• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جلگاؤں : ایک پولنگ سینٹر پر دو مرتبہ بوگس ووٹنگ کو ناکام بنا یا گیا

Updated: January 16, 2026, 3:44 PM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon

ووٹنگ کا ہائی وولٹیج ڈراما، وشنو بھنگلے ا ور پیوش پاٹل کے درمیان سخت مقابلے میں۴۵؍ مشتبہ ووٹرز کو پولنگ سینٹر سے باہر نکالاگیا، کہیں پر ووٹنگ مشین پر ہی امیدواروں کے ناموں کی ترتیب میں غلطی ،کہیں پر مشن بند پڑی۔

Suspected bogus voters were removed from the polling booth by markers. Picture: INN
مشتبہ بوگس ووٹروںکومارکرپولنگ بوتھ سے باہر کیاگیا۔ تصویر: آئی این این
شہر کےمیونسپل کارپوریشن الیکشن کیلئے جمعرات کو ہوئی پولنگ کے دوران کہیں پر پُر امن تو کہیں پر بد نظمی کے بیچ ،ووٹنگ کا ہائی وولٹیج ڈرامہ دیکھنے کو ملا ۔جلگاؤں میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر۵  ؍اے میں انتخابی عمل کے دوران بوگس ووٹنگ کی کوشش ایک نہیں دو مرتبہ کی گئی  اور دونوں مرتبہ  اسے ناکام بنایا گیا ۔تقریباً۴۰؍ سے ۴۵؍مشتبہ ووٹروں کی ایک فورس آر آر ودیالیہ پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوئی، جس سے علاقے میں زبردست کشیدگی پیدا ہوگئی۔ وقار بچانے کی جنگ میں شیوسینا (شندے گروپ) کے ضلع سربراہ وشنو بھنگلے اور آزاد امیدوار ایڈوکیٹ پیوش پاٹل نے ڈرامائی انداز میں ہنگامہ آرائی کی ۔اس واقعہ سے انتظامیہ کو کافی پریشانی ہوئی ہے۔
آر آر ودیالیہ میں دوپہر ۱۱؍ بجے کے لگ بھگ جب کچھ ووٹروں کی نقل و حرکت مشکوک نظر آئی تو آزاد امیدوار ایڈوکیٹ پیوش پاٹل نے فوراً جارحانہ موقف اختیار کیا۔ انہوں نے براہ راست انتخابی عہدیداروں سے شکایت درج کرائی اور ان ووٹروں کے شناختی کارڈوں کی تصدیق کا مطالبہ کیا۔ شکایت موصول ہوتے ہی انتخابی اہلکار چوکس ہوگئے اور۴۰؍ سے ۴۵؍ مشتبہ افراد سے مکمل پوچھ گچھ کی ۔ جب ان ووٹروں سے سرکاری شناختی کارڈ اور رہائش کا ثبوت مانگا گیا تو وہ انہیں پیش کرنے میں ناکام رہےجس کے نتیجے میں اہلکاروں نے انہیں ووٹنگ سے روک دیا اور مرکز سے باہر کا راستہ دکھایا۔یہاں پر پاٹل نے ایک بوگس ووٹر کوپیٹا بھی ۔اس واقعہ کے چند گھنٹوں کے بعد پھر ایک بوگس ووٹر اسی آر آر سینٹر پر پکڑا گیا تھا ان دونوں ہی کو پولیس کے حوالے کیا گیا ۔اس واقعہ کے بعد بڑی بھیڑ آر آر ودیالیہ کیندر کے باہر جمع ہوگئی۔ صورتحال کو ہاتھ سے نکلنے سے روکنے کے لیے پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے  اور ووٹنگ کا عمل دوبارہ شروع ہوا۔ بوگس ووٹنگ کی اس کوشش نے پورے جلگاؤں شہر میں ہلچل مچا دی ہے ۔ جلگاؤں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کیلئے ووٹنگ ۱۵؍ جنوری کو صبح ساڑھے۷؍ بجے شروع ہوئی۔ تاہم، ابتدائی چند گھنٹوں میں ووٹروں میں زیادہ جوش و خروش نہیں تھا۔ صبح ساڑھے۹؍ بجے تک صرف۵ء۵؍ فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ اگلے دو گھنٹوں میں ووٹنگ کی رفتار میں قدرے اضافہ ہوا اور ساڑھے۱۱؍بجے تک شہر میں کل ۱۳ء۳۹؍ فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔
اس دوران جیسے ہی ووٹنگ کا عمل شروع ہو رہا تھا کہ اردو اسکول نمبر۱۵؍ کے مرکز میں ایک سنگین واقعہ سامنے آیا۔اس مرکز میں ای وی ایم مشینوں پر امیدواروں کے ناموں جو اے، بی، سی، ڈی کی ترتیب میں ہونا چاہئے تھا، انہیں انتظامیہ کی طرف سے غلطی سے الٹا ترتیب دیا گیا۔ امیدوار رویندر مورےکو جیسے ہی اس کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے فوراً اعتراض کیا۔ بعد ازاں الیکشن انتظامیہ نے اس کی تصحیح۔
ساگر ہائی اسکول میں تکنیکی خرابی ،گھنٹہ بھر کی تاخیر
وارڈ نمبر۵؍کے ساگر ہائی اسکول (بوتھ نمبر۵/۲۴)میں مشین کی سست رفتاری کی شکایت کے بعد ووٹروں کو کافی پریشانی  اٹھانی پڑی۔ جب ساڑھے ۱۱؍ بجے ووٹنگ شروع ہوئی تو ای وی ایم مشین کے بٹن میں کچھ خرابی آگئی ۔بی جے پی امیدوار نتن لدھا کے نمائندے ایڈوکیٹ راہول جھانور نے اس تکنیکی خرابی کی شکایت انتخابی عہدیداروں سے کی۔ ساڑھے ۱۲؍بجے نئی مشین لگائی گئی۔ اس سارے عمل کے دوران ووٹنگ کا عمل تقریباً ایک گھنٹے تک معطل رہا اور ووٹروں کو قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK