سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کے ۲۰؍ دن مکمل ہوچکے ہیں۔ اسکے باوجود اُن کا ذہن اب بھی روشن ہے۔ ذہن ہی روشن نہیں ، اَنشن جاری رکھنے کا حوصلہ بھی برقرار ہے۔
EPAPER
Updated: July 18, 2026, 2:27 PM IST | Mumbai
سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کے ۲۰؍ دن مکمل ہوچکے ہیں۔ اسکے باوجود اُن کا ذہن اب بھی روشن ہے۔ ذہن ہی روشن نہیں ، اَنشن جاری رکھنے کا حوصلہ بھی برقرار ہے۔
سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کے ۲۰؍ دن مکمل ہوچکے ہیں۔ اسکے باوجود اُن کا ذہن اب بھی روشن ہے۔ ذہن ہی روشن نہیں ، اَنشن جاری رکھنے کا حوصلہ بھی برقرار ہے۔ حوصلہ کم ہوجاتا تو ممکن تھا کہ وہ متعدد سیاسی جماعتوں کے لیڈران کی اپیل پر بھوک ہڑتال ختم کرکے اپنے احتجاج کو کسی دوسرے انداز میں جاری رکھنے کا اعلان کرتے۔ اُن کے حوصلے اور کئی دن بھوکا رہنے کی قوت پر جتنی حیرت ہے اُتنا ہی تعجب اس بات پر ہے کہ جن ۲۲؍ لاکھ طلبہ کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں اور جن کے پیش نظر کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج شروع کیا تھا اور جن کے مسائل کے پیش نظر سونم وانگ چک نے احتجاج میں شریک ہونے اور انشن پر بیٹھنے کا ارادہ کیا تھا، وہ ۲۲؍ لاکھ طلبہ خاموش ہیں۔ احتجاج کو اُن کی حمایت نہیں ملی۔ اگر اُن میں سے پانچ فیصد طلبہ بھی اس احتجاج کا ساتھ دیتے تو جنتر منتر پر روزانہ یہ کیفیت ہوتی کہ پاؤں دھرنے کی جگہ نہ ملتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
یہ بھی پڑھئے: کسانوں کی بھی نہیں سنی جا رہی ہے!
یاد کیجئے کاکروچ جنتا پارٹی کو سوشل میڈیا پر راتوں رات کیسی مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ اس پر اچھے اچھے ماہرین انگشت بہ دنداں تھے۔ مگر یہ مقبولیت احتجاج کی مقبولیت میں تبدیل نہیں ہوئی؟ مانا کہ سوشل میڈیا پر کاکروچ پارٹی سے اتفاق کرنے والوں کی تعداد غیر معمولی اس لئے تھی کہ اس میں ہر شہر بلکہ ممکن ہے کہ بیرونی ملکوں کے لوگ بھی شامل ہوگئے ہوں۔ اسی لئے ہم محض چند فیصد کی بات کررہے ہیں کہ نیٹ کے امتحان کیلئے صبر آزما حالات سے گزرنے والے طلبہ کا محض چند فیصد بھی جنتر منتر کیوں نہیں پہنچا؟ اس پر ابھیجیت دیپکے کو بھی غور کرنا ہوگا جنہوں نے آن لائن سیاسی پارٹی قائم کرنے کا تجربہ کیا، کامیاب رہے لیکن اُن کاسپورٹ پانی کا بلبلہ ثابت ہوا۔ اس کے برخلاف، طلبہ ہی کے مسائل پر کانگریس پارٹی کے احتجاج کو مختلف شہروں میں بھی توقع سے زیادہ رسپانس ملا اور راہل کی ریلیوں کو بھی زبردست کامیابی ملی۔ راہل کی پہلی ریلی گزشتہ ماہ کوٹا، راجستھان میں ہوئی تھی جبکہ دوسری ریلی گزشتہ روز دہرا دون، اتراکھنڈ میں ہوئی۔ ہمارے خیال میں ابھیجیت دیپکے کا آن لائن پارٹی کا خیال لوگوں کو بھا گیا۔ آن لائن شرکت میں کسی کو زحمت بھی نہیں ہوتی اس لئے اُن کی پارٹی کو سپورٹ تو بہت ملا مگر وہ آن لائن سے آف لائن آتے آتے دم توڑ گیا۔ اس کے برخلاف کانگریس اور راہل کا احتجاج زمینی ہے۔ ملک کے عوام آن لائن کی مقبولیت کے اس دور میں بھی زمینی وابستگی کو اہمیت دیتے ہیں۔ ابھیجیت سب کیلئے اجنبی تھے۔ کانگریس پارٹی ملک کی قدیم پارٹی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دُنیا چاہے جتنی بدل چکی ہو، بعض باتیں اب بھی بہت اہمیت کی حامل ہیں۔اگر کاکروچ پارٹی کو سونم کی حمایت نہ ملتی تو جنتر منتر کا مظاہرہ ممکنہ طور پر چند روز میں ختم ہوجاتا۔اب بھی آپ دیکھیں گے کہ ۲۰؍ جولائی کے سنسد چلو آندولن کے بعد جب سونم انشن توڑینگے تب اُسی دن سے جنتر منتر کا احتجاج قصۂ پارینہ ہونے لگے گا۔ راہل کی ریلیاں ٹھوس بنیادوں پر ہیں اور اگر انہیں سپورٹ مل رہا ہے تو اس پر کم از کم ہمیں تو حیرت نہیں ہے۔ اُن کے عز ائم بلند ہیں اور اُمید کی جاتی ہے کہ وہ ایجوکیشن چارٹر تیار ہوگا جس کی بات کانگریس کے لوگ کررہے ہیں۔