Updated: July 17, 2026, 1:28 PM IST
| Mumbai
ہند امریکہ تجارتی معاہدہ بے وفا محبوب کے انتظار جیسا ہے۔ محبوب کے آنے کی خبر گرم ہے جو وقفے وقفے سے گرم تر ہوتی ہے مگر محبوب ہے کہ آنے کا نام نہیں لیتا۔ کم و بیش ایک ماہ قبل ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے کہا تھا کہ ڈیل ۹۹؍ فیصد مکمل ہوچکی ہے۔
ہند امریکہ تجارتی معاہدہ بے وفا محبوب کے انتظار جیسا ہے۔ محبوب کے آنے کی خبر گرم ہے جو وقفے وقفے سے گرم تر ہوتی ہے مگر محبوب ہے کہ آنے کا نام نہیں لیتا۔ کم و بیش ایک ماہ قبل ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے کہا تھا کہ ڈیل ۹۹؍ فیصد مکمل ہوچکی ہے۔ اگر اس اطلاع پر بھروسہ کریں تو سوال پیدا ہوگا کہ کیا ایک فیصد سب سے کٹھن مرحلہ ہے اسی لئے اتنی تاخیر ہورہی ہے؟ کیا طوطے کی جان اسی ایک فیصد میں ہے؟ معاہدہ پر دستخط تو نہیں ہورہے ہیں مگر اس کی تفصیل بھی سامنے نہیں آرہی ہے۔ ملک کے عوام کو مجبوراً، امریکی لیڈروں یا عہدیداروں کے بیانوں پر اکتفا کرنا پڑ رہا ہے۔ بیانات سے زیادہ اہم ہیں تفصیلات جو عنقا ہیں۔تفصیلات سامنے آئیں تو کچھ پتہ بھی چلے کہ راز و نیاز کی جو باتیں ہو رہی ہیں اُن میں کیا ہندوستانیوں کے فائدہ کی ہیں اور وہ کیا ہے جس کیلئے امریکی اتنا زور لگا رہے ہیں۔ جب تک دونوں جانب کے فائدوں کا شمار نہیں کیا جائیگا تب تک ڈیل کے تعلق سے کوئی رائے قائم کرنا مشکل ہی رہے گا۔ ویسے ایک رائے اس کے بعض مضمرات سے بن چکی ہے جو ابتدائی دور میں منظر عام پر آئے تھے۔ ان میں یہ بات شامل تھی کہ ہندوستان کو امریکہ سے پانچ سال میں ۵۰۰؍ بلین ڈالر کی خرید کرنی ہوگی یعنی ہر سال ۱۰۰؍ بلین ڈالر کی۔ ۵۰۰؍ کو چھوڑ دیجئے، صرف ۱۰۰؍ بلین ڈالر کو بھی روپے میں تبدیل کرنا چاہیں تو پسینے چھوٹ جائینگے۔ سوچئے کہ اتنی بڑی رقم کا ہم کیا منگوائیں گے؟ ۲۶۔۲۵ء کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ دورانِ سال ہم نے اب تک کی سب سے زیادہ۵۲؍ بلین ڈالر کی درآمد کی۔ جب ۵۲؍ بلین کی بہت زیادہ خرید ایک سال میں کی گئی تو کیا ہم اس کا دوگنا ہر سال منگوا پائیں گے؟ سوال یہ بھی ہے کہ امریکہ اتنا دباؤ کیوں ڈال رہا ہے۔ اس ڈیل میں اس کی اتنی دلچسپی کیوں ہے اور اگر یہ یکطرفہ ہے تو ہماری حکومت کوئی راستہ کیوں نہیں نکالتی کہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے؟ان سوالوں کا جواب ملے نہ ملے بلی تھیلے سے باہر آنے کو ہے کہ عنقریب اس ڈیل پر دستخط ہوں گے اور اسے منظر عام پر لانا ہی پڑے گا۔
یہ بھی پڑھئے: سونے کی قدر، حالات کا جبر اور عوام کا صبر
ملک کے عوام بھلے ہی جنتر منتر کے دھرنے، پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں، اشیائے ضروریہ کی مہنگائی، بے روزگاری، پیپر لیک اور امتحانوں کی منسوخی کے مسائل وغیرہ میں اُلجھے ہوں، پنجاب اور دیگر ریاستوں کے کسانوں کی نگاہ زیر بحث معاہدہ پر ہے۔ آئے دن احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ ان ریاستوں کے کسان معاہدہ کے تئیں ناراضگی ظاہر کررہے ہیں مگر اس کا اب تک نوٹس نہیں لیا گیا۔ پنجاب کے ۲۱؍ اضلاع میں کسان مزدور مورچہ کے کے پرچم تلے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مجوزہ معاہدہ کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ ان کسانوں کی یہ دلیل غلط نہیں کہ امریکی کسانوں کو بھاری سبسیڈی ملتی ہے جس کے سبب اُن کی زرعی پیداوار سستی ہوتی ہے۔ یہی نہیں، اگر وہاں کی سبزی، ترکاری اور پھل یہاں آنے لگیں تو ہندوستانی کسان تباہ ہوجائیگا۔ احتجاج میں شریک کسانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاہدہ کے معاملے میں حکومت کا طرز عمل وہی ہے جو تین سیاہ (زرعی) قوانین کے وقت تھا۔ کیا اب بھی کسانو ںکو اعتماد میں نہیں لیا جائیگا؟