• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امیر اسکول، غریب اسکول

Updated: February 15, 2026, 1:59 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

انڈین انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک (این آئی آر ایف) سرکاری ادارہ ہے جو ملک بھر کی ڈھائی ہزار درس گاہوں (اسکولوں کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی اس میں شامل ہیں ) کا جائزہ لے کر اُن کی درجہ بندی کرتا ہے۔ وزارت تعلیم کے زیر اہتمام یہ ادارہ ۲۰۱۵ء میں قائم کیاگیا تھا۔

INN
آئی این این
  انڈین انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک (این آئی آر ایف) سرکاری ادارہ ہے جو ملک بھر کی ڈھائی ہزار درس گاہوں  (اسکولوں  کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی اس میں  شامل ہیں ) کا جائزہ لے کر اُن کی درجہ بندی کرتا ہے۔ وزارت تعلیم کے زیر اہتمام یہ ادارہ ۲۰۱۵ء میں  قائم کیاگیا تھا۔ حال ہی میں  اس نے ملک بھر کے دس اسکولوں  کو معیارِ تعلیم، طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور طلبہ میں  ہمہ جہتی صلاحیت پیدا کرنے کا کئی سال کا ریکارڈ سامنے رکھ کر۱۰؍ اسکولوں  کو بہترین قرار دیا ہے۔ ’’ٹاپ ٹین‘‘ میں  ممبئی کے چار، دہلی کے چار، جے پور کا ایک اور بنگلورو کا ایک اسکول ہے جن کے نام ہیں : دہلی پبلک اسکول (شمالی بنگلورو)، بامبے اسکاٹش اسکول (ماہم، ممبئی)، سینٹ زیویئرس سینئر سیکنڈری اسکول (دہلی)، کیتھڈرل اینڈ جان کینن اسکول (ممبئی)، سلوان پبلک اسکول (دہلی، سینٹ زیویئرس سیکنڈری اسکول (جے پور)، ماڈرن اسکول (بارہ کھمبا روڈ، دہلی)، آر این پوددار اسکول (ممبئی)، بال بھارتی پبلک اسکول (دہلی) اور سینٹ میریز اسکول (ممبئی)۔ ہم یہ نہیں  جان سکے کہ مذکورہ ادارہ (این آئی آر ایف) کے پیش نظر کون سے معیارات ہوتے ہیں  جن پر اسکولوں  کو پرکھا جاتا ہے اس لئے یہ نہیں  کہہ سکتے کہ ادارے نے اسکولوں  میں  داخلے کی شرطوں  کا بھی کوئی کالم رکھا ہے یا نہیں ۔ 
ہماری نظر میں  یہ اس لئے ضروری ہے کہ اگر بہت اچھے گھروں  کے طلبہ ہی کو داخلہ دیا جاتا ہے تو اچھے نتائج ہی نہیں  بہت کچھ اچھا ہونے کا روشن امکان رہتا ہے۔ ان کے مقابلے میں  کچی بستیوں  کے اسکولوں  میں  نہایت غریب گھرانوں  کے بچے آتے ہیں ۔ سیکنڈری اسکولوں  میں  بہت سے بچے ایسے بھی ہوتے ہیں  جو اسکول کے اوقات کے بعد روزی روٹی کی تگ و دو کرتے ہیں ۔ اِن کو تعلیم کے اعلیٰ معیار پر لانے سے پہلے اساتذہ کو اُن کے معیار پر اُتر کر سکھانا اور سمجھانا ہوتا ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں  کہ یہ اساتذہ کسی بڑے اور مشہور اسکول کے اساتذہ سے زیادہ محنت کرتے ہیں ۔ چونکہ یہ طلبہ زیادہ فیس ادا نہیں  کرپاتے اس لئے اسکولوں  کو ہمیشہ سرمائے کی قلت کا سامنا رہتا ہے۔ یہ مشکل بڑے اسکولوں  اور مشہور اسکولوں  کے سامنے نہیں  رہتی۔ اسی لئے ٹیئر وَن شہر (مثلاً ممبئی، دہلی، بنگلورو، پونے)، ٹیئر ٹو شہر (مثلاً چنڈی گڑھ، لکھنؤ، جے پور اور سورت جیسے شہر) اور ٹیئر تھری شہر ( مثلاً اٹاوہ، رڑکی، روہتک، میرٹھ، متھرا، ناسک، اکولہ)کے اسکولوں  کی علاحدہ علاحدہ درجہ بندی ہو۔ اسی طرح بڑے چھوٹے ہر شہر کے پاش اور پسماندہ علاقوں  کے اسکولوں  کی بھی علاحدہ درجہ بندی ہوتبھی منصفانہ فہرست بن سکی ہے۔ 
پسماندہ علاقوں  کے بچوں  بالخصوص لڑکوں  کا اسکول آجانا ہی بڑی بات ہوتا ہے کیونکہ انہیں  نہ تو والدین کی طرف سے کوئی خاص ترغیب ملتی ہے نہ ہی معاشرہ اُن کی فکر کرتا ہے۔ یہ بچے اسکول پہنچ جائیں  تب بھی اس کی ضمانت نہیں  مل سکتی کہ وہ اسکولی تعلیم مکمل کرکے ہی وہاں  سے نکلیں  گے۔ ڈراپ آؤٹ کا مسئلہ زیادہ تر انہی علاقوں  کا ہے۔ ا س لئے، حکومت اور اس کے اداروں  کو انہی علاقوں  کے طلبہ اور اسکولوں  پر خاص توجہ دینی چاہئے۔ سال کی ابتداء میں  تعلیمی وسائل کی فراہمی اور مڈڈے میل جیسی اسکیمیں  اچھی ہیں  مگر یہ طلبہ اس سے زیادہ کے حقدار ہیں ۔ ان میں  یہ احساس پیدا کیا جانا چاہئے کہ وہ بھی پڑھ سکتے ہیں ، آگے بڑھ سکتے ہیں ۔
education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK