اس عید پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، جو اب بھی وزیر اعلیٰ ہیں اور نہ تو راجیہ سبھا گئے ہیں نہ ہی جانشینی کا اعلان کیا ہے، عید کی نماز کے وقت پٹنہ کے گاندھی میدان نہیں گئے۔ ایسا ۲۰؍ سال میں پہلی بار ہوا۔ تو کیا ۲۰؍ سال تک نماز کے وقت حاضری دینے والا فعال وزیر اعلیٰ تھا، نتیش کمار نہیں تھے؟
نتیش کمار۔ تصویر:آئی این این
اس عید پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، جو اب بھی وزیر اعلیٰ ہیں اور نہ تو راجیہ سبھا گئے ہیں نہ ہی جانشینی کا اعلان کیا ہے، عید کی نماز کے وقت پٹنہ کے گاندھی میدان نہیں گئے۔ ایسا ۲۰؍ سال میں پہلی بار ہوا۔ تو کیا ۲۰؍ سال تک نماز کے وقت حاضری دینے والا فعال وزیر اعلیٰ تھا، نتیش کمار نہیں تھے؟ اگر وہ فعال وزیر اعلیٰ تھے اور اب غیر فعال ہونے کی وجہ سے حاضر نہیں ہوئے تو کوئی بات نہیں، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایک وزیر اعلیٰ کو،جو ایک سیاسی جماعت کا صدر اور لیڈر ہے اب مسلم ووٹوں کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن، اگر وہ نتیش کمار تھے تو انہیں اس سال بھی جانا چاہئے تھا۔
معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے فرزند نشانت کمار کو بھیج کر اطمینان کرلیا۔ کیا اس میں مسلمانوں کیلئے پیغام تھا کہ اب تک نتیش آپ کے لیڈر تھے اب نشانت کو اپنا لیڈر سمجھئے؟ بہار کا ہر مسلمان جے ڈی یو کا ووٹر نہیں ہے۔ کافی تعداد آر جے ڈی کے اور کانگریس کے ووٹروں کی بھی ہے۔ ایک طبقہ ایم آئی ایم کو ووٹ دینے والا بھی پیدا ہوگیا ہے۔ بہرکیف اب جے ڈی یو کو ووٹ دینے والے مسلمانوں کو طے کرنا ہے کہ نتیش کی جگہ نشانت کو قبول کریں یا جے ڈی یو کے علاوہ کسی ا ور پارٹی سے وفاداری کا رشتہ جوڑیں کیونکہ نتیش نے سگنل دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ہندوستان کی خارجہ پالیسی دنیا بھر میں مذاق بن کررہ گئی ہے‘‘
نمازِ عید سے قبل وہ جے ڈی یو کی افطار پارٹی میں شریک تو رہے مگر خود کو الگ تھلگ رکھا اور سابقہ روایت کو توڑتے ہوئے ٹوپی نہیں پہنی۔ نمازِ عید کے وقت حاضر نہ ہونا، افطار میں حاضر رہ کر بھی حاضر نہ رہنا اور ٹوپی نہ پہننا نظر انداز کر دینے جیسے واقعات ہیں مگر ان کی سیاسی معنویت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہم نہیں جانتے کہ اب ان کی ذہنی صحت کیسی ہے مگر وہ وزیر اعلیٰ جس نے جہان آباد اور ارول ضلع میں دو روز قبل ہی ۴۰۵؍ کروڑ کے منصوبوں کا اعلان اور جہان آباد میں ’’جن سمواد‘‘ رَیلی سے خطاب کیا ہو، اسے عدم صحت نہیں کہا جاسکتا۔ وہ اس لئے بھی عدم صحت نہیں ہیں کہ انہوں نے آر جے ڈی کے خلاف، کافی کچھ کہا جو کبھی حلیف رہی اور کبھی حریف قرار پائی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ این ڈی اے حکومت نے ریاست میں انفراسٹرکچر کو کافی مضبوطی دی، پختہ سڑکیں بنائیں اور عوام کو وہ سب کچھ دیا جو انہیں بیس سال پہلے نہیں ملا تھا۔ انہوں نے صرف انفراسٹرکچر کا نہیں بلکہ بجلی، پانی، تعلیم اور صحت عامہ جیسے شعبوں میں اپنی حکومت کی کارکردگی کو بھی اُجاگر کیا۔ فارسی فقرہ یاد آتا ہے: دیوانہ بکار خویش ہشیار، یعنی دنیا جسے دیوانہ سمجھے وہ اپنا مفاد خوب جانتا ہے اور اس کے حصول میں پیچھے نہیں رہتا۔ نتیش اسی قبیل کے ہیں۔ ان کیلئے ’’کار خویش‘‘ اقتدار ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کبریٰ سیت جلد ہی دو بڑے پروجیکٹ میں نظر آئیں گی
اب تک کی سیاسی زندگی میں انہوں نے جو کچھ کیا اقتدار ہی کیلئے کیا۔ بی جے پی کو برا بھلا کہنا پھر اس سے ہاتھ ملا لینا اور آر جے ڈی کی مخالفت کرنا مگر لالو کو دوست کہہ کر دوبارہ دوستی گانٹھ لینا، نتیش کی سیاسی زندگی کی اہم سرخیاں ہیں۔ انہوں نے تعلیم بھلے ہی انجینئرنگ کی حاصل کی مگر اپنی صلاحیتیں موقع پرستی کی سیاست میں پی ایچ ڈی کی ڈگری پانے کیلئے صرف کیں۔ اب تک موقع پرستی کی سیاست کرنے والوں میں کسی نے سرٹیفکیٹ، کسی نے ڈپلوما اور کسی نے ڈگری حاصل کی، نتیش واحد لیڈر ہیں جنہوں نے ڈاکٹریٹ کیا ہے۔ اس لحاظ سے انہیں ڈاکٹر نتیش کہنا چاہئے۔اقتدار اب بھی اُن کا و احد مقصد ہے اسلئے وزارت اعلیٰ سے ہٹنے کے بعد بقیہ زندگی آرام نہیں کرنا چاہتے، اب راجیہ سبھا جائینگے۔