آج کی دُنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک مال دکھائی دیتے ہیں ، نت نئے بازار معرض وجود میں آجاتے ہیں ، شو روم کھلتے رہتے ہیں ، ریستوراں اور اس سے آگے بڑھ کر فوڈپلازہ اور ایٹنگ ہب جیسےکھانے پینے کے بازار کھل جاتے ہیں مگر لائبریری قائم کرنے کا خیال کسی کو نہیں آتا۔
آج کی دُنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک مال دکھائی دیتے ہیں ، نت نئے بازار معرض وجود میں آجاتے ہیں ، شو روم کھلتے رہتے ہیں ، ریستوراں اور اس سے آگے بڑھ کر فوڈپلازہ اور ایٹنگ ہب جیسےکھانے پینے کے بازار کھل جاتے ہیں مگر لائبریری قائم کرنے کا خیال کسی کو نہیں آتا۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دُنیا نے کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے ہی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے اور اسے ذہنی نشو ونما سے کوئی غرض نہیں ؟ شہر میں جو لائبریریاں تھیں وہ یکے بعد دیگرے بند ہوتی چلی گئیں ، جو اکا دکا بچ گئی ہیں وہ بھی آج نہیں تو کل خاموشی سے داغ مفارقت دے جائیں گی کیونکہ آثار کچھ یہی بتارہے ہیں ۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اُردو کے طلبہ تو کیا، اساتذہ میں بھی مطالعے کا شوق مفقود ہے۔ یقین نہ آئے تو کوئی صاحب زحمت کرلے اور طلبہ نیز اساتذہ سے دریافت کرے کہ اُنہوں نے حال میں کون سی نئی یا پرانی کتاب پڑھی ہے، حقیقت بہت آسانی سے سمجھ میں آجائیگی۔ لوگ باگ اول تو کچھ پڑھتے نہیں ہیں اور اگر کسی میں تھوڑا بہت ذوق باقی ہے تو وہ ویڈیو سن کر اور دیکھ کر علم کی تشنگی بجھانے کی کوشش کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتب بینی کے بجائے ویڈیو بینی کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ کل تک بہت سوں کو شکایت تھی کہ اُردو والے ’مانگ کر پڑھنے‘ کے عادی ہیں لیکن اب کتابیں مانگنے والی وہ بے چاری مخلوق بھی عنقا ہے۔ جن ارباب علم وادب کے پاس کتابوں کا چھوٹا یا بڑا ذخیرہ ہے اُن سے گفتگو کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اب علم کی چاہ میں کتابیں مانگنے کا سلسلہ بھی ’’تمت بالخیر‘‘ کو پہنچ چکا ہے۔ کل تک ایسے افراد آنکھوں میں کھٹکتے تھے لیکن یقین جانئے اَب نگاہیں اُنہیں بھی تلاش کرتی ہیں کہ کاش کوئی ’’محترم مانگنے والا ‘‘ آجائے اورمانگے، ایک نہیں دس کتابیں مانگ لے کہ اُس کے ’’مانگنے‘‘ میں حصول علم کا جو جذبہ شامل تھا وہ بہر حال قابل قدر تھا۔
کتابیں پڑھنے کا ذوق ختم ہونے کی کئی وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں جن کی بناء پر صرف اُردو میں نہیں بلکہ ہر زبان میں مطالعے کا شوق ختم ہورہا ہے لیکن دیگر زبانوں او رہماری زبان کے لوگوں میں فرق ہے۔ وہاں کے حساس طبع افراد کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی زبان کے لوگوں کو متوجہ کرتے رہتے ہیں بالخصوص طلبہ کو راغب کرنے کا کوئی ذریعہ وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اُن میں کم از کم احساس زیاں تو ہے اور وہ نقصان کی تلافی کیلئے مصروف عمل بھی ہیں ۔ ہمارے یہاں دور دور تک بے حسی جیسی بے حسی ہے۔ گھر آئے مہمان سامنے رکھی ہوئی کسی کتاب کو اُلٹ پلٹ کر دیکھنے کیلئے بھی آمادہ نہیں ہوتے۔ اخبار رکھا رہتا ہے وہ اُس کی جانب لپکتے بھی نہیں ہیں ۔ بہت سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہر نیوز تو معلوم ہوجاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے اور اِس کے اپنے انداز ہیں ۔ طلبہ کتاب نہیں پڑھ سکتے کہ یہ دور جدید تکنالوجی کا ہے، کمپیوٹر اور سی ڈی کا ہے، موبائل کا ہے، لہٰذا کاغذ کی کتابوں کے بجائے انہیں ای بک دی جائیں تو وہ راغب ہوسکتے ہیں ۔ اول تو ہم اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں کہ زمانہ اس حد تک بدل سکا ہے۔ ایسا کہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ آج بھی ہر گھر میں کمپیوٹر نہیں ہے۔ اگر ایسا ہو کہ ہر گھر میں کمپیوٹر آجائے تب؟ کیا نئی نسل ای بک پڑھے گی؟ ہمیں یقین نہیں آتا۔ کمپیوٹر پر بھی کتابیں نہیں پڑھی جاتیں ۔ہم نہیں کہتے ماہرین کہتے ہیں کہ کتاب بینی کے بے شمار فوائد ہیں مگرویڈیو بینی کے بہت سے نقصانات ہیں ۔ اس کے باوجود ہم ماہرین کی سننے کو تیار نہیں ہیں ۔ کیا تب سنیں گے جب نقصان ہوچکا ہوگا؟