Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ۱۰۰؍دن، صدر ٹرمپ کو سخت سیاسی امتحان کا سامنا

Updated: July 26, 2026, 10:05 PM IST | Washington

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں صرف۱۰۰؍ دن باقی رہ گئے ہیں اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایسے رائے عامہ کے جائزوں کا سامنا ہے جن کے مطابق وہ ایوانِ نمائندگان میں اپنی اکثریت کھو سکتی ہے۔

US President Donald Trump. Photo: PTI
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی

امریکہ میں وسط مدتی  انتخابات میں صرف۱۰۰؍ دن باقی رہ گئے ہیں اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایسے رائے عامہ کے جائزوں کا سامنا ہے جن کے مطابق وہ ایوانِ نمائندگان میں اپنی اکثریت کھو سکتی ہے۔اس کے علاوہ  ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے بھی سخت مقابلے کا سامنا ہو گا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تین نومبر کو ہونے والے انتخابات کی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کے لیے اہمیت غیر معمولی ہے۔اگر ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو اسے طاقتور پارلیمانی کمیٹیوں اور طلبی کے اختیارات حاصل ہو جائیں گے، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو آئندہ دو برس تک مختلف تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کے خلاف تیسری بار مواخذے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ریپبلکن پارٹی اس وقت ایوانِ نمائندگان میں انتہائی معمولی اکثریت رکھتی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت بھی کمزور ہے۔بڑھتی مہنگائی اور ایران کے ساتھ جاری جنگ پر عوامی بے چینی نے بھی ریپبلکن کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔امریکی انتخابی تجزیاتی ویب سائٹ ’ڈیسیژن ڈیسک ہیڈکوارٹر‘ کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات۵۹؍ فیصد ہیں۔امریکہ میں روایتی طور پر وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کو نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اور اس بار بھی صرف چند نشستوں کی تبدیلی سے اقتدار کا توازن بدل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا امکان برقرار رکھا، ایران کا سخت انتباہ

دریں اثناء ایران جنگ کے باعث توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہونے سے امریکہ میں پٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مہنگائی اور بلند شرح سود بھی ووٹروں کے لیے اہم مسائل بن چکے ہیں۔ڈیموکریٹس کے حوالے سے سامنے آنے والے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اب ووٹر مہنگائی، صحت اور حتیٰ کہ امیگریشن جیسے معاملات پر بھی ریپبلکنز کے مقابلے میں ڈیموکریٹس پر زیادہ اعتماد کر رہے ہیں۔ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز کے مطابق ’ڈونالڈ ٹرمپ اور ریپبلکن امریکی عوام کو مایوس کر چکے ہیں۔‘انہوں نے خوراک، پٹرول، رہائش اور صحت کی سہولتوں پر توجہ مرکوز کرنے والی انتخابی مہم کا اعلان بھی کیا۔ریپبلکن لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات ’عام فہم پالیسیوں‘ اور بقول ان کے ’زیادہ بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی ڈیموکریٹک پارٹی‘ کے درمیان انتخاب ہوں گے۔پارٹی انتخابی مہم میں سرحدی حفاظت اور ٹیکس میں کمی کو نمایاں کرے گی، جبکہ ڈیموکریٹ امیدواروں کو سوشلسٹ نظریات سے جوڑنے کی کوشش کرے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کا ایران پر حملوں میں شدت لانے کا ارادہ ، گفتگو جاری

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کانگریس سے ’سیو امریکہ ایکٹ‘ کی منظوری کے لیے بھی بھرپور دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ قانون انتخابی دھاندلی روکنے کے لیے ضروری ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اسے قانونی ووٹوں کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ادھر حلقہ بندیوں میں تبدیلی بھی اس انتخاب کا اہم پہلو بن گئی ہے۔ دونوں جماعتوں نے اپنے حق میں انتخابی حلقہ بندیاں کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ریپبلکن کو اس معاملے میں پانچ سے۱۲؍ نشستوں تک کا فائدہ مل سکتا ہے۔جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی سیاسیات کی پروفیسر سارہ بائنڈر کے مطابق ’نئی حلقہ بندیوں کے بعد ایوانِ نمائندگان کی۲۰؍ میں سے صرف ایک نشست ایسی رہ گئی ہے جس کے نتائج غیر یقینی ہیں، جس سے ڈیموکریٹس کے لیے مقابلہ مزید مشکل ہو گیا ہے۔‘
مزید برآں مالی لحاظ سے بھی ریپبلکن کو برتری حاصل ہے اور ان کی انتخابی مہم کے پاس ڈیموکریٹس کے مقابلے میں کروڑوں ڈالر زیادہ موجود ہیں۔یاد رہے کہ سینیٹ میں اس وقت ریپبلکنز کو۴۷؍ کے مقابلے میں ۵۳؍ نشستوں کی برتری حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کو اکثریت کے لیے چار نشستوں کا اضافہ درکار ہوگا۔ویب سائٹ ’ڈیسیژن ڈیسک ہیڈکوارٹر‘ کے مطابق سینیٹ میں مقابلہ انتہائی سخت ہے، تاہم معمولی برتری اب بھی ریپبلکن کو حاصل ہے۔ اگر دونوں جماعتیںبرابر برابر نشستیں حاصل کرتی ہیں تو نائب صدر جے ڈی وینس فیصلہ کن ووٹ دیں گے۔ تاہم اگر ڈیموکریٹس صرف ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں اور سینیٹ ریپبلکن کے پاس رہتی ہے، تب بھی ٹرمپ کی باقی مدت صدارت نمایاں طور پر متاثر ہوگی۔ایوانِ نمائندگان میں ان کے قانون سازی کے منصوبے رک سکتے ہیں، انتظامیہ کو عوامی سماعتوں اور تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کو ایران جنگ، انتظامیہ کے طرزِ عمل اور انتخابی اصلاحات پر حکومت کو مسلسل تنقید کا موقع مل جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: حوثیوں کے ٹھکانوں پراتحادی افواج کے حملے

بعد ازاں سیاسی تجزیہ کار چک ٹوڈ نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ ’نو ماہ قبل سینیٹ میں ریپبلکن واضح فیورٹ تھے، مگر اب وہ صرف معمولی برتری رکھتے ہیں۔‘ایک حالیہ سروے مطابق صرف۳۶؍ فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔چک ٹوڈ کا کہنا تھا کہ ’وسط مدتی انتخابات کے نتائج جانچنے کا سب سے اہم پیمانہ صدر کی عوامی مقبولیت ہوتی ہے۔ اگر کسی صدر کی مقبولیت کی شرح۴۵؍ فیصد سے کم ہو تو اس کی جماعت تقریباً یقینی طور پر نشستیں کھو دیتی ہے، اور اگر یہ شرح۴۰؍ فیصد سے بھی نیچے چلی جائے تو ایوانوں کا کنٹرول بھی ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ اصل سوال صرف یہ ہوتا ہے کہ شکست کتنی بڑی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK