• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماہِ رمضان ؛  پڑھائی کے ساتھ صحت بھی اہم، طلبہ کا معمول کیا ہو؟

Updated: February 13, 2026, 11:10 AM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

اگلے ہفتے رمضان المبارک کا آغاز ہوگا، طلبہ کو ابھی سے اپنا ٹائم ٹیبل بنا لینا چاہئے تاکہ عبادت، آرام اور امتحان کی تیاری کے درمیان متوازن نظم قائم رکھا جا سکے۔ اس ماہ ذہنی یکسوئی اور توانائی ضروری ہے۔

Iftar should consist of light and balanced meals, such as dates, fruits, salads, lentils and vegetables, while it is better to avoid fried and high-fat foods. Photo: INN
افطار میں ہلکی اور متوازن غذا استعمال کرنی چاہئے، جیسے کھجور، پھل، سلاد، دال اور سبزی جبکہ تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی والی اشیاء سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک ایک بابرکت اور روحانی مہینے کے ساتھ طلبہ کیلئے امتحانات کی تیاری کا اہم وقت بھی ہے، خصوصاً جب دسویں، بارہویں اور پنجم تا نہم کے امتحانات اسی مہینے میں ہوں، یا اس کے فوراً بعد شروع ہونے والے ہوں۔ روزے کی حالت میں جسمانی کمزوری، نیند کی کمی اور معمولاتِ زندگی میں تبدیلی طلبہ کی صحت اور توجہ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ طلبہ متوازن غذا، مناسب آرام اور منظم مطالعہ کا خاص اہتمام کریں۔ سحری اور افطار میں صحت بخش غذاؤں کا انتخاب انہیں توانائی فراہم کرے گا جبکہ غیر ضروری مصروفیات سے پرہیز وقت کی بچت میں مدد دے گا۔ اسی طرح ایک موثر ٹائم ٹیبل بنا کر پڑھائی کرنے سے ذہنی دباؤ کم ہوگا اور تیاری بہتر انداز میں ہو سکے گی۔ رمضان میں کیا کھائیں اور کیا نہیں اور پڑھائی کا ٹائم ٹیبل کیسے بنائیں؟

آپ نے روزہ رکھا ہے، یہ غلطیاں نہ کریں

غلطیاں

اگر بھوک لگی تو پڑھائی کرنا مشکل ہوگا۔ اس سے ذہن کمزور ہوتا ہے۔
روزہ کی حالت میں گھنٹوں پڑھائی ۔ 
جسمانی توانائی کو نظر انداز کرنا۔
سحری نہ کرنا، یا، سحری میں تلی ہوئی اشیاء کھالینا، یا، پیٹ بھر سحری کرلینا۔
افطار سے سحری کے درمیان چائے یا کافی کا حد سے زیادہ استعمال۔
سحری کرتے ہی سوجانا۔
پڑھائی کرنے کیلئے نیند کو یکسر نظر انداز کر دینا، یا، چند گھنٹوں سونا۔
صرف رات میں پڑھائی کرنا۔
آرام کے وقت موبائل فون کا استعمال۔
پڑھائی کے دوران مختلف کام کرنا۔
نصاب مکمل کرنے کی دھن میں اعادہ بھول جانا، یا، اسے نظر انداز کردینا۔
افطار میں زیادہ کھالینا۔
اپنی طاقت نہ سمجھ پانا۔

حل

رمضان میں بھوک عارضی ہوتی ہے جس سے ذہن کمزور نہیں ہوتا۔ 
۴۰؍ منٹ پڑھائی، ۱۰؍ منٹ وقفہ۔
افطار سے سحری، ۷؍ گلاس پانی پئیں۔
سحری میں دلیہ، جو، گندم کی روٹی، انڈا، دال، دہی اور پانی شامل کریں۔
چائے یا کافی ایک یا دو کپ۔ہربل ٹی یا نیم گرم پانی بہتر متبادل ہے۔
سحری کے بعد ۲۰؍ منٹ جاگیں۔
۲۴؍ گھنٹوں میں ۶؍ سے ۷؍ گھنٹے کی نیند ضروری ہے۔ 
فجر کے بعد کا وقت مؤثر ہوتا ہے۔
موبائل کیلئے صرف ۲۰؍ منٹ ۔
ایک وقت میں ایک کام کریں۔ 
۷۰؍ فیصد وقت نئے اسباق کیلئے، ۳۰؍ فیصد وقت اعادہ کیلئے مقرر کریں۔
افطار میں ہلکی چیزیں کھائیں۔ 
اپنی توانائی کا صحیح وقت پہچانیں۔

یہ بھی پڑھئے: بورڈ اِگزام آگئے، کیا آپ امتحان کو شکست دینے کیلئے تیار ہیں؟

کیا کھائیں؟

سحری کیلئے بہترین غذائیں
جو کا دلیہ (Oats) دیر تک پیٹ بھرا رکھتا ہے اورفائبر سے بھرپور ہوتا ہے۔
انڈے (اُبلے ہوئے یا آملیٹ) پروٹین کا بہترین ذریعہ ہیں ، دن بھر توانائی رہتی ہے۔
چپاتی روٹی یا براؤن بریڈ کا استعمال بہتر ہوسکتا ہے۔یہ دیر تک بھوک نہیں لگنے دیتے۔
دہی معدے کیلئے مفید ہوتا ہے اور جسم میں پانی کی کمی کم کرتا ہے۔
دود ھ کیلشیم اور پروٹین کا اچھا ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔یہ کمزوری سے بچاتا ہے۔
کیلا، سیب، کھجور اور خشک میوہ جات بھی روزہ کی حالت میں طاقت فراہم کرتے ہیں۔
افطار کیلئے بہترین غذائیں
کھجور فوری توانائی دیتاہے۔
لیموں پانی ، پانی کی کمی پوری کرتا ہے۔
فروٹ چاٹ منرلز سے بھرپور ہوتے ہیں۔
سبزیوں کا سوپ ہلکا اور مفیدہوتا ہے۔
سلاد (کھیرا، ٹماٹر)ہاضمہ بہتر کرتا ہے۔

کیا نہ کھائیں؟

زیادہ تلی ہوئی اشیاء (سموسے، پکوڑے، فرائز)سستی پیدا کرتی ہیں۔
بہت زیادہ مسالے اور مرچ والی غذا تیزابیت اور معدے کی جلن کا سبب بنتی ہے۔
سافٹ ڈرنکس اور کولڈ ڈرنکس گیس اور شوگر کی زیادتی کا باعث بنتے ہیں۔
بہت زیادہ میٹھی اشیاء (جلیبی، گلاب جامن، کیک وغیرہ)شوگر لیول بڑھاتے ہیں اور وزن میں اضافہ کرتے ہیں۔
فاسٹ فوڈ (برگر اور پیزا وغیرہ)بھاری اور چکنائی سے بھرپور ہوتے ہیں۔
چائے اور کافی جسم میں پانی کی کمی اور پیاس بڑھاتی ہیں۔سحری میں یا افطار بعد پئیں۔
باسی یا دیر سے رکھی ہوئی غذافوڈ پوائزننگ اور معدے کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
بہت زیادہ میدہ والی اشیاءجیسے نان، سفید بریڈ اور پیسٹری نہ کھائیں۔
زیادہ نمک والے اسنیکس (چپس، نمکو) پیاس میں اضافہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مشکل مضامین، آسان مضامین؛ اعادہ کیلئے آزمائیں مختلف تکنیک

رمضان المبارک میں اپنا ٹائم ٹیبل اس طرح ترتیب دے سکتے ہیں

اپنا اسٹڈی کارنر صاف ستھرا رکھیں۔ ذہنی یکسوئی میں اضافہ ہوگا۔ ٹائم ٹیبل پر سختی سے عمل کریں۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک میں کامیابی کا راز گھنٹوں پڑھائی کرنے میں نہیں بلکہ صحیح وقت پر درست مضامین کا انتخاب اور ان کی تیاری ہے۔ روزے کے دوران جسم کی توانائی کا گراف بدل جاتا ہے۔ لہٰذا جسم میںقدرتی توانائی کے اتار چڑھاؤ کو سمجھ کر اپنا شیڈول بنائیں تو پڑھائی میں آسانی ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیا سال، نئی سوچ؛ منفرد عزائم ہی بنا ئینگےآپ کو منفرد!

رمضان میں ایک طالب علم کا ممکنہ ٹائم ٹیبل

فجر کے بعد: پڑھائی کا بہترین وقت 

یہ رمضان کا سب سے طاقتور ’’اسٹڈی وِنڈو‘‘ ہے۔یہ وقت اس لئے موثر ہے کہ نیند پوری ہونے کے بعد دماغ تازہ ہوتا ہے۔ ذہنی سکون میسر ہوتا ہے۔ شور شرابہ نہیں ہوتا۔ ہارمونل توازن بہتر ہوتا ہے، توجہ بہتر ہوتی ہے۔ موبائل، شور، سماجی مصروفیات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔

کون سے مضامین پڑھیں؟ ریاضی، فزکس، اکاؤنٹس، منطقی سوالات، کیمسٹری، پریکٹس پیپر اور نیومریکلز۔

کتنا وقت؟ ۶۰؍ سے ۹۰؍ منٹ یکسوئی کے ساتھ پڑھائی۔ ۴۵؍ منٹ پڑھائی کے بعد ۱۰؍ منٹ کا وقفہ لیں۔ 

دوپہر: آسان مضامین کیلئے بہترین وقت

دوپہر وہ وقت ہے جب جسم آہستہ آہستہ توانائی کھونے لگتا ہے۔ یہ وقت حکمت سے کام لینے کا ہے۔

کیا کریں؟ آسان اسباق کا مطالعہ۔ نوٹس پر نظر ثانی۔ اہم نکات کو ہائی لائٹ کرنا۔ مختصر سوالات کی تیاری۔ خانہ پری والے سوالات۔تعریفیں اور فارمولے یاد کرنا۔

کیا نہ کریں؟ مشکل نیومریکلز، طویل تجزیاتی سوالات، نئے اور مشکل کانسپٹ ۔ اپنی توانائی کا غیر ضروری استعمال۔ جو کام صبح بہتر ہو سکتا ہے، اسے دوپہر میں زبردستی نہ کریں۔

ظہر کے بعد یا عصر سے پہلے سونا: قیلولہ

ایک مختصر نیند کمزوری نہیں، حکمت ہے لیکن اس کا دورانیہ کم سے کم ۲۰؍ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ۴۰؍ منٹ ہو۔

یہ نہ کریں: گہری لمبی نیند۔ بستر پر موبائل فون کا استعمال۔ سوشل میڈیا اسکرولنگ۔ پڑھائی کے متعلق فکرمندی۔

اس سے کیا ہوگا؟ موڈ بہتر رہے گا۔ توجہ کی صلاحیت بہتر ہوگی۔ یادداشت مضبوط ہوگی۔ قیلولہ دماغ کو ’’ری سیٹ‘‘ کرتا ہے، جس سے شام کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔

افطار سے پہلے: حیرت انگیز طور پر مؤثر وقت

بہت سے طلبہ اس وقت کو ضائع کر دیتے ہیں، جبکہ یہ آسان کاموں کیلئے بہترین وقت ہو سکتا ہے۔

اس وقت کیا کریں؟ سبق کا اعادہ۔ فلیش کارڈز دیکھنا۔ اپنا ٹیسٹ لینا (لیکن مختصر دورانیہ کا، مثلاً چند سوالوں کے جواب لکھنا)۔ خلاصہ پڑھنا۔ فارمولے دہرانا۔ 

سائنسداں کہتے ہیں کہ ہلکی بھوک بعض اوقات توجہ کو تیز کرتی ہے بشرطیکہ اس دوران آسان کام کئے جائیں۔ 

کیا نہ کریں؟ نئے باب کی شروعات۔ ذہنی دباؤ والا کام۔

رات: دن ختم ہورہا ہے، مگر پریشانی درست نہیں 

افطار، نماز اور تراویح کے بعد جسم تھک جاتا ہے۔ اس دوران خود کو ہلکان نہ کریں۔ 

یہ وقت یوں استعمال کریں: اعادہ کریں۔ اگلے دن کا شیڈول بنائیں۔ غلطیوں کا جائزہ لیں۔ اہم نکات دہرائیں۔ 

بڑی غلطی: رات میں نئے اور مشکل ابواب شروع کرنا۔ تھکا ہوا دماغ معلومات جذب نہیں کرتا، صرف وقت ضائع کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ملئے ان ۸؍ افراد سے جنہوں نے مصنوعی ذہانت کو ذہانت عطا کی

ٹائم ٹیبل کا ایک نمونہ 

فجر کے بعد: ۹۰؍ منٹ مشکل مضمون کیلئے۔ 

صبح، اسکول/کالج کے بعد: ۶۰؍ منٹ اعادہ کیلئے۔ 

دوپہر: نوٹس ترتیب دینا

قیلولہ: ۲۰؍ سے ۴۰؍ منٹ

افطار سے پہلے: ۴۵؍ منٹ اعادہ کیلئے۔

رات: ۳۰؍ سے ۴۰؍ منٹ آسان مضمون یا جوابات کی تیاری اور اگلے دن کی پلاننگ۔ 

مجموعی نیند: ۶؍ سے ۷؍ گھنٹے (رات کی نیند اور قیلولہ ملا کر) 

ان باتوں کا خیال رکھیں

سحری متوازن ہو۔ افطار معتدل ہو۔ پانی کی مقدار مناسب ہو۔ موبائل فون کا استعمال محدود ہو، دن بھر میں بمشکل ۳۰؍ منٹ۔ روزانہ اعادہ ضرور کریں۔

یہ بھی پڑھئے: The Words That Ruled 2025

صحتمند رہنے کی ۱۰؍ تدابیر

(۱) سحری کبھی نہ چھوڑیں۔

(۲) افطار میں حد سے زیادہ نہ کھائیں۔ تیزابیت ہوگی۔

(۳) روزہ کھجور ہی سے کھولیں۔

(۴) زیادہ شکر اور نمک اپنی غذا کا حصہ نہ بنائیں۔

(۵) ٹائم ٹیبل بنائیں۔

(۶) افطار کے وقت آہستہ آہستہ اور چبا چبا کر کھائیں۔

(۷) ہائیڈریٹ رہیں۔ 

(۸) سحری میں کاربس ، پروٹین اور فائبر والی غذائیں کھائیں۔

(۹) کیفین کا کم استعمال۔

(۱۰) افطار کے بعد کم سے کم ۲۰؍ منٹ چہل قدمی کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK