کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کے انتخابات کے لئے جمعرات کو رائے دہی کا عمل مجموعی طور پر پُرامن ماحول میں مکمل ہوا۔
کلیان کے ایک پولنگ بوتھ پر طویل قطار۔ تصویر:انقلاب
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کے انتخابات کے لئے جمعرات کو رائے دہی کا عمل مجموعی طور پر پُرامن ماحول میں مکمل ہوا۔ تاہم ووٹنگ سے محض دو روز قبل ایک وارڈ میں تشدد کا واقعہ پیش آنے کے باعث متعلقہ علاقے میں پولیس کی اضافی اور سخت سیکوریٹی تعینات کی گئی تھی۔ووٹنگ کے دوران چند مقامات پر ووٹروں کی انگلیوں پر لگائی گئی سیاہی مٹانے کے واقعات سامنے آئے جبکہ بعض علاقوں میں معمولی ہنگامہ آرائی اور بدنظمی بھی دیکھنے میں آئی۔ اسی دوران دو پولنگ بوتھ پر ای وی ایم عارضی طور پر بند ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ تاہم انتظامیہ اور انتخابی عملہ کی بروقت کارروائی اور چوکسی کے باعث رائے دہی کا عمل کسی بڑے خلل کے بغیر بحسن و خوبی مکمل کر لیا گیا۔
پینل نمبر ۹ ؍سے مہاراشٹر نونرمان سینا (منسے) کی امیدوار ارمیلا تانبے نے یہ سنسنی خیز الزام عائد کیا کہ ووٹ ڈالنے کے بعد ووٹرز کی انگلیوں پر لگائی جانے والی مستقل سیاہی فوری طور پر مٹ رہی ہے۔ انہوں نے الیکشن آفیسر سے باقاعدہ شکایت درج کراتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر سیاہی ہی برقرار نہیں رہے گی تو بوگس ووٹنگ کو کیسے روکا جا سکے گا؟ ارمیلا تانبے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دوپہر کے وقت کئی ووٹرز کو بغیر سیاہی لگائے ہی پولنگ سینٹر سے واپس بھیج دیا گیا۔ اس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح دھاندلی کے ذریعے الیکشن جیتنے ہیں تو پھر جمہوریت کا یہ ڈھونگ رچانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟‘ادھر رائے دہی کے دوران متعدد شہری اس وقت شدید ذہنی صدمے سے دوچار ہوئے جب پولنگ سینٹر پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ ان کا ووٹ پہلے ہی کسی اور کے ذریعے ڈالا جا چکا ہے۔کلیان (مشرق) کے گایتری اسکول میں واقع ایک پولنگ بوتھ میں رمیش پوار کے ساتھ یہی صورتحال پیش آئی۔