Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک کا نظام تعلیم وصولی کا ذریعہ بن گیا ہے: راہل گاندھی

Updated: July 14, 2026, 10:36 AM IST | New Delhi

’’چھاترون کی گونج‘‘ مہم کے تحت طلبہ سے اپنی دوسری ملاقات سے قبل کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ملک میں تعلیمی نظام کی ابتری پر مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام اب ہفتہ وصولی کا ذریعہ بن چکا ہے۔

Rahul Gandhi. Photo: INN
راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این

’’چھاترون کی گونج‘‘ مہم کے تحت طلبہ سے اپنی دوسری ملاقات سے قبل کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے  ملک میں تعلیمی نظام کی ابتری پر مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے   کہا کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام اب ہفتہ وصولی کا ذریعہ بن  چکا ہے۔ لوک سبھا میں  اپوزیشن لیڈر  نے الزام لگایا کہ انتخابی نظام میں بدعنوانی کے باوجود مودی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور جوابدہی سے منہ موڑ لیا ہے۔ایکس پر ہندی میں کی گئی پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہاہے کہ’’بدعنوان، غیر منصفانہ، جانبدار اور بددیانت، یہ چار الفاظ میرے نہیں بلکہ آج ملک کے طلبہ  ملک کے تعلیمی نظام کیلئے ان کا استعمال کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام اب ایک بددیانت اور  وصولی کے نظام میں تبدیل ہو چکا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جو نظام بچوں کا مستقبل سنوارنے کیلئے بنایا گیا تھا، وہ آج انہیں اور ان کے خاندانوں کو قرض، ذہنی دباؤ اور مایوسی کی طرف دھکیل رہا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ اسی بدعنوانی نے پرچہ لیک مافیا کو جنم دیا، جو لاکھوں طلبہ کی برسوں کی محنت ایک لمحے میں برباد کر دیتا ہے۔ ان کے مطابق، قصوروار ٹھیکیداروں اور افسران کو ٹینڈر اور ترقیاں ملتی ہیں، جبکہ سزا صرف طلبہ کو ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اور وزیرِ تعلیم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں، لیکن انہوں نے خاموش رہنے اور جوابدہی سے بچنے کا راستہ اختیار کیا ہے جبکہ میڈیا بھی خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ راہل گاندھی نے  نعرہ دیا کہ ’’اب بہت ہو چکا، تعلیم  کے میدان میں انقلاب کا وقت آ گیا ہے۔‘‘ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ۱۷؍جولائی کو دہرادون میں ان کے ساتھ شامل ہو کر’’چھاتروں کی گونج‘‘  مہم کو مزید مضبوط کریں۔راہل گاندھی نے۱۷؍ جون کو راجستھان کے کوٹا میں ’’چھاتروں کی گونج‘‘ کے عنوان سے پہلی ریلی سے خطاب کیا تھا۔ کوٹا کی ریلی میں انہوں نے  ملک کے تعلیمی نظام کو’’منتخب کرنے کا نہیں بلکہ مسترد کرنے کا نظام‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ یہ طلبہ اور متوسط طبقے کے خاندانوں پر غیر ضروری مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ ڈالتا ہے۔ اُس وقت بھی انہوں نے تعلیمی نظام کو ’’وصولی کی مشین ‘‘ سے تعبیر کیاتھا اور کہاتھا کہ یہ نظام طلبہ کی صلاحیتوں کو کچل دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK