• Mon, 26 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہ تاریخی دن یاد کیجئے جب اقتدار نے پہلی بار عوام کی آنکھوں میں جھانکا تھا

Updated: January 26, 2026, 12:33 PM IST | Javeria Qazi | Mumbai

جمہوریت ہندوستان کیلئے کوئی اچانک وارد ہونے والا خواب نہیں تھی، یہ ایک صدیوں پر پھیلا ہوا سفر تھاجس کی گرد میں قربانیاں، جس کی دھوپ میں سوال، اور جس کی شاموں میں امید کے چراغ روشن تھے۔

Democracy is the power of the people. This power is their identity. The tricolor gives them a sense of pride. Picture: INN
جمہوریت عوام کی طاقت ہے۔ یہی طاقت اُن کی شناخت ہے۔ ترنگا اُنہیں احساس افتخار عطا کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این
جمہوریت ہندوستان کیلئے کوئی اچانک وارد ہونے والا خواب نہیں تھی، یہ ایک صدیوں پر پھیلا ہوا سفر تھاجس کی گرد میں قربانیاں، جس کی دھوپ میں سوال، اور جس کی شاموں میں امید کے چراغ روشن تھے۔ اس سفر کی راہ میں دستور ایک ایسی دستاویز بن کر سامنے آیا جو محض قانون کی کتاب نہیں بلکہ قوم کی اجتماعی دانش اور تہذیبی شعور کی آواز تھی۔
برطانوی عہد میں ہندوستانی عوام نے پہلی بار اقتدار کی معنویت کو سوال کی شکل میں دیکھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی نے اگرچہ سیاسی کامیابی نہ دی، مگر غلامی کے جمود میں ایک دراڑ ضرور ڈال دی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب رعایا نے خود کو شہری بنانے کا خواب دیکھا۔ ۱۹۱۹ء اور ۱۹۳۵ء  کے ایکٹس نے جزوی نمائندگی کا راستہ کھولا، مگر یہ راستے آزادی سے زیادہ رعایتوں کے نشان تھے۔ وقت کے ساتھ سیاسی شعور نے لفظوں کا لبادہ اوڑھا۔ گاندھی جی کی عدم تشدد کی صدا، نہرو کی فکری وسعت، امبیڈکر کی قانونی بصیرت یہ سب دستور کی سطروں میں جذب ہونے لگے۔ جب ۱۹۴۶ء  میں دستور ساز اسمبلی وجود میں آئی تو یہ محض منتخب نمائندوں کا اجتماع نہیں تھا، بلکہ صدیوں کے دکھ، جدوجہد اور امید کا  ترجمان تھا۔ ۲۶؍نومبر ۱۹۴۹ء کو جب دستور کو منظور کیا گیا تو یہ تاریخ کا ایک خاموش مگر گہرا لمحہ تھا۔ جیسے کسی طویل داستان کا پہلا باب مکمل ہوا ہو۔ ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کو جب دستور نافذ ہوا تو ہندوستان نے خود کو آئین کے آئینے میں دیکھا، ایک خود مختار، جمہوری، سیکولر اور انصاف پسند قوم کے طور پر۔
اس دستور نے جمہوریت کو محض ووٹ کی پرچی تک محدود نہ رکھا۔ اس نے انسان کو شہری بنایا، شہری کو حق دیا، اور حق کو وقار بخشا۔ بنیادی حقوق نے زبان کو آزادی دی، ضمیر کو تحفظ دیا اور مساوات کو قانون کی صورت عطا کی۔ رہنما اصولوں نے مستقبل کیلئے ایک اخلاقی سمت متعین کی، جہاں ریاست طاقت نہیں بلکہ خدمت کا استعارہ بنے۔ وقت کے بہاؤ میں دستور نے خود کو جامد نہیں رکھا۔ ترامیم آئیں، دفعات بدلی گئیں، مگر جمہوریت کی روح برقرار رہی۔ کبھی ایمرجنسی کے سائے پڑے، کبھی عدالتوں نے آئین کو سینے سے لگایا، اور کبھی عوام نے ووٹ کے ذریعے تاریخ کا رخ موڑا۔ یوں دستور ایک زندہ دستاویز ثابت ہوا، جو بولتا ہے، سنتا ہے اور بدلتے وقت کے ساتھ چلتا ہے۔
آج ہندوستانی جمہوریت اگرچہ سوالوں کے نرغے میں ہے، مگر دستور اب بھی ایک چراغ کی مانند ہے جس کی لوَ کم ضرور ہو سکتی ہے، بجھ نہیں سکتی۔ یہ دستور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف نظام نہیں، مسلسل جدوجہد ہے؛ اور یہ جدوجہد آئین کی روشنی میں ہی اپنے معنی پاتی ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت کسی فرمان کی پیداوار نہیں، یہ صدیوں کی خاموش برداشت، بے نام قربانیوں اور خوابوں کی تہہ میں پلنے والا ایک شعور ہے۔ جب اس سرزمین پر دستور کی تحریر کا آغاز ہوا تو وہ محض دفعات اور شقوں کا مجموعہ نہ تھا بلکہ تاریخ کی دھڑکن کو لفظوں میں قید کرنے کی کوشش تھی۔ دستور دراصل ہندوستان کے اجتماعی ضمیر کی وہ تحریری شکل ہے جس میں ماضی کی سسکیاں اور مستقبل کی امیدیں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔
یہ داستان وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں رعایا نے پہلی بار خود کو انسان سمجھنے کا حوصلہ کیا۔ برطانوی راج کے طویل اور سنگین سایوں میں ہندوستانی سماج ایک ایسے آئینے کی تلاش میں تھا جس میں وہ اپنی شناخت دیکھ سکے۔ ۱۸۵۷ء کی جدوجہد نے اگرچہ اقتدار کی چابی نہ دی، مگر غلامی کے بیانیے میں شگاف ڈال دی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جمہوریت نے خاموشی سے جنم لیا، نعروں کے بغیر، دستور کے بغیر۔وقت آگے بڑھا تو سوالوں نے زبان پکڑی۔ کانگریس کے اجلاس، اخبارات کے اداریے، جیلوں کی دیواروں پر لکھی نظمیں،سب ایک ہی بات دہرا رہے تھے: ہم کون ہیں اور ہمیں کون چلاتا ہے؟ ۱۹۱۹ء اور ۱۹۳۵ء کے ایکٹس نے نمائندگی کے چند سکے اچھالے، مگر یہ سکے عوامی حاکمیت کی قیمت ادا کرنے کیلئے ناکافی تھے۔ جمہوریت ابھی راستے میں تھی، منزل نہیں بنی تھی۔
پھر وہ گھڑی آئی جب تاریخ نے قلم اٹھایا۔ دستور ساز اسمبلی کا قیام سیاسی واقعہ نہیں، تہذیبی اعلان تھا۔ اس ایوان میں صرف قانون دان نہیں بیٹھے تھے؛ وہاں کسان کی تھکن، عورت کی خاموشی، اقلیت کا خوف اور دلت کی محرومی بھی موجود تھی۔ ڈاکٹر امبیڈکر کے الفاظ میں صرف قانون نہیں، صدیوں کی بے انصافیوں کا حساب لکھا جا رہا تھا۔ نہرو کی آواز میں مستقبل کی وسعت تھی، اور امبیڈکرکی خاموشی میں اخلاقی وزن۔ محمد سعداللہ کی قانونی بصیرت اقلیتی کردار اور سیکولراقدار کے پرچم کی نگہبان، مولانا آزاد کی موجودگی کا طلسم،سروجنی نائیڈو کی جمالیات کا سحر صدیوں کے پسماندہ طبقے کی بند مٹھیوں میں جگنو رکھتا ہوا۔  
۲۶؍جنوری ۱۹۵۰ء کو جب دستور نافذ ہوا تو ہندوستان کے عوام نے پہلی بار خود کو رعایا نہیں، شہری کہلانے کا حق حاصل کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اقتدار نے پہلی بار جھک کر عوام کی آنکھوں میں دیکھا۔ دستور نے جمہوریت کو محض ووٹ کی رسم نہیں بنایا۔ اس نے انسان کو وقار دیا، زبان کو آزادی، ضمیر کو تحفظ اور کمزور کو سہارا دیا۔ بنیادی حقوق وہ چراغ بنے جن کی روشنی میں شہری نے ریاست سے سوال کرنا سیکھا۔ رہنما اصولوں نے جمہوریت کو اخلاقی سمت دی کیونکہ اقتدار کا مطلب حکومت کرنا نہیں، آئین کی روشنی میں عوام کی خدمت کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK