ٹرمپ جیسا قریبی دوست اتنا بڑا دشمن کیوں بن گیا؟ اس سوال کے کئی جوابات ہیں جو سمجھ میں بھی آتے ہیں ، اس کے باوجود اپنی جگہ پر سوال برقرار ہے کیونکہ جتنے جوابات ہیں ، سب قیاس اور اندازے کی بنیاد پر ہیں ، کسی کی توثیق نہ تو نئی دہلی نے کی نہ ہی واشنگٹن نے۔
ٹرمپ جیسا قریبی دوست اتنا بڑا دشمن کیوں بن گیا؟ اس سوال کے کئی جوابات ہیں جو سمجھ میں بھی آتے ہیں ، اس کے باوجود اپنی جگہ پر سوال برقرار ہے کیونکہ جتنے جوابات ہیں ، سب قیاس اور اندازے کی بنیاد پر ہیں ، کسی کی توثیق نہ تو نئی دہلی نے کی نہ ہی واشنگٹن نے۔مستقبل میں کوئی وضاحت ہوگی اس کی اُمید نہیں ہے کیونکہ سفارتی اُمور میں بہت سے سوالات از خود پس پشت چلے جاتے ہیں یا کبھی کبھار کوئی سفارت کا رسبکدوشی کے بعد کتاب لکھ کر چند ایک واقعات پر روشنی ڈالتا ہے تب بھی کئی سوال تشنہ ٔ جواب ہی رہتے ہیں ۔ خیال کیا جارہا تھا کہ ٹرمپ جلد یا بہ دیر ایک سو چالیس کروڑ کی آبادی کے اس ملک کی اہمیت کو تسلیم کرکے راہ راست پر آجائینگے مگر کئی ماہ گزر جانے کے باوجود اُن کی برہمی اپنی جگہ قائم ہے اور وہ خود بھی اور اُن کا انتظامیہ بھی طرح طرح سے نئی دہلی کو ستانے اور نیچا دکھانے سے باز نہیں آرہا ہے۔ یہ ایک طرح کی بلیک میلنگ ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ صرف ہمارے ساتھ رہیں ، کسی اور بالخصوص روس یا چین کے ساتھ ہرگز نہیں ۔ اِدھر کچھ دنوں سے ٹرمپ خاموش رہے تو اُن کے ایک مشیر پیٹر نیوارونے کمان سنبھال لی۔ وہ تو عجیب و غریب باتیں کررہے ہیں ۔ چند روز قبل اُنہوں نے دو تین نہایت سخت اور اوچھے الزام عائد کئے، مثلاً، ہندوستان کو ’’لانڈرومیٹ‘‘ کہا جس کا معنی ہے ایک ملک کا دوسرے ملک کو غیر قانونی طور پر سرمایہ یا اثاثہ فراہم کرنا۔
پیٹر نیوارو نے نئی دہلی پر اس اصطلاح کا استعمال روس سے تیل کی خریداری کے تعلق سے کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ، جو غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کی طرح یوکرین روس جنگ کو روکنے میں بھی ناکام ہے، اب نئی دہلی پر الزام لگا رہا ہے کہ وہ ماسکو سے تیل خرید کر یوکرین جنگ کیلئے سرمایہ فراہم کررہا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سامنے کا سوال یہ ہے کہ اگر ہندوستان روس سے تیل نہ خریدے تو کیا روس جنگ کرنے کے قابل نہیں رہ جائیگا اور فی الفور جنگ روک دے گا؟ پیٹر نیوارو مذکورہ اصطلاح کے استعمال پر ہی نہیں رُکے، یہ الزام بھی لگایا کہ ہندوستان اپنے ملک کے چند بڑے تاجروں اور صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے روس سے تیل خرید رہا ہے۔ اُنہوں نے اتنا ہی کہا ہوتا تو شاید اسے بھی نظر انداز کردیا جاتا مگر چڑانے کیلئے یہ بھی کہا کہ ہندوستان، اپنے عوام کی جیب پر بوجھ ڈال کر برہمنوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ اس بیان میں ’’برہمنوں ‘‘ کیوں کہا گیا؟ کیا پیٹر نیوارو کا مقصد ہندوستان کے طبقاتی تنازع کو ہوا دینا یا حکمراں جماعت کو ووٹ دینے والوں کے ایک طبقے کو بدگمان کرنا ہے؟ ہم نہیں جانتے مگر جو بیان اُنہو ں نے دیا ہے وہ سفارتی نوعیت کا نہیں ہے۔ سیاسی بھی نہیں ہے۔ یہ گھریلو سیاست تک پہنچنے کی جسارت ہے جس کی مذمت میں مودی حکومت کو تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔
روس سے تیل کی خریداری کو ہم پسند کرتے ہیں یا نہیں کرتے، کم قیمت پر خریداری سے کس کا فائدہ ہورہا ہے اور یہ کہ تیل کی ارزانی کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچا یہ سوالات اندرون ملک پوچھے جاتے رہے ہیں ۔ اہل وطن کو حق ہے اس نوعیت کے سوال کرنے کا مگر پیٹر نیوارو کون ہیں اور گھریلو سیاست تک پہنچنے کی جرأت کیوں کررہے ہیں ؟ ہونا تو یہ چاہئے کہ پیٹر نیوارو اپنے آقا (ٹرمپ) سے پوچھیں کہ اُنہوں نے نئی دہلی ہی کو ہدف کیوں بنا رکھا ہے جبکہ روس سے تیل خریدنے والے دیگر ممالک بھی ہیں ۔ اُنہیں آپ کیوں کچھ نہیں کہہ رہے ہیں ؟