Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی میزائل کے ذخائر میں کمی، ٹرمپ کا اپنی فوج کو ایران پر حملے روکنے کا حکم

Updated: July 27, 2026, 9:56 AM IST | Washington/Tehran

ٹرمپ کی یہ ہدایات ایران پر گزشتہ ۱۳؍ روز سے روزانہ کی بنیاد پرکئے جارہے حملوں کے دوران سامنے آئی ہیں،واضح نہیںہےکہ یہ حکم وقتی ہے یا آئندہ برقرار رہے گا!

US President Donald Trump is backing down. Photo: INN
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی فوج کو ایران کے خلاف دو ہفتوں سے جاری حملے روکنے کا حکم دے دیا۔امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق فیصلے سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو گزشتہ روز حکم دیا تھا کہ ایران پر نئے حملے نہیں کریں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرمپ کی یہ ہدایات ایران پر گزشتہ ۱۳؍ روز سے روزانہ کی بنیاد پر منظور شدہ حملوں کے تسلسل کے دوران سامنے آئی ہیں تاہم یہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کا یہ حکم وقتی طور پر ہے یا برقرار رہے گا۔ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ حملوں میں شدت لانے سے فضائی دفاعی میزائلوں کے پہلے سے کم ہوتے ذخائر خطرناک حد تک متاثر ہو سکتے ہیں۔  ایک فرانسیسی ٹی وی چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہاکہ حملوں کو عارضی طور پر روکنےکا مطلب نہیں کہ ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے ہماری شرائط پوری نہ کیں تو ہم اب بھی اس کے خلاف وسیع فوجی حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹیکساس کا شہر کارپس کرسٹی شدید آبی بحران کی زد میں، ماہرین کا انتباہ

حملے روکنے کا یہ دعویٰ یہ دعویٰ نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔اس سے قبل ایکسیوس نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ امریکی فوج ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے منصوبے تیار کرتی رہی، تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی باضابطہ حکم جاری نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق جمعہ کو ٹرمپ نے ایران پر کوئی نیا حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے ساتھ مسلسل ۱۳؍ روز تک جاری رہنے والے حملوں کا سلسلہ رُک گیا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے خاص طور پر اس خدشے کے پیش نظر ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم میں بڑے پیمانے پر توسیع کا منصوبہ ملتوی کیا ہے کہ جنگ میں شدت آنے سے مشرق وسطیٰ میں پنٹاگن کے فضائی دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز اور دیگر اسلحہ کے محدود ذخائر تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔امریکی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ تنازعہ مزید پھیلنے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا، خلیج فارس کے اہم اتحادیوں کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، عالمی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ توانائی اور ہجرت سے متعلق بحران مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔اخبار کے مطابق حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ جمعہ کو صدر ٹرمپ کی اپنے مشیروں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے نجی طور پر خبردار کیا کہ اگرچہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، لیکن اس سے دفاعی میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے میں تقریباً کسی نے بھی فوجی کارروائی میں شدت لانے کے منصوبے کو دانشمندانہ قرار نہیں دیا۔ ایک عہدیدار نے شبہ ظاہر کیا کہ نئے بڑے حملے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی بجائے بیرونی خطرے کے مقابلے میں اسے مزید متحد کر دیں گے۔ دریں اثناءایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے گزشتہ دو راتوں سے حملوں کا سلسلہ روکنے کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کردی ہیں۔ ایران کی فوج نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعہ مزید وسیع ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK