Updated: April 25, 2026, 6:04 PM IST
| Mumbai
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک واقعے نے اس وقت توجہ حاصل کی جب ممبئی کی ایک خاتون نے احتجاج کے دوران ٹریفک میں رکاوٹ پر سوال اٹھایا۔ اس معاملے میں اداکارہ کنیکا سدانند نے خاتون کی قانونی حمایت کی پیشکش کی، تاہم پولیس نے ایف آئی آر سے متعلق خبروں کو غلط قرار دیا۔
کنیکا سدانند۔ تصویر: آئی این این
اداکارہ کنیکا سدانند، جنہوں نے ’’بگ باس۱۹‘‘ کے ذریعے واپسی کی ہے، نے حال ہی میں ایک ممبئی خاتون کی حمایت میں قدم بڑھایا ہے جو ایک احتجاج کے دوران ٹریفک میں رکاوٹوں پر گریش مہاجن سے سوال کرنے کی وجہ سے وائرل ہوگئی تھیں۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر اس وقت مقبول ہوا جب خاتون کو موقع پر موجود حکام اور منتظمین سے بے خوفی کے ساتھ صورتحال پر سوال کرتے اور بحث کرتے دیکھا گیا۔ اس جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر اس خاتون کے خلاف ایک شکایت درج کرائی گئی۔ اس پر کنیکا سدانند، جو پیشہ ور وکیل بھی ہیں، نے اس خاتون کو قانونی مدد کی پیشکش کی اور ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے عوامی مشکلات اور جوابدہی کے مسائل کو اجاگر کیا۔
اداکارہ نےایکس پر لکھا’’اگر کسی کو یہ بہادر خاتون معلوم ہو تو براہِ کرم انہیں بتائیں کہ میں بطور وکیل اپنی خدمات ان کیلئے پیش کرتی ہوں۔ اگر ضرورت پڑی تو میں ان کا کیس عدالت میں لڑوں گی۔ براہِ کرم مجھے ڈی ایم کریں۔‘‘
حقیقتِ حال (شکایت کی حقیقت)
ویڈیوز کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ممبئی پولیس نے وضاحت کی کہ یہ خبر غلط ہے اور اس خاتون کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ ممبئی پولیس نے’’ایکس‘‘ پر لکھا:’’اس خاتون کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ ہم درخواست کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے پہلے سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں اور غلط معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔ ‘‘
معاملہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریاست کی حکمران مہایوتی اتحاد کے احتجاج کی وجہ سے ورلی علاقے میں ٹریفک جام ہو گیا تھا۔ دراصل اس سے قبل یہ احتجاج جمبوری میدان میں ہونا تھا۔ اطلاعات کے مطابق عورت اپنی گاڑی سے اتری اور اسے ریاستی وزیر مہاجن اور پولیس اہلکاروں سے کہتے ہوئے سنا گیا کہ وہ سڑک بلاک نہ کریں اور احتجاج کسی میدان میں کریں۔ بعد ازاں عورت، جس کی شناخت واضح نہیں ہے، نے کہا کہ وہ ٹریفک میں پھنس گئی تھی اور اسے اپنے بچے کو لینے جانا تھا۔ اس نے پولیس افسر کو بتایا کہ وہ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت سے ٹریفک کھلنے کا انتظار کر رہی تھی۔ تاہم، جب مہاجن نے اسے پرسکون رہنے کو کہا تو عورت نے ان سے کہا کہ’’یہاں سے نکل جائیں۔ آپ کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’یہاں سیکڑوں لوگ انتظار کر رہے ہیں۔ وہاں ایک خالی میدان پڑا ہے۔ ‘‘اس کے بعد اس نے پولیس سے ٹریفک کلیئر کرنے کو کہا۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی: بی جے پی لیڈر سے تکرار کرنے والی خاتون کے خلاف شکایت درج
یاد رہے کہ اگست میں مہاراشٹر حکومت نے جنوبی ممبئی میں آزاد میدان کو تمام احتجاج کے لیے واحد مقام قرار دیا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس عورت کی تعریف کی تھی۔ بدھ کو مہاجن نے کہا کہ عورت غلط نہیں تھی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس طرح کا احتجاجی مارچ، چاہے منتظم کوئی بھی ہو، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ضروری ہے، کسی بھی احتجاج میں کچھ نہ کچھ تکلیف ناگزیر ہے۔ ‘‘ جس کا مطلب ہے کہ سڑک کا بند ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’پھر بھی، غصے کا اظہار کرنے کا ایک مناسب طریقہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ استعمال کی گئی زبان نامناسب تھی۔ ‘‘