• Mon, 26 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آزادی اور جمہوریت کے تئیں عوامی ذمہ داری

Updated: January 26, 2026, 3:00 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

مایوسی انسان کو مستقبل کے اُن اندیشوں میں گرفتار کر دیتی ہے جو غلط بھی ہو سکتے ہیں اور مستقبل ان اندیشوں کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لئے کوشش یہ ہونی چاہئے کہ انسان مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دے اور مستقبل سے پرامید رہنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کو امیدوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے فکرمند اور کوشاں رہے۔ 

Picture: INN
تصویر: آئی این این
مایوسی انسان کو مستقبل کے اُن اندیشوں میں گرفتار کر دیتی ہے جو غلط بھی ہو سکتے ہیں اور مستقبل ان اندیشوں کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لئے کوشش یہ ہونی چاہئے کہ انسان مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دے اور مستقبل سے پرامید رہنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کو امیدوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے فکرمند اور کوشاں رہے۔ 
آج ہم جشن جمہوریہ منا رہے ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جمہوریت کو لاحق خطرات کا احساس، جمہوریت سے وابستہ امیدوں کا امتحان لے رہا ہے۔ خطرات کے احساس اور امیدوں کے امتحان میں انسان نہ تو اِس کنارے پر رہ سکتا ہے نہ ہی اُس کنارے پر۔ اسے ان دونوں کے درمیان رہتے ہوئے اُس تیسری چیز کیلئے جدوجہد کرنی چاہئے جو خطرات کو کم کرنے اور امیدوں کے بر آنے کا سامان کرے۔ جمہوریت انعام ہے مگر ایسا انعام جو اپنی حفاظت کی ذمہ داری عائد کرتا ہے، چاہتا ہے کہ اس کی نگہداشت ہو، نگرانی ہو، اس کی فکر کی جائے اور اسے اجتماعی طور پر ہی نہیں انفرادی طور پر بھی برتا جائے۔ 
چونکہ فوری پیش رو نسل، موجودہ نسل اور نئی نسل نے نہ تو آزادی کی جدوجہد کو دیکھا ہے نہ ہی مجاہدین کی قربانیوں سے ان کی کماحقہ واقفیت ہے، انہوں نے نہ تو آزادی کو میسر آتے دیکھا ہے نہ ہی جمہوریت کو برپا ہوتے دیکھا ہے لہٰذا ان کیلئے آزادی اور جمہوریت وہ فصل ہے جس کیلئے انہوں نے بیج بویا نہ اسے کھاد دی، نہ سینچائی کی نہ نگرانی، اس لئے ان دو انعاموں کی قدر و قیمت کا وہ جذبہ ان میں نہیں ہے جو اُس نسل کو تھا جس نے دورِ سامراج اور پھر آزادی کی جدوجہد دیکھی۔ ایسی صورت میں ہونا یہ چاہئے تھا کہ جدوجہد ِ آزادی کی پوری تاریخ کو غیر جانبدارانہ انداز میں بنیادی اور ثانوی اسکولوں میں لازماً پڑھایا جاتا اور شہریوں کیلئے اس تاریخ سے استفادہ کیلئے وقتاً فوقتاً تقریبات کا انعقاد کیا جاتا نیز سال کے بارہ مہینے جاری رہنے والی مہم جاری کی جاتی، مگر یہ نہیں ہوا۔ـ یہی وجہ ہے کہ سروے کروا کر دیکھ لیجئے، اِسی ملک میں ایسے لوگ بھی نکل آئینگے جو جمہوریت کے خلاف رائے دینگے یا اس  میں آمریت کی غیر فطری آمیزش کو بہتر طریقہ اور زیادہ کارآمد نسخہ سرقرار دینگے۔ یہ کتنا افسوسناک ہے اس کا اندازہ و احساس مشکل نہیں ہے۔ 
ہماری دانست میں ملک کے شہریوں میں تین قسم کے لوگ ہیں: (۱) ایک وہ جو جمہوریت کو کمزور ہوتا دیکھ کر رنجیدہ اور فکرمند ہیں اور خود کو بے بس محسو س کر رہے ہیں۔ (۲) دوسرے وہ ہیں جو اپنے خول سے باہر نہیں آتے اور سمجھتے ہی نہیں، کہتے بھی ہیں کہ جمہوریت ہو یا کوئی اور طرز حکومت انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ انہیں تو اپنا روزگار، کاروبار یا ملازمت دیکھنی ہے اور بال بچوں کا پیٹ پالنا ہے۔ نہ تو طرز حکومت بدلنے سے ان کا فائدہ ہوگا نہ ہی طرز حکومت برقرار رہنے سے اُن کا نقصان ہوگا۔ (۳) تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو حالات اور واقعات کو سمجھنے سے قاصر ہیں، اس نوع کے معاملات میں ان کی کوئی رائے نہیں ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ جو لوگ کچھ نہیں جانتے اُنہیں واقف کرایا جائے اور جو اپنے آپ میں رہتے ہیں اُنہیں جمہوریت کے تئیں بیدار کرکے پہلی قسم کے لوگوں میں شامل کرایا جائے۔ بے شمار قربانیوں سے حاصل کی گئی آزادی اور جمہوریت کا تحفظ ملک کے ایک ایک شہری کی ذمہ داری ہے، اس کیلئے حکومتوں پر تکیہ نہیں کیا جاسکتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK