• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھوک، قلت، قحط اور غزہ

Updated: October 26, 2026, 4:54 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

آئندہ روز اسرائیل میں الیکشن ہے۔ وہی الیکشن جس سے نیتن یاہو کافی ڈرے ہوئے تھے اور جس کی وجہ سے انہوں نے جنگ پر جنگ کا سہارا لیا۔ دو سال غزہ پر قیامت ٹوٹتی رہی اور پھر درمیان میں ایران کے خلاف اسرائیل ہی نے امریکہ کو بھڑکایا اور جنگ اتنی شدید ہوئی کہ خلیج کا خطہ ہی نہیں، دنیا کے دیگر خطے اور ملک بھی متفکر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

آئندہ روز اسرائیل میں الیکشن ہے۔ وہی الیکشن جس سے نیتن یاہو کافی ڈرے ہوئے تھے اور جس کی وجہ سے انہوں نے جنگ پر جنگ کا سہارا لیا۔ دو سال غزہ پر قیامت ٹوٹتی رہی اور پھر درمیان میں ایران کے خلاف اسرائیل ہی نے امریکہ کو بھڑکایا اور جنگ اتنی شدید ہوئی کہ خلیج کا خطہ ہی نہیں، دنیا کے دیگر خطے اور ملک بھی متفکر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ اس دوران اسرائیل میں نیتن یاہو کی مخالفت کافی بڑھی اور ایسا لگتا ہے کہ اس مخالفت کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور انتخابی نتائج نیتن یاہو کی سیاسی طاقت کو نصف سے بھی کم کر دیں گے۔ گزشتہ دنوں جو اندازے منظر عام پر آئے ان میں کہا گیا کہ نیتن یاہو کے اتحاد کو ۴۸؍ سیٹیں مل سکتی ہیں۔ یہ اکثریت سے کافی کم ہے۔ اکثریت کیلئے ۶۱؍ نشستیں درکار ہیں مگر یہ محض اندازہ ہے۔ نیتن یاہو کے اتحاد کو کافی کم سیٹیں بھی مل سکتی ہیں۔ اگر وہ اتنی کم سیٹیں حاصل کرسکے کہ ایک بار پھر وزیراعظم بننا ان کیلئے ممکن ہی نہ رہا تب بھی اس بات کا امکان کم ہے کہ کوئی ایسا حکمراں اسرائیل کو میسر آئے گا جو غزہ کے حق میں انصاف کی بات کرے۔ یہ بات گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ کے حالات اور واقعات کی بنیاد پر کہی جا رہی ہے۔ ہمیں اس کی امید نہیں ہے کہ کوئی ایسی حکومت کو اقتدار حاصل ہوگا جو غزہ کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھائے، لٹے پٹے خاندانوں کو واپس لائےگی اور انہیں وہیں بسائےگی جہاں پر وہ اپنے آباء و اجداد کے دور سے رہتے آئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: تکارام منڈے، گیانیش اور سول سروسیز

موجودہ حالت یہ ہے کہ غزہ میں غذائی اجناس کی اس حد تک کمی ہے کہ جسے ایک وقت کی غذا مل جائے وہ خوش قسمت لیکن اس کی خوش قسمتی کا دائرہ بھی اتنا محدود کہ اسے دوسرے وقت کی غذا ملنے کی امید نہیں ہے۔ پلاسٹائن کرونیکل کی ایک طویل رپورٹ کے مطابق جب آپ غزہ کے درماندہ لوگوں کے خیموں سے گزرتے ہیں تو یہ سوال فوراً ہی آپ کی سماعت سے ٹکراتا ہے کہ آج ہم کیا کھائیں گے۔ بظاہر یہ کوئی مشکل سوال نہیں ہے لیکن غزہ میں اس سوال میں گہرا درد اور لامحدود فکر چھپی ہوئی ہے۔ والدین کو یہ فکر رہتی ہے کہ بچے صبح اٹھیں گے تو کیا کھائیں گے۔ اکثر یہی ہوتا ہے کہ کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد جب والد، بڑا بھائی یا کوئی اور گھر لوٹتے ہیں تو ان کے ہاتھ خالی ہی ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ قوتِ خرید نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہاتھ خالی ہیں بلکہ بازاروں میں غذائی اجناس یا تو ہیں ہی نہیں یا اتنی کم مقدار میں ہے کہ قحط کا گمان ہونے لگا ہے۔ یہ بحران ان بدحال لوگوں کیلئے کتنی دشواریاں پیدا کرے گا اس کو بیان کرنے کیلئے الفاظ ناکافی ہیں۔ آٹے کی قلت کی وجہ سے غزہ کی ۱۷؍ میں سے ۱۰؍ بیکریاں بند کر دی گئی ہیں۔ غزہ کی وزارت سماجی ترقیات کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں غذائی رسد کے راستے بند کردیئے جانے کی وجہ سے عنقریب ایسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں جو ناقابل بیان ہونگے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام سرمائے کی قلت کا شکار ہے جو غزہ کے محصورین کی اتنی بھی مدد نہیں کر پارہا ہے جتنی اب سے پہلے کر رہا تھا۔ یہ حالات نیتن یاہو کے پلان کے مطابق انہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اس لئے جاری رہیں گے۔ سوچئے کہ جو لوگ ایک ایک وقت کی غذا سے محروم ہیں وہ خود تو پیٹ پر پتھر رکھ لیتے ہونگے مگر بچوں کی ڈھارس کس طرح بندھاتے ہونگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK