سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اسپیشل اِنٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے سے کسی شخص کی شہریت خودبخود ختم نہیں ہوتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ شہریت کا حتمی فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن نہیں بلکہ قانون کے تحت متعلقہ حکام کا اختیار ہے۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 6:30 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اسپیشل اِنٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے سے کسی شخص کی شہریت خودبخود ختم نہیں ہوتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ شہریت کا حتمی فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن نہیں بلکہ قانون کے تحت متعلقہ حکام کا اختیار ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کو زبانی طور پر ایک بار پھر واضح کیا کہ اسپیشل اِنٹینسیو ریویژن (SIR) کی کارروائی کے بعد کسی شخص کا نام انتخابی فہرست (ووٹر لسٹ) سے حذف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہندوستانی شہریت خودبخود ختم ہو گئی ہے۔ عدالت نے یاد دلایا کہ بہار ایس آئی آر مقدمے کے فیصلے میں پہلے ہی واضح کیا جا چکا ہے کہ شہریت کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے پاس نہیں بلکہ متعلقہ قانونی حکام کے پاس ہے، اور صرف ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کی بنیاد پر کسی شخص کو شہریت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ ایک عرضی کی سماعت کر رہی تھی، جو پرسنجیت بوس نے دائر کی ہے۔ اس عرضی میں ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے خارج کئے گئے افراد کی اپیلوں کی سماعت کرنے والے اپیلیٹ ٹریبونلز کے طریقۂ کار کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کیلئے مختلف ہدایات طلب کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سونم وانگ چُک کی حمایت میں کانگریس میدان میں، پون کھیڑا کی جنتر منتر پر ملاقات
درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائن نے عدالت کو بتایا کہ اطلاعات کے مطابق۱۹؍ اپیلیٹ ٹریبونلز میں تقریباً۳۴؍ لاکھ اپیلیں ابھی تک زیر التوا ہیں، جبکہ ان میں سے دو جج مستعفی ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک صرف تقریباً۳۸؍ ہزار اپیلوں کا فیصلہ ہوا ہے، جن میں سے تقریباً۷۰؍ فیصد اپیلیں منظور کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپیلیں زیر سماعت ہونے کے باوجود مغربی بنگال حکومت نے ایسے افراد کو پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (PDS)، انّاپورنا یوجنا اور دیگر فلاحی اسکیموں سے محروم کرنے کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں۔ حتیٰ کہ ان افراد کو ذات (کاسٹ) کے سرٹیفکیٹ بھی جاری نہیں کئے جا رہے۔ اس موقع پر جسٹس باگچی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بہار ایس آئی آر فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن شہریت کا فیصلہ کرنے والا آئینی ادارہ نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کا نام مشتبہ شہریت کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے حذف کیا جاتا ہے تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو مرکزی حکومت کے پاس بھیجے تاکہ شہریت ایکٹ کے تحت اس کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: تیسری زبان کا آغاز چھٹی جماعت سے ہی کریں: سپریم کورٹ
جسٹس باگچی نے کہا:’’ہم اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ اپنے بہارایس آئی آرفیصلے میں ہم نے واضح کیا تھا کہ جیسے ہی ایسا کوئی فیصلہ ہوتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ وزارتِ داخلہ کو بھیجے تاکہ شہریت کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا جا سکے۔ جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوتا، متعلقہ شخص کی شہریت کی حیثیت برقرار رہے گی۔ ‘‘ اس پر گوپال شنکر نارائن نے کہا کہ کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایس آئی آر کے بعد حکومت ووٹر لسٹ سے حذف کئے گئے افراد کو دیگر شہری اور فلاحی حقوق سے بھی محروم کرنا شروع کر دے گی۔
انہوں نے کہا:’’میرا خیال ہے کہ نہ حکومت نے اس کا ذکر کیا تھا اور نہ ہی عدالت کو یہ خدشہ تھا کہ رہائشی افراد کو دستیاب تمام فلاحی اسکیمیں بھی واپس لے لی جائیں گی۔ اگر اس کا خدشہ ہوتا تو شاید عدالت اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کرتی کہ جب تک شہریت کا حتمی فیصلہ نہ ہو، ان افراد کے دیگر شہری حقوق سلب نہ کئے جائیں۔ ‘‘اس پر جسٹس باگچی نے دوبارہ واضح کیا’’ہمارا فیصلہ بالکل واضح ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۹؍، ۱۰؍، ۱۱ ؍اور۱۲؍ کے تحت شہریت کا تعین الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن صرف انتخابی فہرستوں کے انتظام کا ذمہ دار ہے اور یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کسی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے یا نہیں۔ تاہم اس سے اس شخص کی شہریت خودبخود ختم نہیں ہوتی۔ اسی لئے ہم نے الیکشن کمیشن پر یہ اضافی ذمہ داری بھی عائد کی ہے کہ وہ ایسے معاملات متعلقہ وزارت کو بھیجے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آشیش اور اجے مشرا کے خلاف گوا ہوں کو دھمکانے کا ثبوت نہیں ملا!
سینئر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ زمینی سطح پر صورتحال مختلف ہے اور اپیلیں زیر التوا ہونے کے باوجود لوگوں کو شہریت سے متعلق مختلف سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا:’’۳۴؍ لاکھ اپیلیں ابھی تک زیر التوا ہیں۔ اگر صرف ۳۸؍ہزار مقدمات کا فیصلہ ہوا ہے تو تقریباً۳۳؍ لاکھ۵۰؍ ہزار افراد اب بھی انتظار کر رہے ہیں۔ ان کی اپیلوں کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ تقریباً۷۰؍ فیصد اپیلیں منظور ہو رہی ہیں، اس کے باوجود ان افراد سے فلاحی سہولیات واپس لی جا رہی ہیں۔ جب تک ان کی اپیلوں کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ محرومی برقرار رہے گی۔ اسی لئے ہم اپیلیٹ ٹریبونلز کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر طریقۂ کار کی تجویز دے رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی شخص کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ موجود ہے تو اسے شہریت کے ثبوت کے طور پر قبول کیا جانا چاہئے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس معاملے کو مغربی بنگال ایس آئی آر سے متعلق زیر سماعت دیگر درخواستوں کے ساتھ دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ممتا بنرجی کو پھر جھٹکا، راجیہ سبھا رُکن کوئل ملک نے بھی استعفیٰ دیا
درخواست میں اہم مطالبات
درخواست میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ:اپیلیٹ ٹریبونلز میں درخواست گزاروں اور ان کے مجاز نمائندوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت میں شرکت کی اجازت دی جائے۔ سماعت کا نوٹس کم از کم سات دن پہلے ای میل، دیگر الیکٹرانک ذرائع اور بوتھ لیول افسر (BLO) کے ذریعے فراہم کیا جائے۔ تمام اپیلوں کا فیصلہ اگلے انتخابات سے پہلے ایک مقررہ مدت کے اندر کیا جائے، جبکہ میونسپل کارپوریشن اور میونسپلٹی علاقوں کے مقدمات کو ترجیح دی جائے۔ اپیل کے پورے طریقۂ کار پر مبنی ایک آسان رہنما کتابچہ بنگلہ، ہندی اور انگریزی میں تیار کیا جائے تاکہ عوام کو سہولت حاصل ہو۔ ایس آئی آرکے تینوں مراحل (اندراج، دعوے و اعتراضات، اور منطقی تضادات سے متعلق فیصلوں ) میں ووٹر لسٹ سے حذف ہونے والے تمام افراد کو اپیل کا حق دیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: بنکروں کی ہڑتال، گوداموں میں تیار مال رکھنے کی جگہ نہیں
شفافیت سے متعلق مطالبات
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر اسمبلی حلقے کے لحاظ سے فارم ۶؍(نام شامل کرنے کی درخواست) اور فارم۷؍ (نام حذف کرنے یا اعتراضات) کی تعداد، منظور شدہ اور مسترد شدہ درخواستوں کا مکمل ڈیٹا جاری کیا جائے۔ ہر اسمبلی حلقے میں اپیلیٹ ٹریبونلز کے زیر التوا مقدمات، حذف شدہ ووٹروں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر اپیلوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ الیکشن رول۲۰۲۴ء مینوئل کے فارمیٹس ا؍ سے۸؍ کے مطابق مطلوبہ تمام اعداد و شمار شائع کئےجائیں۔ ۷؍ اپریل۲۰۲۶ء کو تین رکنی عدالتی کمیٹی کی تیار کردہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) کو عوامی دسترس میں لایا جائے، جس کا حوالہ سپریم کورٹ نے ۱۳؍اپریل ۲۰۲۶ء کے اپنے حکم میں دیا تھا۔ اپیلیٹ ٹریبونلز کی کارروائی سے متعلق باقاعدہ بلیٹن جاری کئے جائیں، جن میں زیر سماعت، نمٹائے گئے اور زیر التوا مقدمات کی تفصیلات شامل ہوں۔ واضح رہے کہ یہ درخواست ایڈوکیٹ آن ریکارڈ (AoR) نیہا راٹھی نے ۸؍جولائی کو دائر کی تھی۔