Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: پیدائشی نشان

Updated: April 25, 2026, 6:20 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

معروف امریکی ادیب نیتھنیل ہوتھرون کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی برتھ مارک‘‘ The Birth-Markکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایل مر ایک سائنسداں تھا۔ صرف سائنسداں نہیں بلکہ ایک ایسا انسان جس کیلئے علم محض جاننے کا ذریعہ نہیں بلکہ قابو پانے کا ایک طریقہ تھا۔ وہ دنیا کو سمجھنا نہیں، اسے درست کرنا چاہتا تھا، اسے مکمل بنانا چاہتا تھا، جیسے فطرت ایک ادھورا مسودہ ہو جسے وہ اپنی مرضی سے مکمل کر سکتا ہو۔ اس کی زندگی تجربات، کیمیائی مرکبات اور ان سوالات کے گرد گھومتی تھی جن کے جواب اکثر دوسرے لوگ تلاش کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔ 
وہ اپنی تجربہ گاہ میں گھنٹوں بند رہتا، ایسی چیزوں پر کام کرتا جو کبھی کامیاب ہوتیں، کبھی ناکام، مگر ہر ناکامی اس کیلئے ایک قدم تھی، ایک ایسا قدم جو اسے اس تصور کے قریب لے جا رہا تھا جسے وہ ’’کمال‘‘ کہتا تھا۔ پھر اس کی زندگی میں جارجیانا آئی۔ 
وہ خوبصورت تھی۔ اس کی خوبصورتی اس قسم کی نہیں تھی جسے لفظوں میں آسانی سے بیان کیا جا سکے۔ اس کے چہرے پر نرمی، سادگی اور ایک ایسی معصومیت جو اسے دیکھنے والوں کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔ مگر اس کے چہرے پر ایک نشان بھی تھا۔ ایک چھوٹا سا پیدائشی نشان جو اس کے گال پر تھا۔ ایک ہلکی سی سرخی کی شکل میں۔ یہ نشان اس کی خوبصورتی کا حصہ بھی تھا اور اس کی کمی بھی۔ کچھ لوگ اسے دیکھ کر کہتے کہ یہی نشان اسے منفرد بناتا ہے۔ اس کے بغیر وہ ایک عام لڑکی ہوتی۔ کچھ لوگ اسے ایک خامی سمجھتے، ایک ایسی چیز جو اس کے چہرے کی مکمل ہم آہنگی کو توڑ دیتی ہے۔ ایل مر کا تعلق دوسری قسم کے لوگوں سے تھا۔ شروع میں اس نے نشان پر زیادہ غور نہیں کیا، یا شاید اس نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ اس سے محبت کرتا تھا۔ اور محبت اکثر ان چیزوں کو چھپا دیتی ہے جو بعد میں نمایاں ہو جاتی ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ نشان اس کے ذہن میں جگہ بنانے لگا۔ پہلے یہ محض ایک خیال تھا، ایک ہلکی سی توجہ مگر آہستہ آہستہ یہ ایک سوال بن گیا۔ اور پھر ایک مسئلہ۔ 
وہ جارجیانا کو دیکھتا، اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوتا مگر اسی لمحے اس کی نظر اس نشان پر ٹھہر جاتی۔ یہ ٹھہراؤ مختصر ہوتا لیکن بار بار ہوتا، اور ہر بار اس کے اندر ایک بے چینی پیدا کر دیتا۔ وہ سوچتا کہ اگر یہ نشان نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ کیا وہ مکمل ہوتی؟ کیا وہ اس تصور کے قریب ہوتی جسے وہ ’’کمال‘‘ سمجھتا تھا؟ یہ سوال اس کے ذہن میں بار بار آنے لگا۔ اور ہر بار اس کا جواب ایک ہی تھا۔ ہاں۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: کیڑا

یہ نشان ایک نقص تھا۔ ایک ایسا نقص جسے دور کیا جا سکتا تھا۔ اور اگر دور کیا جا سکتا تھا، تو کیوں نہ کیا جائے؟ یہ وہ لمحہ تھا جہاں محبت اور کمال کی خواہش ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے تھے۔ ایک دن اس نے جارجیانا سے اس کے بارے میں بات کی۔ 
’’کیا تم نے کبھی سوچا ہے...‘‘ اس نے آہستہ سے کہا، ’’کہ اگر یہ نشان نہ ہوتا تو تم کیسی نظر آتیں ؟‘‘
جارجیانا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ایل مر کو دیکھا۔ ’’یہ نشان...‘‘ اس نے اپنے گال کو چھوتے ہوئے کہا، ’’یہ ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے۔ میں نے کبھی اسے الگ کر کے نہیں دیکھا۔ ‘‘ تبھی اس نے ایل مر کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دیکھی۔ یہ محبت کی چمک نہیں تھی۔ کچھ اور تھا۔ ’’میں اسے ختم کر سکتا ہوں ‘‘، اس نے کہا۔ اس سادہ جملے میں ایک فیصلہ چھپا ہوا تھا۔ جارجیانا کچھ لمحوں تک خاموش رہی۔ 
’’کیا یہ ضروری ہے؟‘‘ اس نے آہستہ سے پوچھا۔ 
 یہ سوال سادہ تھا۔ ایل مر نے جواب نہیں دیا لیکن اس دن کے بعد سے کچھ بدل گیا۔ جارجیانا نے محسوس کیا کہ ایل مر میں تبدیلی ہوئی ہے۔ یہ بے چینی اس نشان کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس نظر کی وجہ سے تھی جس سے ایل مر اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ نظر بدل گئی تھی۔ پہلے اس میں محبت تھی، ایک سادہ سی قبولیت لیکن اب اس میں ایک تجزیہ شامل ہو گیا تھا، جیسے وہ اسے ایک ایک مسئلے کے طور پر دیکھ رہا ہو جسے حل کیا جا سکتا ہے۔ 
اب وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی اور اپنے چہرے کو دیکھتی۔ پہلے وہ خود کو دیکھتی تھی، اپنی آنکھوں کو، اپنے ہونٹوں کو، اپنی مسکراہٹ کو۔ اب اس کی نظر سیدھی اس نشان پر جا ٹھہرتی۔ وہ اسے چھوتی، جیسے وہ اسے پہلی بار محسوس کر رہی ہو۔ اور ہر بار اسے ایسا لگتا کہ یہ نشان پہلے سے زیادہ واضح ہو گیا ہے، جیسے وہ اس کی خوبصورتی پر حاوی ہو رہا ہو۔ یہ حقیقت نہیں صرف ایک احساس تھا مگر یہی احساس اس کے اندر جڑ پکڑنے لگا۔ ایل مر کی باتیں بھی بدلنے لگیں۔ وہ اب اس نشان کا ذکر زیادہ کرتا تھا، کبھی ہلکے انداز میں، کبھی سنجیدگی سے، اور کبھی ایسے جیسے وہ خود سے بات کر رہا ہو۔ وہ اس کے سامنے بیٹھ کر اس کے چہرے کو دیکھتا، اور اس کی آنکھوں میں وہی چمک آ جاتی جو اس کے تجربات کے دوران ہوتی تھی۔ 
’’یہ ایک دلچسپ مثال ہے...‘‘ وہ کہتا، ’’فطرت کی ایک چھوٹی سی غلطی... ایک ایسا نشان جو مکمل ہم آہنگی کو توڑ دیتا ہے...‘‘ یہ الفاظ سائنسی تھے مگر ان کے اثرات ذاتی تھے۔ جارجیانا انہیں سنتی اور ہر بار اس کے اندر ایک نئی بے چینی پیدا ہوتی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے چاہتا ہے لیکن اب اسے یہ بھی محسوس ہونے لگا تھا کہ محبت میں ایک شرط بھی شامل ہو گئی ہے۔ اور وہ شرط یہی نشان تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی نظموں کا اردو ترجمہ: بے رحم مخلوق

ایک رات جب وہ دونوں ساتھ بیٹھے تھے جارجیانا نے آہستہ سے کہا کہ ’’اگر یہ نشان اتنا ہی برا ہے ... تو تم نے مجھ سے شادی کیوں کی؟‘‘ 
ایل مر کچھ لمحوں کیلئے خاموش ہو گیا۔ وہ اس سوال کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ ’’میں تم سے محبت کرتا ہوں ...‘‘ اس نے کہا، ’’اور یہی وجہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم مکمل ہو جاؤ...‘‘ یہ جواب سننے میں خوبصورت تھا مگر اس میں ایک خطرناک خیال چھپا ہوا تھا۔ جارجیانا نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ سکون نہیں تھا جو پہلے تھا۔ ’’اور اگر میں مکمل نہ ہو سکی؟‘‘ اس نے آہستہ سے پوچھا۔ ایل مر نے فوراً جواب نہیں دیا لیکن اس کی خاموشی ہی اس سوال کا جواب تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں جارجیانا کے اندر خوف نے جنم لیا۔ یہ خوف نشان کا نہیں بلکہ اس بات کا تھا کہ وہ کافی نہیں ہے۔ کہ وہ جیسی ہے، ویسی قبول نہیں کی جا سکتی۔ اور یہی خوف آہستہ آہستہ اس کے فیصلوں کو متاثر کرنے لگا۔ 
ایل مر نے اپنی تجربہ گاہ میں کام شروع کر دیا۔ وہ پہلے سے زیادہ وقت وہاں گزارنے لگا۔ اس کے تجربات اب صرف علم کیلئے نہیں بلکہ ایک مقصد کیلئے تھے۔ وہ اس نشان کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ وہ مختلف مرکبات تیار کرتا، نوٹس لکھتا، اور بار بار اپنے طریقوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا۔ اس کیلئے یہ ایک چیلنج تھا۔ ایک ایسا چیلنج جو اس کے علم، اس کی صلاحیت، اور اس کے تصورِ کمال کو ثابت کر سکتا تھا۔ مگر اس چیلنج کے درمیان ایک انسان تھا۔ جارجیانا، جو اَب آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے چہرے کو دیکھتی تھی اور ہر بار ذہن میں وہی سوال گونج اٹھتا:کیا مَیں مکمل ہوں ؟ اور آہستہ آہستہ، اس کا جواب بدلنے لگا۔ 
ایل مر کی تجربہ گاہ میں بالکل دنیا آباد تھی۔ دیواروں پر عجیب و غریب آلات لٹکے ہوئے تھے، شیشے کی بوتلوں میں مختلف رنگوں کے محلول تھے، اور میزوں پر ایسے اوزار بکھرے تھے جن کا مقصد عام انسان کی سمجھ سے باہر تھا۔ یہ جگہ محض ایک کمرہ نہیں تھی بلکہ ایل مر کے ذہن کی توسیع تھی۔ یہاں وہ خود کو سب سے زیادہ مکمل محسوس کرتا تھا۔ اور یہی وہ جگہ تھی جہاں وہ جارجیانا کو لے آیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں جارجیانا اس کے تجربے کا حصہ بننے جا رہی تھی۔ جارجیانا جب اس کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی آنکھوں میں حیرت اور خوف تھا۔ 
ایل مر کے چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان تھا۔ یہ وہی اطمینان تھا جو اسے اس وقت محسوس ہوتا تھا جب وہ کسی تجربے کے قریب ہوتا تھا۔ 
’’یہ وہ جگہ ہے جہاں سب کچھ ممکن ہے، ‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔ اس کے الفاظ میں یقین تھا۔ اس یقین میں ایسی شدت تھی جو کسی اور کیلئے خطرناک ہو سکتی تھی۔ کمرے میں ایک اور شخص بھی تھا۔ امیناڈاب۔ وہ ایل مر کا معاون تھا۔ اس کا جسم مضبوط تھا، ہاتھ کھردرے تھے، اور چہرے پر ایک سادہ سا تاثر تھا۔ وہ زیادہ نہیں بولتا تھا لیکن اس کی موجودگی کمرے میں ایک عجیب سا توازن پیدا کرتی تھی۔ جب ایل مر کچھ کہتا تو امیناڈاب خاموشی سے سنتا۔ کبھی کبھار اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آجاتی، جیسے وہ کچھ ایسا سمجھ رہا ہو جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جارجیانا نے جب اسے دیکھا تو اسے محسوس ہوا کہ شاید تجربہ گاہ میں یہی ایک شخص ہے جو اسے ایک انسان کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ لیکن یہ احساس بھی عارضی تھا کیونکہ اس کا مرکز اب ایل مر تھا۔ اور اس کی نظریں اب بھی اس کے چہرے پر تھیں۔ اس نشان پر۔ 
’’کیا تم تیار ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکا فنکار

جارجیانا نے کچھ لمحوں کیلئے کچھ نہیں کہا۔ اس کے ذہن میں کئی خیالات آئے۔ خوف، شک، اور ایک ہلکی سی امید لیکن ان سب کے درمیان ایک اور احساس بھی تھا۔ اعتماد۔ یا شاید محبت۔ یا شاید دونوں ایک ساتھ۔ 
’’اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ ممکن ہے...‘‘ اس نے آہستہ سے کہا، ’’تو میں تیار ہوں۔ ‘‘ یہ جملہ ایک سپردگی تھا۔ 
ایل مر کے چہرے پر چمک آ گئی۔ وہ فوراً اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ اس نے شیشے کی بوتلیں اٹھائیں، مختلف محلول ملائے، اور ایک ایسا مرکب تیار کرنے لگا جس کے بارے میں وہ یقین رکھتا تھا کہ یہ اس نشان کو ختم کر سکتا ہے۔ اس کے ہاتھوں کی حرکت میں تیزی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ یا کم از کم وہ یہی سمجھتا تھا۔ 
جارجیانا ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، مگر اس کے چہرے پر ایک سکون تھا۔ ایل مر اس کے پاس آیا، اور اس نے ایک چھوٹا سا شیشہ اس کے سامنے رکھا۔ ’’آخری بار دیکھ لو، ‘‘ اس نے کہا۔ 
جارجیانا نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ اس کی نظر سیدھا اس نشان پر گئی۔ وہ ویسا ہی تھا۔ چھوٹا سا، سرخی مائل جیسے ہمیشہ سے تھا۔ مگر آج وہ مختلف محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے یہ صرف ایک نشان نہیں بلکہ ایک فیصلہ ہو۔ 
اس نے آہستہ سے کہا، ’’مجھے اس سے نجات دلا دو...‘‘ یہ صرف ایک خواہش نہیں، قبولیت تھی۔ 
ایل مر نے سر ہلایا۔ اور پھر اس نے وہ مرکب تیار کیا۔ ایک چھوٹا سا شیشی نما پیالہ، جس میں ایک ہلکی سی روشنی جھلک رہی تھی۔ یہ اس کے تجربے کا نتیجہ تھا۔ یہ اس کے یقین کا اظہار تھا۔ اس نے اسے جارجیانا کے سامنے رکھا۔ ’’یہ پی لو‘‘، اس نے کہا۔ جارجیانا نے ایک لمحے کیلئے اس کی طرف دیکھا۔ پھر اس نے شیشی اٹھائی، اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے پی لیا۔ یہ لمحہ خاموش تھا۔ مگر اس خاموشی میں ایک ایسا فیصلہ شامل تھا جو اب واپس نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے بعد اس نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے وہ خود کو ایک ایسے لمحے کے حوالے کر رہی ہو جس کا انجام وہ جانتی بھی تھی اور نہیں بھی۔ کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی، وہ خاموشی جو اکثر کسی بڑے واقعے سے پہلے پیدا ہوتی ہے۔ 
ایل مر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کی نظریں جارجیانا کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کیلئے یہ محض ایک تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا موقع تھا جہاں وہ اپنے تصورِ کمال کو حقیقت میں بدلنے کے قریب تھا۔ 
چند لمحے گزرے۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ 
پھر آہستہ آہستہ جارجیانا کی سانسوں میں تبدیلی آئی۔ وہ پہلے سے زیادہ گہری ہو گئیں، جیسے اس کے جسم میں کوئی عمل شروع ہو چکا ہو۔ اس کے چہرے کی رنگت بدلنے لگی، اور اس کی آنکھوں کے گرد ایک نرم سی تھکن پھیل گئی۔ ایل مر نے آگے بڑھ کر اس کی نبض کو محسوس کیا۔ وہ مستحکم تھی۔ ایل مر مطمئن ہوگیا۔ 
’’یہ کام کر رہا ہے...‘‘ اس نے خود سے کہا۔ 
اسی دوران جارجیانا نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں۔ ’’مجھے ہلکا محسوس ہو رہا ہے...‘‘ اس نے مدھم آواز میں کہا۔ یہ الفاظ سادہ تھے۔ یہ صرف جسمانی ہلکا پن نہیں تھا بلکہ جیسے وہ کسی بوجھ سے آزاد ہو رہی ہو، ایک ایسا بوجھ جو شاید صرف اس کے چہرے پر نہیں بلکہ اس کے وجود پر بھی تھا۔ 
ایل مر نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اسی لمحے اس کی آنکھوں میں ایک چمک آ گئی۔ وہ نشان... مدھم ہو رہا تھا۔ وہ جو سرخی مائل نشان اس کے گال پر ہمیشہ نمایاں رہتا تھا، اب آہستہ آہستہ ہلکا پڑنے لگا تھا۔ اس کی سرخی کم ہو رہی تھی، اس کی شکل دھندلی ہو رہی تھی، جیسے وہ آہستہ آہستہ مٹ رہا ہو۔ 
یہ وہ لمحہ تھا جس کا ایل مر نے خواب دیکھا تھا۔ یہ وہ کامیابی تھی جس کیلئے اس نے سب کچھ کیا تھا۔ 
’’دیکھو...‘‘ اس نے بے اختیار کہا، ’’یہ ختم ہو رہا ہے... تم مکمل ہو رہی ہو...‘‘
اس کی آواز میں خوشی تھی، مگر اس خوشی میں ایک ایسی شدت بھی تھی جو شاید اس لمحے کے مکمل معنی کو سمجھنے سے روکتی تھی۔ جارجیانا نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: اوور کوٹ

’’کیا واقعی؟‘‘ اس نے آہستہ سے پوچھا۔ 
ایل مر نے سر ہلایا، اس کی نظریں اب بھی اس نشان پر جمی ہوئی تھیں جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید دھندلا ہو رہا تھا۔ مگر اسی لمحے ایک اور تبدیلی بھی شروع ہو چکی تھی۔ جارجیانا کی سانسیں آہستہ ہونے لگیں۔ اس کی آنکھوں میں وہ روشنی جو کچھ دیر پہلے تھی، اب مدھم ہونے لگی۔ ایل مر نے یہ محسوس کیا، مگر اس نے فوراً اسے خطرہ نہیں سمجھا۔ اس کے ذہن میں اب بھی وہی ایک خیال تھا۔ کامیابی۔ وہ نشان تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ صرف ایک ہلکی سی جھلک باقی تھی، جیسے وہ آخری بار اپنی موجودگی کا اظہار کر رہا ہو۔ 
اور پھر... وہ بھی ختم ہو گیا۔ جارجیانا کا چہرہ اب مکمل تھا۔ بے عیب۔ وہ ویسی تھی جیسا ایل مر چاہتا تھا۔ مگر اسی لمحے اس کی سانس رکنے لگی۔ ایل مر کے چہرے کا تاثر بدل گیا۔ وہ جھکا، اس نے اس کا ہاتھ تھاما۔ ’’جارجیانا...‘‘ اس نے کہا، اس کی آواز میں اب پہلی بار گھبراہٹ تھی۔ جارجیانا نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ اس کی نگاہ اب پہلے سے مختلف تھی۔ اس میں ایک عجیب سا سکون تھا، ایک ایسا سکون جو اکثر ان لوگوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے جو کسی آخری سچ کو قبول کر چکے ہوں۔ 
’’میں نے ہمیشہ تم پر یقین کیا...‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ یہ الفاظ نرم تھے، مگر ان کے اندر ایک گہرائی تھی۔ ’’مگر شاید... کمال پر انسان کا بس نہیں ...‘‘ یہ اس کا آخری جملہ تھا۔ 
اس کے بعد اس کی آنکھیں آہستہ سے بند ہو گئیں، اور اس کی سانس رک گئی۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ایل مر وہیں کھڑا تھا، اس کا ہاتھ ابھی بھی جارجیانا کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ وہ واقعی مکمل تھی۔ بے عیب۔ مگر اب وہ زندہ نہیں تھی۔ اسی لمحے امیناڈاب کی ہلکی سی آواز سنائی دی۔ وہ خاموشی سے کھڑا تھا، اور اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی، جیسے وہ وہ سچ دیکھ رہا ہو جو ایل مر نہیں دیکھ سکا۔ 
ایل مر نے کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف دیکھتا رہا۔ اور شاید پہلی بار اسے یہ احساس ہوا کہ اس نے کیا کھو دیا ہے۔ کہ اس نے کمال کے پیچھے بھاگتے ہوئے زندگی کو ہی کھو دیا۔ اور یہ کہ کچھ چیزیں ...جیسی ہوتی ہیں، ویسی ہی مکمل ہوتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK