Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریکارڈ پولنگ اور ریکارڈ محرومی

Updated: April 25, 2026, 2:00 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی پولنگ اب تک کے سب سے زیادہ اور تاریخی فیصد تک پہنچی۔ ہم اس کی وجوہات سے بحث کئے بغیر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن رائے دہندگان کے اس جوش و خروش کی اپنے طور پر تشریح کرنا چاہے گا۔

INN
آئی این این
مغربی بنگال میں  پہلے مرحلے کی پولنگ اب تک کے سب سے زیادہ اور تاریخی  فیصد تک پہنچی۔ ہم اس کی وجوہات سے بحث کئے بغیر یہ کہنا چاہتے ہیں  کہ الیکشن کمیشن رائے دہندگان کے اس جوش و خروش کی اپنے طور پر تشریح کرنا چاہے گا۔ تنازعات میں  گھرے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، جن کے خلاف لوک سبھا میں  تحریک مواخذہ ناکام ہوئی اور اب راجیہ سبھا میں  بھی یہی تحریک پیش کرنے کی تیاری چل رہی ہے، یہ دعویٰ کرسکتے ہیں  کہ اُن کے ادارے نے انتخابات کیلئے موزوں  اور مؤثر ماحول تیار کیا تھا جس سے رائے دہندگان کو حوصلہ بھی ملا اور ترغیب بھی۔ وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں  کہ اُن کی جاری کردہ خصوصی مہم ’’ایس آئی آر‘‘ کے ذریعہ ناموں  کا دوہراؤ ختم ہوگیا تھا نیز جعلی رائے دہندگان کے نام حذف کردیئے گئے تھے اس لئے انتخابی عمل میں  حقیقی رائے دہندگان کی دلچسپی بڑھی جو ریکارڈ پولنگ کا سبب بنی ۔
ہم نہیں  جانتے کہ اگر وہ ایسا دعویٰ کریں  تو اس میں  کتنی صداقت ہوگی مگر ہم یہ ضرور جانتے ہیں  کہ عوام میں  حق رائے دہی چھن جانے کا خوف تھا کہ اگر ووٹ نہیں  دیا تو خدا جانے کیا صورتحال رونما ہو۔ کہنے کی ضرورت نہیں  کہ مغربی بنگال کی انتخابی فہرست سے ۹۱؍ لاکھ نام حذف ہوئے ہیں ۔ ان حذف شدہ ناموں  میں  اُن لوگوں  کے نام بھی ہوں  گے جو اَب اس دُنیا میں  نہیں  ہیں  اور اُن کے بھی جو نقل مکانی کرکے کسی اور ریاست میں  سکونت اختیار کرچکے ہیں ۔ مگر تمام ۹۱؍ لاکھ نام ایسے نہیں  ہوسکتے۔ یہ بات اس لئے بھی کہی جارہی ہے کہ بہت سوں  نے شکایت درج کرائی، نیا فارم بھرا تاکہ اُن کا حذف شدہ نام دوبارہ شامل کرلیا جائے مگر نہیں  ہوا۔
سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ حق بجانب ووٹرس ٹریبونل سے رجوع کریں ۔ اس کیلئے وقت درکار تھا تب بھی جتنے لوگ ٹریبونل پہنچے اُن سب کی عرضی پر سماعت نہیں  ہوئی۔ جتنی عرضیوں  پر ہوئی اُن کا اور حذف شدہ ناموں  کا تناسب رائی اور پہاڑ کا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ بہت سے ایسے لوگ حق رائے دہی کا استعمال نہیں  کرسکے جو اُسی ریاست کے رہنے والے ہیں  اور برسوں  سے ووٹ دیتے آئے ہیں ۔ اگر  ایک گھر کے کچھ لوگوں  کا نام ہے اور کچھ کا نہیں  ہے تو اس نوع کی شکایات کو ’’منطقی بے ربطی‘‘ (لاجیکل ڈِسکریپنسی) کہا گیا۔ چونکہ بہار کی طرح یہاں  بھی ایس آئی آر جیسی بڑی مشقت کیلئے نہایت کم وقت دیا گیا تھا اس لئے منطقی بے ربطی دور کرنا یا اس کی وضاحت کرنا بھی ممکن نہیں  ہوا۔ جو بھی ہو، رائے دہندگان کی اتنی بڑی تعداد کا محروم رہناملک کی تاریخ کا پہلا اور نہایت افسوسناک واقعہ ہے۔
اس پر حکومت، الیکشن کمیشن اور عدالت کو غور کرنا چاہئے۔ ایک ووٹر اپنی مرضی سے ووٹ نہ دے تو الگ بات ہے مگر ووٹر، ووٹ دینے کیلئے بیقرار ہو اور محض اسلئے ووٹ نہ دے پائے کہ اُس کا نام حذف ہوچکا ہے، اُسے حق رائے دہی کے بنیادی حق سے محروم کرنا ہے۔ اس پر بھی اگر الیکشن کمیشن بغلیں  بجائے تو یہ جمہوری عمل کا تحفظ نہیں ، جمہوری عمل کو ضرر پہنچانے والا عمل مانا جائیگا۔ ماضی میں  الیکشن کمیشن کے عملے نے دور دراز کے ووٹروں  کو بھی موقع دیا تاکہ وہ ووٹ دے سکیں ، اس کیلئے افسران کبھی پہاڑی علاقوں  میں  پہنچے اور کبھی لائف جیکٹ پہن کر دریا عبور کیا۔ کبھی محض ایک ووٹرتک پہنچنے کیلئے مشقت کی۔ ایک ووٹر کیلئے تکلیف اُٹھانے والا عملہ یہ کیسے برداشت کرسکتا ہے کہ ۹۱؍ لاکھ لوگ ووٹنگ سے محروم ہوجائیں ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK