Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہندوستان کی خارجہ پالیسی دنیا بھر میں مذاق بن کررہ گئی ہے‘‘

Updated: March 25, 2026, 9:53 AM IST | Agency | New Delhi

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نئی دہلی کے موقف پر راہل گاندھی کی تنقید، مودی پر امریکی دباؤ میں ہونے کا الزام عائد کیا۔

Rahul Gandhi.Photo:INN
راہل گاندھی۔ تصویر:آئی این این
ایران جنگ  کے حوالے سے ہندوستان کے موقف پر تنقید کرتےہوئے   کانگریس  لیڈر  راہل گاندھی نے منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی کوآڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی ’’ان کی ذاتی خارجہ پالیسی‘‘  اور ’’عالمی سطح پر مذاق ‘‘ بن کررہ گئی ہے۔ راہل گاندھی کی یہ برہمی  عالمی منظر نامہ میں ہندوستان کے مقابلے میں  پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد پر جھنجھلاہٹ کا نتیجہ تھی۔ امریکہ-اسرائیل اور ایران کی جنگ میں  پاکستان  کے مصالحت کار بن کر ابھرنے کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ’’ہماری خارجہ پالیسی وزیر اعظم مودی کی ذاتی خارجہ پالیسی  بن گئی ہے۔ آپ اس کا نتیجہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک عالمی مذاق بن کر رہ گئی  ہے۔ ہر کوئی اسے  مذاق ہی سمجھتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ اچھی طرح  جاتنےہیں کہ مودی کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں ۔  ‘‘
مشرق وسطیٰ کے تنازع پر لوک سبھا میں وزیر اعظم کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں مودی  نے ایران جنگ کو کووڈ جیسی صورتحال قرار دیتے ہوئے اہل وطن کو تیار رہنے کی وارننگ دی  ہے، راہل گاندھی نے کہا کہ وہ بھول گئے کہ وبا کے دوران کتنے لوگ مرے اور کیسے بڑےبڑے سانحات پیش آئے۔ یہ الزام لگاتے ہوئے کہ حکومت کو ایسے مسائل کی کوئی سمجھ نہیں ہے، راہل گاندھی نے لوک سبھا میں  مودی کے بیان کو ’’بے معنی‘‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے   لوک سبھا میں  بے معنی تقریر کی۔ وہ  ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں، ان کی تقریر سے ظاہر ہونا چاہیے   کہ وہ واقعی وزیر اعظم ہیں، لیکن ان کی تقریر میں  واضح مؤقف  ہی  نظر نہیں آیا۔ افسوس کہ اس کا خمیازہ عوام کو  بھگتنا پڑے گا۔‘‘
 
 
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ’’ یہ ابھی شروعات ہے۔ ہمیں ایل پی جی، پیٹرول، کھاد ہر چیز کے مسئلے سے جوجھنا ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ صورتحال کووڈ جیسی ہوگی لیکن وہ بھول گئے کہ کووڈ کے دوران کتنے لوگ ہلاک ہوئے  اور کتنے سانحات پیش آئے۔‘‘
 
 
کیرالہ میں اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام کی وجہ سے بدھ کو کل جماعتی میٹنگ میں شریک نہ ہو پانے کی اطلاع دیتے ہوئے  راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت  ہندوستان کے مفادات کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کے اشاروں پر عمل کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ’’کل جماعتی میٹنگ بلائی گئی ہے اور اس  میں بحث ہونی چاہیے، لیکن آپ پہلے ہی  بنیادی غلطی کرچکے ہیں۔ آپ نے پورے فریم ورک کو ہی تباہ کر دیا ہے، اب اسے درست نہیں کیا جا سکتا۔ میں یہ بات لکھ کر دے سکتا ہوں کہ اسے درست کرنا  وزیر اعظم مودی کے بس کی بات نہیں ہے۔‘‘ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی وہی کریں گے جو امریکہ اور اسرائیل کہیں گے۔ وہ ہندوستان  یا کسانوں کے مفاد میں کام نہیں کریں گے بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی مرضی کے مطابق ہی عمل کریں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK