Inquilab Logo Happiest Places to Work

سمت سرکار! تاریخ کے دھندلکے میں اک دیا سا جلتا ہے

Updated: August 17, 2026, 5:05 PM IST | Professor Sarwar Ul Huda | Mumbai

گزشتہ دنوں تاریخ نویس سمت سرکار اس دُنیا سے رخصت ہوگئے۔ مضمون نگار کے مطابق اِن کی کتاب ماڈرن انڈیا نئی نسل کیلئے تحفہ ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

سمت سرکار ۱۳؍ اگست کو رخصت ہوگئے۔ انہیں ۸۷؍ سال کی عمر ملی۔ ۱۹۳۹ء میں مغربی بنگال میں پیدا ہوئے سمت کے والد بھی تاریخ نویس تھے۔ کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ کی وراثت انہیں اپنے گھر میں ملی۔ ان کی بیوی تنکا سرکار بھی ایک اہم تاریخ نویس ہیں۔ سمت سرکار نے کلکتہ کے پریسیڈنسی کالج میں تعلیم پائی۔ کلکتہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بردوان اور کلکتہ میں استاد کی حیثیت سے پڑھایا اور بعد کو دہلی یونیورسٹی سے ان کا مستقل طور پر رشتہ قائم ہوگیا۔ ان کی سب سے مشہور کتاب موڈرن انڈیا (۱۹۴۷ء- ۱۸۸۵ء) ہے۔ ان کی ایک اور اہم کتاب دی سودیشی موومنٹ اِن بنگال ہے۔ ماڈرن انڈیا کی حیثیت ایک بنیادی کتاب کی ہوگئی ہے جو نئے ہندوستان کو سمجھنے کا ایک زاویہ اور موقع فراہم کرتی ہے۔ کتاب کا موضوع تاریخی اعتبار سے پرانا معلوم ہوسکتا ہے لیکن اس کی تازگی رخصت نہیں ہوتی۔ یہ کتاب عام طور پر کچھ اس طرح پڑھی گئی کہ جیسے کہانی کی کوئی کتاب ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کتاب قصے کہانی کی ہے بلکہ اس کا جو موضوع ہے وہ خود ہی کہانی کی شکل اختیار کرتا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:دُنیا کی رائے جاننا بھی اصلاح کی راہ ہموار کرسکتا ہے

موڈرن انڈیا بہت پڑھی گئی اور بار بار چھپتی رہی۔ اس میں شک نہیں کہ موڈرن انڈیا ایک علامت بن گئی تھی جدید ہندوستان کو سمجھنے کے لئے۔ عجیب اتفاق ہے کہ ان کا انتقال یوم ِ آزادی کے ٹھیک دو دن پہلے ہوا۔ سنیچر کو قوم نے ۸۰؍ ویں یوم ِ آزادی کا جشن منایا۔ سمت سرکار کے ذہن میں یقینی طور پر آزادی کے ۸۰؍ سال مکمل ہو جانے کی تاریخ نئے سرے سے گردش کر رہی ہوگی۔ ممکن ہے انہیں اپنے موضوع کے تعلق سے کسی رویے یا نظریے پر غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ وہ تاریخ نویسی میں جذباتیت کے سخت خلاف تھے۔ مشہور تاریخ داں عرفان حبیب نے اپنی گفتگو میں سمت سرکار کو سچا تاریخ نویس بتایا اور یہ بھی کہا کہ وہ اصول کے پکے تھے۔ اپنے زمانے کے کسی اہم اور بڑے تاریخ نویس کو کسی دوسرے اہم تاریخ نویس کے یہاں اگر اصول کی پاسداری دکھائی دیتی ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف نظریے سے کوئی تحریر بڑی ہو جاتی ہے وہ ایک دوسری سب سے بڑی سچائی کو فراموش کر رہے ہوتے ہیں جس کا نام سچ لکھنا ہے۔ سچائی کا کوئی خاص گھر ہوسکتا ہے مگر یہ وہ گھر ہے جسے خود سچائی نے بنایا ہے۔ تاریخ لکھتے اور بولتے ہوئے جھوٹ بولنے اور لکھنے کا بھرم بھی دھیرے دھیرے کھل جاتا ہے۔ سمت سرکار نے نئے ہندوستان کو سمجھنے کے لئے جو زاویہ فراہم کیا اس کو کسی خاص نظریے کے چوکھٹے میں بند کرکے دیکھنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ انہوں نے جو زاویہ اختیار کیا ہے اس میں کس حد تک تاریخی اور انسانی شعور پوشیدہ ہے۔ اس لحاظ سے سمت سرکار سے اختلاف کرنے والوں کی تعداد اتفاق کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ ان کے یہاں ان طبقات اور افراد کو مرکزیت حاصل ہے جنہیں عام طور پر تاریخ نویسی کے بڑے ڈسکورس میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جن کا تعلق مزدوروں، کسانوں اور استحصال زدہ طبقوں سے ہے۔ سمت سرکار نے سیاسی صورتحال کو سمجھنے کے لئے حاشیے پر پڑے کرداروں کی طرف نگاہ مرکوز رکھی۔ ان کا خیال تھا کہ سیاسی رہنما اپنے طور پر اپنی سی کوشش ضرور کرتے ہیں تاکہ صورتحال بہتر ہو لیکن جنہیں ہم عوام کہتے ہیں ان کی وجہ سے کسی زمانے کی سیاست اپنا ایک رخ طے کرنے کے ساتھ ساتھ کردار بھی ادا کرتی ہے لہٰذا سیاست کی وہ عمارت جو مخصوص سیاسی رہنماؤں سے منسوب ہے انہیں عوامی جدوجہد کے بغیر سمجھا نہیں جاسکتا۔ حاشیہ کتنا عام سا لفظ ہے اور یہی لفظ سمت سرکار کے یہاں ایک بڑے مکالمے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ انگریزی میں سبالٹرن اسٹڈی کا ٹکڑا سمت سرکار کی تاریخ نگاری کے ساتھ گہرے طور پر وابستہ ہے۔ ’’دی سودیشی موومنٹ اِن بنگال‘‘ بھی اس سلسلے میں ان کی ایک اہم کتاب ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جو ہے مفہوم آزادی، وہی مقسوم آزادی

سمت سرکار کا تاریخی شعور دراصل وہ سماجی شعور ہے جو ماضی کا ہونے کے باوجود ان کے یہاں حال کا قصہ معلوم ہوتا ہے۔ ان کی نظر تضادات کو بھی دیکھ لیتی ہے یعنی ایک طرف کوئی چیز بظاہر سہولت اور برکت کا وسیلہ معلوم ہوسکتی ہے اور وہی چیز جدیدیت کے نام پر استحصال کا بھی حوالہ بن سکتی ہے۔ میں اپنی بات دہراتا ہوں کہ سمت سرکار نے تاریخ کو سمجھنے اور لکھنے کے لئے نچلی سطح کا انتخاب کیا جسے انگریزی میں ’ہسٹری فرام بیلو‘ کہا گیا ہے۔ یہ ان کی بہت بڑی خصوصیت ہے کہ انہوں نے تاریخ نویسی کو ایک ایسی سطح عطا کر دی جو پستی کی ہے مگر اس نے کچھ اس طرح مرکزیت اختیار کر لی کہ جیسے بلندی سطح کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ان کی کتاب’’ دی سو دیشی موومنٹ اِن انڈیا‘‘ کا موضوع بہت ہی تاریخی نوعیت کا ہے۔ اس کا رشتہ گاندھی جی کی فکر مندی سے بہت گہرا ہے۔ لارڈ کرزن نے ۱۹؍ جولائی ۱۹۰۵ء کو بنگال کو تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔ ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو فیصلے کا نفاذ ہوا۔ سودیشی تحریک اسی تقسیم کے خلاف وجود میں آئی۔ سمت سرکار کی یہ کتاب آج بھی اس دور کی صورتحال کو سمجھنے کے لئے ایک اہم وسیلہ ہے۔ اس میں سمت سرکار کا وہ تاریخی شعور بھی ہے جسے تہذیبی شعور کا نام دیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تاریخ یقیناً ڈاکٹر سنگھ کو احترام کے ساتھ یاد رکھے گی

ان کی نگاہ میں تہذیبی شعور کسی خاص رنگ کا نام نہیں ہے۔ کوئی رنگ ہلکا یا گہرا ہوسکتا ہے مگر جب بات انسانی اور سماجی سرگرمیوں کی ہوگی تو ہر رنگ کی طرف دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے تہذیبی شعور کو شدت پسندی سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ ثقافتی نظریہ ان کی نگاہ میں ہندوستان کی ثقافتی زندگی کی نمائندگی نہیں کرتا۔

جیسا کہ مَیں لکھ چکا ہوں سمت سرکار کی کتاب ماڈرن انڈیا ایک نصابی کتاب کے طور پر آزادی کے بعد کی پرانی اور نئی نسلوں کے لئے ایک تحفہ بن گئی ہے۔ تاریخ کی کوئی کتاب کبھی کبھی کچھ اس طرح اپنے ماضی کو دیکھنے کا نیا زاویہ فراہم کرتی ہے اور یہ بھی کہتی ہے کہ تاریخ اس طرح بھی لکھی جانی چاہئے جس طرح ہم لکھنا نہیں چاہتے۔ گویا تاریخ نگاری خود بھی عام انسانی راستوں اور گزرگاہوں سے گزرتی ہوئی مخصوص چہروں اور علاقوں کو آئینہ دکھاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK