۱۵؍ اگست اور ۲۶؍ جنوری، ہمارے یہ دو بڑے اور عظیم الشان قومی تہوار ہیں۔آج یوم جمہوریہ پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کی کچھ یادو ںکو تازہ کرلیا جائے۔ یہ مضمون انہی یادوں پر مشتمل ہے۔
۱۵؍ اگست سے ہم ۲۶؍ جنوری کی طرف جاتے ہیں اور پھر ۲۶؍ جنوری سے ۱۵؍ اگست کی طرف آتے ہیں۔ اگست سے جنوری کا فاصلہ،جنوری سے اگست کے مقابلے میں کم ہے۔ہماری قومی زندگی کی یہ دو تاریخیں فاصلے اور کم فاصلے کے ساتھ اپنی موجودگی کا جس طرح احساس دلاتی ہیں، انہیں دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے ان تاریخوں کے نقطہ آغاز کی طرف جانے کی شدید ضرورت ہے۔ آج کی صبح نمودار ہوئی ہے تو اس کے ساتھ ہی آج کا سورج ۲۶؍ جنوری کی تاریخ کی گرما ہٹوں کے ساتھ نمودار ہوا ہے۔ موسم کے اعتبار سے جنوری ہمیشہ کم یا زیادہ سرد رہتی ہے۔دھوپ کھلنے اور کھلنے لگتی ہے کہ جیسے ایک جمہوری نظام کی چادر اپنے قوانین کے ساتھ پھیل گئی ہو۔ جمہوریت کے اصولی نظام کی یہ چادر بُننے اور بنانے یعنی جمہوریت کی تعمیر اور تشکیل میں کتنا وقت لگا ہے اور قانون کو آخری شکل دینے والوں نے کتنا غور کیا ہے، اس کا احساس بھی لازم ہے۔ جمہوری فضا میں جمہوری نظام کے قوانین کا نفاذ ایک تاریخ کے ساتھ وابستہ ضرور ہے لیکن تاریخ بدلنے کے باوجود ۲۶؍ جنوری اپنی تاریخی سچائیوں کے ساتھ موجود رہتی ہے۔اس کی موجودگی میں ۱۵؍ اگست کی تاریخ بھی شامل ہے کچھ اس طرح کہ جیسے ایک میں ایک کی گویائی ہو۔
فراق کا یہ مصرعہ کہ ’’کتنی آہستہ اور کتنی تیز‘‘ وقت کی رفتار کو جس طرح پیش کرتا ہے، اس کا تعلق ہمارے احساس سے ہے۔ زمانے کی رفتار اپنی فطرت کے ساتھ ہوتی ہے اور ہم کبھی زمانے کی اس فطرت کو اپنے احساس سے قریب محسوس کرتے ہیں۔ کبھی فاصلے کا احساس ہوتا ہے کہ جیسے ہماری تہذیبی زندگی رفتار کا ساتھ نہ دے رہی ہو لیکن جمہوری نظام کی برکت حوصلہ دیتی ہے کہ ہم آزاد بھی ہیں اور قوانین سے بندھے ہوئے بھی ہیں۔ جمہوری نظام میں قوانین سے بندھا ہونے کا مفہوم قوانین کا احترام بھی ہے اور اس نظام پر بھروسہ بھی۔ لہٰذا ۲۶؍ جنوری کی تاریخ کا جشن قوانین کا احترام بھی ہے اور تہذیبی زندگی کی قوتوں کا اظہار بھی۔ ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء سے ۲۶؍ جنوری ۲۰۲۶ء تک کا سفر ’’کتنی آہستہ اور کتنی تیز‘‘ کی ایک علامت بھی ہے۔ تیزی میں ٹھہراؤ کا احساس اور ٹھہراؤ میں تیزی کا احساس، اسی میں اس سفر کا حسن بھی پوشیدہ ہے۔ کل مَیں ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کی تاریخ سے وابستہ تصویروں کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہوئے ان حقائق کا مطالعہ بھی کر رہا تھا جن کا رشتہ اس تاریخ سے ہے۔ تصاویر بھی حقائق کا ایک حوالہ ہیں۔ وہ تقریر بھی کل میں نے سنی جو ملک کے پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد نے اس موقع پر پیش کی تھی۔ قومی زندگی آزاد فضا میں سانس لے رہی تھی مگر مسائل بھی موجود تھے۔ صدر جمہوریہ نے اپنی تقریر کی ابتدا میں ان مسائل کی جانب اشارہ کیا تھا۔ اُن کی تقریر کے یہ ابتدائی جملے ملاحظہ کیجئے:
’’چار برس بیتے آزادی کی دیوی نے ہمیں اپنا عظیم کام سونپا تھا۔ وقت تھا اپنے دیش سے غریبی اور ناخواندگی، سماجی نابرابری اور کشمکش، نا انصافی اور استحصال کے نشانات مٹا دینے کا۔‘‘ (بشکریہ آکاشوانی)
اس آواز کو سنتے ہوئے اس ہلکی بارش کا احساس ہوتا ہے جو تہذیبی زندگی کو خوشی اور ذمہ داری کے احساس سے شرابور کر دیتی ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے، ۲۶؍ جنوری ہمیں ۱۵؍ اگست تک پہنچاتی ہے، اسی سیاق میں راجندر پرساد کی تقریر کے پہلے جملے ’’چار برس بیتے آزادی کی دیوی نے ہمیں اپنا عظیم کام سونپا تھا‘‘ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ آگے کے جملے انہی کاموں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ناخواندگی،غریبی،نا برابری اور استحصال جیسے مسائل ابھی ختم نہیں ہوئے۔ لیکن اندازہ کیجئے کہ جشن جمہوریہ کی پہلی تقریب میں صدر جمہوریہ کو انہی مسائل کا خیال آیا تھا۔تقریر کے مرکز میں قومی اور تہذیبی زندگی تھی اور اس زندگی کی رنگا رنگی۔ صدر جمہوریہ بگھی پر بیٹھ کر تشریف لائے تھے۔ تصویریں سادہ ہیں، اور یہ سادگی اس تقریب کی ایک بڑی طاقت تھی۔ جو بھی وسائل موجود تھے، ان کے ساتھ تقریب کی ایسی سادگی تہذیبی زندگی کو حوصلہ بھی دیتی ہے اور محاسبے کی ترغیب بھی۔ جشن جمہوریت کی پہلی پریڈ میں انڈونیشیا کے صدر مہمان خصوصی تھے۔ پریڈ کی تصویروں کو دیکھتے ہوئے ایک تہذیب گردش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
یہ گردش گزرے ہوئے وقت کی نہیں بلکہ آنے والے وقت کی بھی تھی۔ تقریبات کی یہ تصویریں بظاہر ٹھہری ہوئی ہیں مگر انہیں دیکھتے ہوئے آنکھوں میں کوئی شے چمکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اپنی آنکھوں میں آئی ہوئی اس شے کو دیکھنا دراصل آئینے میں اپنی تاریخی اور تہذیبی زندگی کو دیکھنا ہے۔ اس کیلئے وہ آئینہ بھی ضروری ہے جسے ہم انسانی معاشرہ کہتے ہیں۔ ایک فرد کی آنکھ تہذیبی سطح پر دوسرے فرد کی آنکھ سے کافی مماثل ہوتی ہے۔ اس آنکھ کا پانی اور اس کی روشنی، اجتماعی احساسات کیساتھ درد مندی کا احساس جگاتی ہے۔ انفرادیت اجتماعیت کا دوسرا نام بھی ہے۔ تہذیبی شناخت کا مطلب اجتماعی شناخت میں انفرادی شناخت کا گم ہو جانا نہیں بلکہ موجود ہونا ہے۔
۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کی پریڈارون اسٹیڈیم میں ہوئی تھی۔ اب اسے نیشنل اسٹیڈیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ارون اسٹیڈیم دیواروں سے گھرا ہوا نہیں تھا، اسی لیے اُس دور میں لال قلعے کو اس مقام سے دیکھا جا سکتا تھا۔ پانچ سال تک ارون اسٹیڈیم ہی میں ہوتی رہی۔ ۱۹۵۵ء میں پہلی بار جشن جمہوریہ کی پریڈ راج پتھ پر ہوئی۔ اور جب سے راج پتھ پر ہی یہ سلسلہ جاری ہے۔
آج ان تاریخی حقائق کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے،جن کا تعلق ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کی تاریخ سے ہے۔ ۲۶؍ نومبر ۱۹۳۰ء کو انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے ہندوستان کی مکمل خود مختاری کا اعلان کیا گیا تھا۔ ۲۶؍ جنوری کا دن بطور یوم جمہوریہ منانے کا فیصلہ اسی تاریخی سچائی کا عملی اظہار ہے۔ ۱۹۲۹ء میں نہرو کی صدارت میں انڈین نیشنل کانگریس کا جلسہ لاہور میں ہوا اور یہ تجویز منظور کی گئی کہ اگر۲۶؍ جنوری ۱۹۳۶ء تک ہندوستان کو ڈومینین کا درجہ نہیں دیا گیا تو ہم خود مختاری کا اعلان کر دینگے۔ اس تجویز کا مقصد انگریزوں پر دباؤ ڈالنا تھا یعنی ہم انگریزی حکومت میں خود مختار حکومت کی ایک اکائی کے طور پر خود کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی نے ۲؍ سال، ۱۱؍ مہینے اور ۱۸؍ دن میں ہندوستانی آئین کو مرتب کیا اور ڈاکٹر راجندر پرشاد کی خدمت میں پیش کیا۔ ۳۰۸ء ممبران کے دستخط نے ہاتھ سے لکھے گئے آ ئین کے مسودہ کو تاریخی دستاویز کا درجہ عطا کیا۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ ہر ہندوستانی شہری کو جاننا چاہئیں۔