سے لیڈر حکومت کو بجٹ میں کٹوتیوں اور جنگی منصوبہ بندی میں بے ترتیبی کے الزامات پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر یہودی اسرائیلی اب بھی اس جنگ کی حمایت کرتے ہیں، جسے ایران سے لاحق وجودی خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، اپوزیشن سیاستدانوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے اکاؤنٹس یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے بیانات میں فرق پیدا ہو رہا ہے۔ انگریزی میں وہ اکثر اس جنگ کو جائز قرار دیتے ہیں، جبکہ عبرانی زبان میں کئے گئے بیانات میں حکومت کے رویّے پر بڑھتا ہوا غصہ نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسلسل ۱۳؍ویں دن مسجد اقصیٰ میں نماز نہ ہوسکی
اپوزیشن لیڈر یائر لپڈ کے ایکس اکاؤنٹ پر نمایاں پوسٹ میں وہ ایک ہندوستانی نشریاتی ادارے کو بتاتے ہوئے نظر آتے ہیں :’’اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم اسرائیل کے شمال میں یہ جنگ کیوں لڑ رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس وقت سائرن بج جائے تو آپ کو فوراً بھاگنا پڑے گا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ہم ایک منصفانہ جنگ لڑ رہے ہیں تاکہ تمام اسرائیلی محفوظ رہیں اور دہشت گرد تنظیموں یا دہشت گرد ریاستوں سے نقصان نہ اٹھائیں۔ ‘‘اسی کے بعد عبرانی زبان میں ایک اور پوسٹ میں انہوں نے وزیر اعظم نیتن یاہوپر تنقید کی۔
انہوں نے کہا:’’جنگ اس طرح ختم نہیں ہو سکتی کہ وزیر اعظم ایک بار پھر یہ وعدہ کریں کہ انہوں نے ہمیشہ کیلئے تمام خطرات ختم کر د یئے ہیں جیسا کہ انہوں نے گزشتہ جون میں کہا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، یا یہ کہ’مکمل فتح‘ حاصل ہوگی جیسا کہ غزہ کے بارے میں کہا گیا تھا مگر ایسا بھی نہیں ہوا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ایسا نہیں ہو سکتا کہ اسرائیلی شہری آخر میں یہ جانیں کہ یہ صرف ایک اور مرحلہ تھا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: دشمن پر دبائو ڈالنے کیلئے آبنائے ہرمز بطور ہتھیار استعمال ہو: مجتبیٰ خامنہ ای
اخراجات میں کٹوتی
وزیر اعظم نیتن یاہو اور انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ Bezalel Smotrich کی جانب سے کئےگئے بجٹ کٹوتیوں کے فیصلے پر خاصی ناراضی پائی جاتی ہے۔ دفاعی بجٹ میں ۱۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ اضافے کیلئے ملکی اخراجات میں تقریباً تین فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ ان کٹوتیوں کا اعلان کرتے ہوئے سموترچ نے کہا:’’ہم چاہتے تھے کہ اس بجٹ میں اسرائیلی شہریوں کیلئے زیادہ خوشخبریاں ہوں، خاص طور پر مہنگائی کے خلاف جنگ میں، لیکن ہماری ذمہ داری ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ملک کی سلامتی کیلئےفوری طور پر بجٹ منظور کیا جائے۔ ‘‘سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے بھی ان کٹوتیوں کے بعض پہلوؤں پر تنقید کی۔ انہوں نے لکھا:’’گزشتہ رات جب ہم پناہ گاہوں میں تھے تو حکومت نے شمالی علاقوں کی بحالی، تحفظ، تعلیم، صحت کی سہولیات اور بزرگوں کی امداد کے بجٹ میں کمی کر دی۔ ‘‘ان کٹوتیوں سے اسرائیل کے شمالی علاقوں کی تعمیرِ نو کے منصوبے سے کروڑوں ڈالر کم ہو سکتے ہیں جو حزب اللہ کے ساتھ جنگ سے شدید متاثر ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: سابق اسرائیلی وزیراعظم کی ترکی کو دھمکی، ایران کے بعد ہم بیکار نہیں بیٹھیں گے
بینٹ نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ نیتن یاہو کے اتحادیوں کو رعایتوں کی صورت میں ۵ء۱؍ ارب ڈالر سے زیادہ دیئے جا رہے ہیں جن میں قدامت پسند مذہبی ادارے شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ ادارے فوج میں شمولیت سے گریز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ایسے اسکول چلاتے ہیں جہاں ریاضی اور انگریزی نہیں پڑھائی جاتی۔ نیتن یاہو کی حکومت میں ایک قدامت پسند مذہبی اتحاد شامل ہے جس کی حمایت اس شرط سے مشروط ہے کہ ان کے تعلیمی نظام کو مالی مدد دی جائے۔ بہت سے اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ اس سے یہ برادری باقی معاشرے سے الگ تھلگ ہو جاتی ہے۔ ان اداروں کے بعض لیڈر نوجوان مردوں کو فوجی بھرتی کے احکامات نظر انداز کرنے پر بھی مجبور کرتے ہیں، جو اسرائیل کی حالیہ سیاست کے سب سے متنازع مسائل میں سے ایک ہے۔
بائیں بازو کی جماعت ’’دی ڈیموکریٹس‘‘ کے سربراہ یائر گولان نے بھی مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کیلئے دی جانے والی فنڈنگ، فوجی بھرتی سے بچنے اور بدعنوانی پر تنقید کی۔ حکومت کو اسکولوں کی بندش کے معاملے میں بھی نااہلی کے الزامات کا سامنا ہے، جنہیں فوج کے ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایت پر بند کیا گیا تھا۔ وزیر تعلیم یوو کیش نے اعلان کیا کہ اگلے ہفتے تعلیمی اداروں کو جزوی طور پر کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، لیکن اس میں تل ابیب اور شمالی اسرائیل کے اسکول شامل نہیں ہوں گے۔ اس منصوبے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ ناقدین کے مطابق اس میں والدین پر پڑنے والے بوجھ کو نظر انداز کیا گیا ہے، جن سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کام جاری رکھیں جبکہ ان کے بچے گھروں پر ہوں گے۔
منگل کو لاپیڈ نے وزیر تعلیم کیش اور وزیر خزانہ سموترچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے باہمی رابطہ نہیں رکھا جبکہ وزارت خزانہ ’معیشت کو بہت جلد کھولنے‘ پر زور دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ جنگ کے رخ اور حکومتی حکمتِ عملی کے بارے میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ یائر گولان نے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کی ’کوئی مدت مقرر نہیں۔ ‘گولان نے کہا:’’جنگ کو مدت کی نہیں بلکہ واضح حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے، اور ایک ایسے وزیر دفاع کی جو مسخرہ نہ ہو۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’یہ حکومت ڈھائی سال سے صرف ایک کام میں ماہر رہی ہے: نئے محاذ کھولنا اور پھر ان میں پھنس جانا۔ اس دوران اسرائیلی شہری سائرن اور پناہ گاہ کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ ‘‘اسرائیلی فوج نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بدھ کی شام حزب اللہ اور ایرانی حملوں کی لہر سے قبل عوام کو مناسب انتباہ دینے میں غلطی ہوئی، حالانکہ اس حملے کی تفصیلات کئی گھنٹے پہلے بین الاقوامی اور سوشل میڈیا پر سامنے آ چکی تھیں۔