الیکشن ایک دن کیلئے ہوتا ہے۔ اگر نتیجہ اچھا آیا تب بھی اور اگر حسب ِ خواہش نہ آیا ہو تب بھی اس نتیجے کے ساتھ عوام کو پانچ سال گزارنے ہوتے ہیں (اگر وسط مدتی انتخابات نہ ہوئے تو)۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ایک دن (الیکشن کا دن) تو رائے دہندگان میں خاصا جوش و خروش ہوتا ہے مگر اُس دن کے گزر جانے کے بعد اُن کا جوش ماند پڑ جاتا ہے اور پھر وہ آئندہ الیکشن تک بے عملی کے شب و روز گزارتے ہیں ۔
الیکشن ایک دن کیلئے ہوتا ہے۔ اگر نتیجہ اچھا آیا تب بھی اور اگر حسب ِ خواہش نہ آیا ہو تب بھی اس نتیجے کے ساتھ عوام کو پانچ سال گزارنے ہوتے ہیں (اگر وسط مدتی انتخابات نہ ہوئے تو)۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ایک دن (الیکشن کا دن) تو رائے دہندگان میں خاصا جوش و خروش ہوتا ہے مگر اُس دن کے گزر جانے کے بعد اُن کا جوش ماند پڑ جاتا ہے اور پھر وہ آئندہ الیکشن تک بے عملی کے شب و روز گزارتے ہیں ۔ اسی پس منظر میں ہم کہنا چاہتے ہیں کہ یہ بات عوام کے ذہنوں میں ہمہ وقت رہنی چاہئے کہ آپ کا ووٹ ایک دن کیلئے نہیں ہوتا بھلے ہی وہ ایک دن دیا جاتا ہو۔ وہ پانچ سال کیلئے ہوتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر جیتے ہوئے اُمیدوار کی میعاد پانچ سال ہوتی ہے۔ اگر ووٹ ذمہ داری ہے تو اس ووٹ کا تعاقب بھی ذمہ داری ہے بھلے ہی آپ نے جس کو ووٹ دیا وہ ہار گیا ہو اور جس کو ووٹ نہیں دیا وہ جیت گیا ہو۔ جس کو ووٹ نہیں دیا وہ بھی آپ کا نمائندہ ہے اس لئے اُس تک اپنی شکایات پہنچانا، آپ کی ذمہ داری ہے۔ وہ اُن شکایات کا ازالہ کرے یا نہ کرے، شکایات پہنچنی چاہئیں تاکہ آپ کے حلقے سے منتخب ہونے والا نمائندہ کل یہ نہ کہے تو مجھے تو کچھ معلوم ہی نہیں ، مجھ تک تو کوئی شکایت نہیں آئی۔ صرف شکایات نہیں بلکہ اپنے حلقے کی بہتری کیلئے جو بھی بہتر تجاویز آپ کے خیال میں ہوں ، وہ اُسے ارسال کرنی چاہئیں ۔
گزشتہ روز ممبئی اور دیگر میونسپل کارپوریشنوں کیلئے ووٹنگ ہوئی۔ آج ان تمام انتخابات کے نتائج منظر عام پر آئینگے۔ نتائج حسب توقع بھی ہوسکتے ہیں اور خلافِ توقع بھی۔ جو بھی ہو، عوام کو یہ ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ جیتنے والا اُمیدوار آپ کا پسندیدہ نہ ہو تب بھی وہ آپ کا نمائندہ ہے کیونکہ اس کا انتخاب نمائندگی کیلئے ہوا ہے۔ اس کی کارکردگی میں آپ کا بھی کردار ہوسکتا ہے اگر آپ اُس کی توجہ اُن اُمور پر مرکوز کریں جن کا تعلق مفاد عامہ سے ہے اور حلقے کی بہتری سے ہے۔
کوشش یہ ہونی چاہئے کہ شکایات یا تجاویز یا مطالبات تحریری شکل میں اپنے نمائندے تک پہنچائے جائیں ۔ اگر ایک بار عرضی کرنے سے معاملہ نہ بنا ہو تو اُسی عرضی کو ’’ریمائنڈر‘‘ لکھ کر دوبارہ بھجوائیں ۔ یہی طریق کار سرکاری ملازمین کے ساتھ بھی روا رکھنا چاہئے۔ اکثر محلوں میں صفائی ستھرائی یا پانی کی فراہمی کے تعلق سے شکایتیں ہوتی ہیں ۔ کئی جگہوں پر نہایت سنگین مسائل ہوتے ہیں جن کا فوری حل ضروری ہوتا ہے ورنہ عوامی صحت کے مسائل پیدا ہوجائینگے، مگر لوگ باگ محلے میں کھڑے ہوکر شکایت کرتے ہیں ، متعلقہ حکام تک کبھی تحریری شکل میں کوئی شکایت نہیں پہنچاتے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ تحریر ہی سند ہوتی ہے، زبانی بات چیت کو سند کا درجہ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر آپ افسر ِ بالا کے پاس جائیں تو اس کا پہلا سوال ہوگا کہ آپ نے شکایت کی تھی؟ کیا اُس وقت آپ کہہ سکتے ہیں کہ زبانی شکایت کی تھی؟ کہہ دیں تو وہ آپ کی بات سننا ہی نہیں چاہے گا بلکہ کہے گا کہ پہلے شکایت درج کرائیے۔ شکایت درج کرانے سے مراد ہوگی تحریری شکل میں درج کرائیے۔
یہ محض ایک مثال ہے ہمارے طرز عمل کی۔ ایک دن ووٹ دے کر بقیہ تمام دنوں کیلئے بے عملی یا زبانی جمع خرچ کی زندگی گزارنا درست نہیں ۔ اس سے کچھ نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔اپنے نمائندہ کو پورے حلقے کی نمائندگی کا احساس دلایا جانا چاہئے۔ یہ الیکشن کو پورے پانچ سال جینے کا عمل ہوگا جو منفعت بخش بھی ہوسکتا ہے۔