لال قلعہ سے وزیراعظم کے خطاب پر غور کیا جانا چاہئے۔ اس کو محض نظریاتی بنیاد پر مسترد کر دینا آئندہ کے محاسبہ سے منہ موڑنے کا اعلان ہے۔ یہاں لفظ محاسبہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ نہ تو عوام نہ ہی حزب اختلاف کی پارٹیاں، سال گزشتہ کی تقریر کے اہم اعلانات کو یاد کرتی ہیں اور یہ دیکھتی ہیں کہ ان میں سے کتنے وعدوں پر حکومت نے پیش رفت کی۔
وزیر اعظم نریندر مودی۔ تصویر: آئی این این
لال قلعہ سے وزیراعظم کے خطاب پر غور کیا جانا چاہئے۔ اس کو محض نظریاتی بنیاد پر مسترد کر دینا آئندہ کے محاسبہ سے منہ موڑنے کا اعلان ہے۔ یہاں لفظ محاسبہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ نہ تو عوام نہ ہی حزب اختلاف کی پارٹیاں، سال گزشتہ کی تقریر کے اہم اعلانات کو یاد کرتی ہیں اور یہ دیکھتی ہیں کہ ان میں سے کتنے وعدوں پر حکومت نے پیش رفت کی۔ ذرائع ابلاغ کی بھی ذمہ داری ہے کہ نئی تقریر کا وقت آنے سے پہلے پرانی تقریر میں کئے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرائیں۔ خیر، اس سال کی تقریر میں وزیراعظم نے کسی کو دماغی نکسل کہا۔ کس کو کہا ہم نہیں جانتے۔ تقریر کے دوران انہوں نے واضح بھی نہیں کیا کہ اس سے ان کی کیا مراد ہے یا کون لوگ ہیں جنہیں یہ لقب یا خطاب دیا گیا ہے۔ مگر دماغی نکسل پر گفتگو سے قبل آئیے لال قلعے سے کئے گئے خطاب کی چند اہم باتوں کا اعادہ کرتے چلیں۔
یہ بھی پڑھئے: سمت سرکار! تاریخ کے دھندلکے میں اک دیا سا جلتا ہے
نیوکلیائی توانائی کی بابت انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کا ہدف دو سو گیگا واٹ توانائی پیدا کرنا ہے جس کیلئے پانچ نیوکلیائی ری ایکٹر تعمیر کئے جائینگے۔ اس ضمن میں انہوں نے ’شانتی ایکٹ‘ کا حوالہ دیا اور بتایا کہ یہ قانون پارلیمنٹ میں منظور کیا جا چکا ہے۔ ہدف دو سو گیگا واٹ توانائی کا ہے مگر سو گیگا واٹ کیلئے ۲۰۴۷ء کو نشان زد کیا گیا ہے یعنی اب سے اکیس سال بعد۔ اگر سو گیگا واٹ کیلئے اکیس سال درکار ہیں تو کیا دو سو گیگا واٹ کیلئے بیالیس سال درکار نہیں ہوں گے؟ اس بات کو سمجھنے سے ہم قاصر ہیں بالکل اسی طرح جیسے ہم یہ بھی نہیں سمجھ پائے کہ بیرونی ملکوں پر ہمارا انحصار کیسے کم ہوگا اور ہندوستان آتم نربھر کا مقصد کیسے پورا کرے گا جب درآمدات کم ہونے کا نام ہی نہ لے رہی ہوں اور ہم یہ ہامی بھی بھر چکے ہوں کہ آئندہ پانچ سال میں امریکہ سے ۵۰۰؍ ارب ڈالر کی خریداری (امپورٹ) کریں گے؟
یہ بھی پڑھئے: بہتر تعلیم اور بہتر تعلیم گاہیں
وکست بھارت کا خواب اہمیت کا حامل ہے۔ ۲۰۴۷ء تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہدف کا اعلان اب سے پہلے بھی کیا گیا اور بار بار کیا گیا۔ یہاں بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کو وکست بھارت کیسے بنایا جائیگا؟ ظاہر ہے کہ یہ کارنامہ ہندوستانیوں کو انجام دینا ہے مگر اس کیلئے جن افراد کی ضرورت ہوگی وہ اسی نسل سے آئیں گے جو ’چلو سنسد‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے آگے بڑھی تو اس پر لاٹھی چارج کیا گیا، آنسو گیس چھوڑی گئی اور پیلٹ گن کا استعمال ہوا، یا، جس کے افراد محنت سے پڑھائی کرنے کے بعد امتحان دینے جاتے ہیں تو پرچہ لیک، امتحان منسوخ اور ری اگزام ہوتا ہے۔ وکست بھارت کا سپنا ساکار تب ہوگا جب اسکول، کالج، پیشہ جاتی انسٹی ٹیوٹ، معیار تعلیم اور امتحان کا نظام وکست ہوگا، جب سوچ وکست ہوگی، جب فرقہ وارانہ ہم آہنگی وکست ہوگی، جب روزگار کی صورت حال وکست ہوگی اور جب تعلیم یافتہ نئی صلاحیتوں کی قدردانی کا جذبہ وکست ہوگا۔ کیا ایسا نہیں ہے؟
جہاں تک سپت دھارا (ملک کے مستقبل، رفتار اور ترقی کیلئے سات نکاتی ترقیاتی اور اصلاح جاتی نیٹ ورک)، سیمی کنڈکٹر پلانٹس قائم کرنے، کمیاب معدنیات کے حصول پر توجہ اور لکھ پتی دیدی کی تعداد ۶؍ کروڑ کرنے کا تعلق ہے، ان پر میڈیا، اپوزیشن اور عوام کی توجہ ضروری ہے۔