ای وی ایم میںخرابی، بوتھ تبدیلی، ووٹر لسٹ مسائل اور مختلف وارڈوں میں معمولی جھڑپوں کے واقعات۔ ایک علاقے میں وہیل چیئر نہ ملنے پر ایک بزرگ ووٹر کو پلاسٹک کی کرسی پر بٹھا کر پولنگ بوتھ تک لانا پڑا۔
ایک پولنگ بوتھ پر ووٹ دینے کیلئے لوگ قطار میں کھڑے ہیں۔ تصویر:انقلاب
بھیونڈی (خالد عبدالقیوم انصاری ): یہاں جمعرات کو چند ایک ناخوشگوار واقعات کے باوجود میونسپل کارپوریشن کا انتخاب مجموعی طور پر پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ تاہم متعدد پولنگ مراکز پر انتظامی بد نظمی، ای وی ایم کی خرابی اور ووٹر لسٹ سے متعلق مسائل کے باعث ووٹروں کو خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ووٹر لسٹ اور بی ایل او کی کوتاہیوں سے مشکلات
پولنگ کے دوران مختلف علاقوں سے شکایات موصول ہوئیں کہ بی ایل او کی جانب سے ووٹر لسٹ اور ووٹر سلپس فراہم نہیں کی گئیں۔ کئی ووٹروں کے نام فہرست میں موجود نہ ہونے یا ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں منتقل ہونے کی وجہ سے انہیں ووٹ ڈالنے میں شدید پریشانی ہوئی۔
سہولتوں کا فقدان، دھوپ میں قطاریں
وارڈ نمبر ایک کے کومبڑپاڑا پولنگ اسٹیشن پر شامیانے کا انتظام نہ ہونے کے سبب ووٹروں کو سخت دھوپ میں طویل قطاروں میں کھڑے رہنا پڑا۔ ووٹنگ کی رفتار سست ہونے کے باعث مجموعی طور پر ووٹنگ فیصد بھی متاثر رہا۔
سخت پولیس بندوبست اور افسران کا معائنہ
انتخابی عمل کو پرامن بنانے کے لئے پولیس کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔ میونسپل کمشنر انمول ساگر، ڈی سی پی ششی کانت بورڈے سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
ای وی ایم خرابی سے ووٹنگ متاثر
کئی پولنگ اسٹیشنوں پر ای وی ایم میں خرابی کے باعث ووٹنگ متاثر ہوئی۔ وارڈ نمبر ۱۵؍میں تقریباً ڈھائی گھنٹے تک ووٹنگ معطل رہی جس کے دوران سیکڑوں ووٹر قطاروں میں کھڑے رہے۔ اسی طرح پولنگ اسٹیشن نمبر۱۸، کھنڈوپاڑا میں واقع سراج العلوم ہائی اسکول میں بھی تقریباً ایک گھنٹہ ووٹنگ بند رہی۔سماجوادی پارٹی کے امیدوار آصف انصاری (گولڈن) کے مطابق شکایت کے بعد ای وی ایم تبدیل کی گئی جس کے بعد ووٹنگ بحال ہو سکی۔ شہر کے دیگر علاقوں سے بھی ای وی ایم میں خرابی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
بوتھ تبدیلی سے ووٹروں میں کنفیوژن
میونسپل انتظامیہ کی جانب سے متعدد پولنگ بوتھ تبدیل کئے جانے سے ووٹروں کو شدید مشکلات پیش آئیں۔ راؤجی نگر کا بوتھ خان کمپاؤنڈ واقع قیصر بیگم اسکول منتقل کیا گیا جبکہ خان کمپاؤنڈ کا بوتھ گنیش سوسائٹی کے وویکانند اسکول میں منتقل کر دیا گیا۔ اسی طرح روشن باغ میں کیشونگر کا بوتھ بھی تبدیل کیا گیا۔
وارڈ نمبر۹؍ کے کئی ووٹروں کے نام وارڈ نمبر۱۳؍ میں درج ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ ایڈوکیٹ سلیم یوسف شیخ نے بتایا کہ ان کی بیٹی کا ایپک نمبر تبدیل ہو جانے کے باعث ووٹ ڈالنے میں شدید دشواری پیش آئی۔
ووٹ کے بدلے نوٹ کی چرچا، فرضی ووٹنگ کے الزامات
سخت پولیس بندوبست کے باوجود بدھ اور جمعرات کی پوری شب اور جمعرات کو پورے دن ’ووٹ کے بدلے نوٹ‘ کی سرگرمیوں کی افواہیں پورے شہر میں گردش کرتی رہیں۔
انتخابی تشدد، مختلف وارڈوں میں جھڑپیں
اطلاعات کے مطابق وارڈ نمبر ایک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی مہیش چوگھلے کے حامیوں اور کونارک وکاس اگھاڑی کے امیدوار و سابق میئر ولاس پاٹل کے حامیوں کے درمیان پہلے زبانی تکرار ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔ الزام ہے کہ بی جے پی کارکنان نے کونارک وکاس اگھاڑی کے حامیوں کے ساتھ مارپیٹ کی۔وارڈ نمبر۱۹؍ میں پولنگ اسٹیشن نمبر۲۲؍ سے۲۶؍ کے درمیان کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے کارکنان آپس میں الجھ گئے، تاہم پولیس کی بروقت مداخلت سے صورتحال پر قابو پا لیا گیا اور ووٹنگ دوبارہ شروع ہوئی۔
اسی طرح وارڈ نمبر۲؍ میں سماجوادی پارٹی اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کے کارکنان کے درمیان بھی زبانی تکرار کی اطلاع ملی۔
بھنڈاری چوک کے قریب ایک میڈیکل اسٹور سے سیاہی مٹانے والے کیمیکل کی فروخت کی اطلاع بھی ملی۔
میونسپل کارپوریشن کے دعوؤں کے باوجود کئی پولنگ مراکز پر ووٹروں کی سہولت کا فقدان نظر آیا۔ متعدد مقامات پر نہ شامیانہ تھا اور نہ ہی وہیل چیئر دستیاب تھی۔ وارڈ نمبر۸؍ کے کاپ تالاب علاقے میں وہیل چیئر نہ ملنے پر ایک بزرگ ووٹر کو پلاسٹک کی کرسی پر بٹھا کر پولنگ بوتھ تک لانا پڑا جس سے انتخابی انتظامات کی کمزوری بے نقاب ہوئی۔