ایران تن تنہا لڑ رہا ہے اور یہ ثابت کررہا ہے کہ جنگیں اسلحوں سے نہیں حوصلوں سے جیتی جاتی ہیں۔وہ ایک جانب خلیج کے آٹھ ممالک سعودی عرب، یواے ای، قطر، کویت، بحرین، عمان، عراق اور اردن میں واقع امریکہ کے فوجی اڈوں پر اور دوسری طرف اسرائیل پر لگاتار میزائل اور ڈرونز برسارہا ہے۔ایران کے حملوں نے خلیج میں واقع امریکہ کے جدید ترین راڈار اور ائیر ڈیفنس سسٹم کو چورچور کرکے رکھ دیا۔ ایران نے امریکی فضائیہ کے F-35 اور F-15 جیسے لڑاکا طیاروں کو کھلونوں کی طرح تباہ کر دیا۔
ایران جنگ۔ تصویر:پی ٹی آئی
ابھی تک امریکی جنگی طیارے ایران پر بمباری کررہے تھے۔ پیر کے دن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بم گرادیا۔ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر ہر قسم کے فوجی حملے روک دینے کاحکم جاری کردیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کیلئے امریکہ کی ایران سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔ایران کے پاور پلانٹس کو اڑتالیس گھنٹوں کے اندر تباہ کرنے کا الٹی میٹم دینے کے بعد ٹرمپ کا یہ اعلان بلاشبہ کسی بم دھماکے سے کم نہیں تھا۔ ٹرمپ نے جنگ کے پہلے ہفتے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے’’ غیر مشروط سرینڈر‘‘کے بغیرنہ تو جنگ رکے گی اور نہ ہی ایران سے کسی قسم کی ڈیل ہوگی۔ اب انہوں نے خود ہی جنگ روکنے کا اعلان بھی کیا اورایران کے ساتھ ممکنہ ڈیل کیلئے مذاکرات کا دعویٰ بھی۔ کیااسے ٹرمپ کا’’غیر مشروط سرینڈر‘‘ کہنا غلط ہوگا؟دنیا جانتی ہے کہ ٹرمپ پینترے بدلنے میں ماہر ہیں۔ اس لئے ایران کی فضائیہ، بحریہ اور معیشت کو ملیامیٹ کردینے کے متواتر دعوے کرنے والے ٹرمپ کی ایسی قلابازی اور ایسا یوٹرن غیر متوقع نہیں تھا۔ ہاں ٹرمپ اتنی جلدی گھٹنے ٹیک دیں گے یہ بات حیران کن ضرور ہے۔ تہران نے ٹرمپ کے دعوے کو’’فیک نیوز‘‘ قرار دیتے ہوئے جنگ بندی اور مذاکرات دونوں سے انکار کردیا ہے۔ پچھلے ہفتے ٹرمپ کے اس بیان سے کہ امریکہ’’مشرق وسطیٰ میں ملٹری سرگرمیاں ختم کرنے پر غور‘‘کررہاہے یہ واضح ہوگیا تھا کہ وہ جنگ کی دلدل میں پھنس گئے ہیں اور جتنی جلدی ممکن ہو اس سے نکلنے کیلئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔ واشنگٹن میں یہ قیاس آرائیاں تیز ہوگئیں کہ امریکی صدر ایران جنگ سے راہ فرار ڈھونڈرہے ہیں۔ نیو یارک ٹائمزجیسے روزناموں کے کالم نویس یہ لکھنے لگے کہ ایران کی جنگ ٹرمپ کے گلے کی ہڈی بنتی جارہی ہے اور وہ اس سے فوری نجات چاہتے ہیں۔ٹرمپ کے متضاد بیانات سے عوام کے اس شک کو تقویت ملی کہ متلون مزاج صدر نے ایک قطعی غیر ضروری اور مہنگی جنگ میں قوم کو پھنسادیا ہے۔ لوگوں کو ناراضگی اس بات کی بھی ہے کہ اسرائیل کے جھانسے میں آکر ٹرمپ نے امریکہ کو ایک پرائی جنگ میں جھونک دیا۔امریکہ کے قومی انسداد دہشت گردی کے سربراہ Joe Kent نے جب ٹرمپ کی’’غیر قانونی جنگ‘‘کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیاتو ٹرمپ کے خلاف بدظنی میں اضافہ ہوگیا۔کینٹ نے یہ دعویٰ کرکے ٹرمپ کو بے نقاب کردیا کہ’’ایران ہمارے ملک کیلئے کوئی خطرہ نہیں تھا۔‘‘ امریکی انٹلی جنس کی سربراہ تلسی گبارڈ نے بھی اعتراف کیا کہ امریکہ کو ایران سے کسی قسم کا فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔کینٹ نے اپنے استعفیٰ نامہ میں لکھ دیا کہ ’’ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ میں شروع کی ہے۔‘‘ اسرائیل نے ایران کے خطرے کے جھوٹے بیانیہ سے ٹرمپ کا برین واش کرکے ایران پر حملہ کروایا۔ ٹرمپ کو اپنے جال میں پھنسانے کے باوجود نیتن یاہو کا ایران کو دودن میں شکست فاش دینے کا خواب جب ادھورا رہ گیا تو وہ یورپ اور دیگر اقوام کو مدد کیلئے پکارنے لگے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ جیسے سپر پاور اور اسرائیل جیسی مشرق وسطیٰ کی واحد ایٹمی طاقت کے مشترکہ محاذ کے سامنے کئی دہائیوں سے بین الاقوامی پابندیاں جھیل رہے ایران کا کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ٹرمپ اور نیتن یاہو کا منصوبہ جنگ کے ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور چالیس اہم ترین سیاسی اور فوجی سربراہوں کا قتل کرکے ایران کو بے دست و پا کردینے کا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ ان کے اس’’ ماسٹر اسٹروک‘‘ سے ایران کا سیاسی اور عسکری نظام ٹوٹ کر بکھر جائے گا اورایرانی فوج ہتھیار ڈال دے گی۔انہیں یہ مغالطہ بھی تھا کہ ایرانی عوام بھی حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیں گے۔ اس طرح امریکہ اور اسرائیل کا رجیم چینج کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔طاقت کے نشے میں ٹرمپ یہ بھول گئے کہ کوئی بھی جنگ پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق نہیں چلتی ہے۔ یہ جنگ بھی امریکہ اور اسرائیل کے تحریرکردہ اسکرپٹ سے انحراف کرکے اپنی ڈگر پر جانکلی۔
پچھلے تین ہفتوں سے ایران کے گوشے گوشے پر امریکہ اور اسرائیل کے طیارے آسمان سے آگ برسارہے ہیں لیکن ایران کے عزم و استقلال میں ذراسی بھی کمی نہیں ہوئی ہے۔ ایران تن تنہا لڑ رہا ہے اور یہ ثابت کررہا ہے کہ جنگیں اسلحوں سے نہیں حوصلوں سے جیتی جاتی ہیں۔وہ ایک جانب خلیج کے آٹھ ممالک سعودی عرب، یواے ای، قطر، کویت، بحرین، عمان، عراق اور اردن میں واقع امریکہ کے فوجی اڈوں پر اور دوسری طرف اسرائیل پر لگاتار میزائل اور ڈرونز برسارہا ہے۔ایران کے حملوں نے خلیج میں واقع امریکہ کے جدید ترین راڈار اور ائیر ڈیفنس سسٹم کو چورچور کرکے رکھ دیا۔ ایران نے امریکی فضائیہ کےF-35 اور F-15 جیسے لڑاکا طیاروں کو کھلونوں کی طرح تباہ کر دیا۔ ایران نے ابراہم لنکن اور جیرالڈ فورڈ جیسے مایہ ناز امریکی بحری بیڑوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ ایران نے تل ابیب، حیفہ اور یروشلم جیسے شہروں پر لگاتار حملے کرکے اسرائیل کی نیندیں حرام کردیں۔ اسرائیل کا ناقابل تسخیر آئرن ڈوم ایرانی میزائلوں کے حملوں کے سامنے بے بس نظر آنے لگا۔ اسرائیل اور امریکہ نے جب ایران کے نطنز میں ایٹمی تنصیبات کے قریب بمباری کی تو ایران نے جوابی حملوں میں اسرائیل کے ڈیمونا پر میزائل داغ کر یہ پیغام دے دیا کہ صہیونی ایٹمی تنصیبات بھی اس کے میزائلوں کی زد پر ہیں۔ٹرمپ جنہوں نے ایران کی لیڈرشپ کا خاتمہ کرکے وہاں اپنی پسند کا حکمراں بٹھانے کا پلان بنارکھا تھایہ اعلان کردیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو امریکہ کسی قیمت پر نیا سپریم لیڈر قبول نہیں کرے گا لیکن ایران نے انہیں ہی مسند پر فائز کرکے ٹرمپ کو یہ کرارا جواب دیا کہ تہران میں واشنگٹن کا آرڈر نہیں چلے گا۔جنگ پر امریکہ کے اربوں ڈالر خرچ ہورہے ہیں۔پنٹاگان کو ۲۰۰؍ بلین ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔
امریکہ پہلے سے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہا ہے۔ جنگ کے اخراجات اور تیل کی بے تحاشہ بڑھتی قیمتوں سے امریکی عوام کے مصائب میں اضافہ ہورہا ہے۔اگر جنگ نہیں تھمی توصرف مشرق وسطیٰ کی معیشت ہی نہیں عالمی معیشت کا بیڑہ غرق ہوجائے گا۔ایک تازہ سروے کے مطابق تقریباً ۶۰؍فی صد امریکی ایران جنگ کیخلاف ہیں۔ امریکہ کا ہر صدر یہ جانتا ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن جنگ ختم کرنا بے حد مشکل۔اس کے باوجود ہر امریکی صدر ایک غیر ضروری اور تباہ کن جنگ کا تمغہ اپنے گلے میں لٹکا کر وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونا چاہتا ہے۔ٹرمپ جو پچھلے چھ ماہ سے دنیا بھر کی جنگیں رکوانے کا کریڈٹ لے رہے تھے خود امریکہ کی جنگ بند نہیں کرپارہے ہیں۔ ان کی بے بسی پر مزا آرہا ہے۔