یومِ جمہوریہ محض ایک تاریخ نہیں، نہ ہی صرف قومی پرچم لہرانے یا پریڈ دیکھنے کا نام ہے، بلکہ یہ دن اس عہد کی یاد دہانی ہے جو ایک آزاد قوم نے خود اپنے آپ سے کیا تھا۔
یومِ جمہوریہ محض ایک تاریخ نہیں، نہ ہی صرف قومی پرچم لہرانے یا پریڈ دیکھنے کا نام ہے، بلکہ یہ دن اس عہد کی یاد دہانی ہے جو ایک آزاد قوم نے خود اپنے آپ سے کیا تھا۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ آزادی محض غلامی سے نجات کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے منصفانہ، باوقار اور مساوی نظام کے قیام کا وعدہ ہے جس میں ہر شہری بلا تفریق مذہب، ذات، زبان اور عقیدے برابر کا حق دار ہو۔ ۲۶؍جنوری ۱۹۵۰ء کو نافذ ہونے والا دستورِ ہند اسی وعدے کی عملی شکل ہے، اور اسی لئے یومِ جمہوریہ دراصل سیکولرزم، مساوات اور مشترکہ خودداری کا دن ہے۔ہماری جمہوریت کی تصویر اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب شامل نہ ہوں۔ کثرت میں وحد ت ہندوستان کی اصل طاقت ہے۔ یہاں مختلف عقائد اور تہذیبیں ایک ساتھ رہتی تو ہیں مگر اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے کو معنویت بھی عطا کرتی ہیں۔ دستورِ ہند نے اسی مشترکہ وجود کو آئینی تحفظ دیا اور واضح کیا کہ ریاست کسی ایک مذہب، طبقے یا نظریے کی نہیں بلکہ تمام شہریوں کی ہے۔ یومِ جمہوریہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم اس ہمہ گیر شمولیت کو نظرانداز کریں تو جمہوریت محض اکثریت کا ہتھیار بن کر رہ جائے گی۔
یہاں مَیں ۷۸؍ برس پہلے کا ایک واقعہ سناتا ہوں، جو دراصل اسی آئینی شعور کی ایک زندہ مثال ہے۔ میرے پر دادا اپنی گٹھری اٹھائے ہندوستان چھوڑنے کے ارادے سے دہلی پہنچے۔ وہاں انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی تقریر سنی۔ مولانا کی آواز میں درد بھی تھا اور تاریخ کی گونج بھی: مولانا فرما رہے تھے: ”یہ جمنا کا پانی تمہیں آواز دے رہا ہے، کبھی اسی پانی سے تمہارے بزرگوں نے وضو کیا تھا، یہیں نمازیں پڑھی تھیں۔ یہ جامع مسجد کے مینار تمہیں پکار رہے ہیں تم کہاں جا رہے ہو؟ تم نے فرار کو ہجرت سمجھ لیا ہے۔“ ......میرے دادا نے دل میں سوچا کہ باتیں تو بہت اچھی اور دل میں اُتر جانے والی ہیں مگر شاید ان پر عمل ممکن نہیں۔ وہ آگے بڑھے تو لاٹھی لئے مہاتما گاندھی کھڑے ملے۔ گاندھی جی نے کہا:”ایشور اللہ تیرو نام، سب کو سنمتی دے بھگوان۔ کہاں جا رہے ہو؟ رکو!“
میرے دادا نے جواب دیا: ”جب تم اکیلے کھڑے نہیں ہو سکتے تو میری حفاظت کیسے کرو گے؟“
اور وہ گٹھری لئے آگے بڑھ گئے۔ دیکھا آگے پنڈت جواہر لال نہرو کھڑے تھے، ہاتھ میں بھارت کا آئین تھا۔ نہرو جی نے پوچھا: ”کہاں جا رہے ہو؟“میرے دادا نے کہا:”اب میں یہاں نہیں رہ سکتا، حالات بہت خراب ہیں۔ “نہرو جی نے کہا:”یہ آئین تمہاری حفاظت کرے گا۔ “میرے دادا نے پوچھا: ”اس میں کیا لکھا ہے؟ “نہرو جی نے جواب دیا: ”سیکولرزم، سوشلزم اور ڈیموکریسی۔“
یہ سن کر میرے دادا نے گٹھری وہیں رکھ دی اور واپس لوَٹ آئے۔ یہ کوئی جذباتی لمحہ نہیں تھا بلکہ دستور پر اعتماد کا اعلان تھا۔ یہی اعلان دراصل یومِ جمہوریہ کی اصل روح ہے، یہ یقین کہ جب تک آئین زندہ ہے، ہر شہری محفوظ ہے، یہ اُس کی طاقت ہے، اُس کے درد کا درماں اور مسائل کا حل ہے۔