• Tue, 27 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج نیتن یاہو‘ کی قسمت کا فیصلہ

Updated: October 27, 2026, 4:34 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

آج اسرائیلی عوام کو طے کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ ایک بار پھر اُسی وزیر اعظم (نیتن یاہو) کو اقتدار سونپنا چاہیں گے جس کا ’’دُنیا بھر میں مشہور حفاظتی نظام‘‘ ۷؍ اکتوبر ۲۳ء کو اُس وقت بُری طرح منہدم ہو گیا تھا جب حماس نے اسرائیل پر حملے کئے تھے؟

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu. Photo: INN
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن۔ تصویر:آئی این این

آج اسرائیلی عوام کو طے کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ ایک بار پھر اُسی وزیر اعظم (نیتن یاہو) کو اقتدار سونپنا چاہیں گے جس کا ’’دُنیا بھر میں مشہور حفاظتی نظام‘‘ ۷؍ اکتوبر ۲۳ء کو اُس وقت بُری طرح منہدم ہو گیا تھا جب حماس نے اسرائیل پر حملے کئے تھے؟ کیا ایک بار پھر اُسی شخص کے اتحاد کو قیادت کیلئے منتخب کیا جائیگا جس نے حماس کے حملوں کا بدلہ غزہ کے بے گناہ شہریوں سے لیا اور جس کی قیادت میں اسرائیلی فوج نے۷۴؍ ہزار سے زائد شہریوں کو شہیداور کئی پونے دو لاکھ شہریوں کو زخمی کرنے کے علاوہ رہائشی عمارتوں، اسپتالوں، اسکولوں اور غزہ کے انفراسٹرکچر کو زمیں بوس کردیا؟ کیا ایک بار پھر اُسی وزیر اعظم کو اقتدار سونپا جائیگا جس نے غزہ کی جنگ جاری رکھتے ہوئے لبنان، شام اور ایران کو بھی جنگ کی آگ میں جھونکا؟بالخصوص ایران کی جنگ کی وجہ سے تل ابیب پوری دُنیا میں یکہ و تنہا رہ گیا، اس کے دوست ممالک بھی پیچھے ہٹنے لگے، ٹرمپ نے اُن سے دوستی نبھائی مگر اس طرح کہ امریکی ٹرمپ اور نیتن یاہو سے ناراض تھے؟ کیا ایک بار پھر اُسی وزیر اعظم کو کمان سونپی جائیگی جو ایران کے خلاف جنگ میں ہار گیا؟ کیا وہ اپنے ووٹ کے ذریعہ اُسی وزیر اعظم کو طاقت بخشیں گے جسے امریکی صدر ٹرمپ نے کئی بار ڈانٹا اور بُرا بھلا کہا؟ آج کا ووٹ ظاہر کریگا کہ اسرائیلی عوام کو فلسطینی بچوں کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں یا نہیں۔ آج کا الیکشن طے کریگا کہ اسرائیلی عوام کو انسانیت کے اتنے بڑے دشمن سے کوئی گلہ ہے یا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بھوک، قلت، قحط اور غزہ

یاد رہے کہ۱۲۰؍ رُکنی اسرائیلی پارلیمنٹ ’’کنیسیٹ‘‘ کیلئے ’’متناسب نمائندگی‘‘ کا طریقہ رائج ہے جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ الیکشن کے بعد سیاسی جماعتیں آپس میں طے کرلیں کہ کون کس بڑی پارٹی کا ساتھ دینا چاہتا ہے۔ نیتن یاہو کی پارٹی لیکوڈ کی قیادت میں نیتن یاہو اپنے اتحاد کو ۶۱؍ سیٹ کے پار پہنچانا چاہیں گے۔منظر عام پر آنے والی سروے رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کے اتحاد کو ۴۸؍ تا ۵۰؍ سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ اپوزیشن کو ۵۲؍سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہتی ہے تو دونوں اتحاد کو غیر اتحادی پارٹیوں سے ساز باز کرنی پڑے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ اگر برسراقتدار اتحاد اور اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کو برابر برابر سیٹیں ملیں تو اقتدار کی سب سے بڑی کنجی اسرائیل میں موجود فلسطینی باشندوں کی پارٹیوں کے ہاتھ میں رہے گی۔ دو پارٹیاں اسرائیل میں فلسطینیوں کی ۲۰؍ فیصد آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ایک ہے جوائنٹ لسٹ اور دوسری رااَم (یونائٹیڈ عرب لسٹ)۔ انہیں مجموعی ۱۳؍ سیٹیں ملنے کی اُمید ظاہر کی جارہی ہے مگر، جیساکہ ہم نے کل اس کالم میں لکھا تھا، نیتن یاہو اقتدار سے ہٹا دیئے گئے تب بھی تل ابیب کی فلسطین پالیسی بدل جائیگی اس کی اُمید کرنا خود کو دھوکہ دینا ہے۔ نیتن یاہو کا اتحاد جوڑ توڑ نہ کرسکا اور اپوزیشن اتحاد نے بازی مار لی تب بھی ملبے میں تبدیل غزہ گل و گلزار نہیں بن جائیگا اس کے باوجود فلسطینی چاہتے ہیں کہ کوئی ’’کم شدت پسند‘‘ لیڈر وزیر اعظم بنے تاکہ اُن کے مصائب کچھ تو کم ہوں۔ یہ چھوٹی سی اُمید بھی اُن کیلئے بہت بڑی اُمید ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK