بورڈ امتحان طلبہ کی تعلیمی زندگی کا نہایت اہم اور نازک موڑ ہوتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں صرف بچے ہی نہیں بلکہ والدین بھی ایک خاص ذہنی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ اُمیدوں کے چراغ، اندیشوں کے سائے، آئندہ کی منصوبہ بندی اور خوابوں کی روشن تصویریں سب کچھ انہی دنوں سے جڑا ہوتا ہے۔
بچوں کے امتحانات کے دوران گھر کا ماحول بھی اہمیت رکھتا ہے۔ تصویر: آئی این این
بورڈ امتحان طلبہ کی تعلیمی زندگی کا نہایت اہم اور نازک موڑ ہوتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں صرف بچے ہی نہیں بلکہ والدین بھی ایک خاص ذہنی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ اُمیدوں کے چراغ، اندیشوں کے سائے، آئندہ کی منصوبہ بندی اور خوابوں کی روشن تصویریں سب کچھ انہی دنوں سے جڑا ہوتا ہے۔ ایسے میں والدین کا کردار محض نگرانی تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ ایک رہبر، مخلص دوست اور حوصلہ بخش ساتھی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اگر والدین درست رہنما اصولوں کو اپنائیں تو یہی مشکل مرحلہ بچوں کیلئے آسان اور ثمر آور ہو سکتا ہے:
سب سے پہلا اصول گھر کے ماحول کو پُرسکون اور سازگار رکھنا ہے۔ امتحانی دنوں میں شور و ہنگامہ، غیر ضروری مصروفیات یا گھریلو کشیدگی بچے کی توجہ کو منتشر کر دیتی ہیں۔ ایک سادہ، منظم اور خاموش ماحول نہ صرف ذہنی سکون فراہم کرتا ہے بلکہ یکسوئی کے ساتھ مطالعہ کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب بچہ خود کو محفوظ، مطمئن اور بے فکر محسوس کرتا ہے تو اسکی کارکردگی میں فطری طور پر نکھار آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان میں وقت برباد کرنیوالی سرگرمیوں سے پیچھا چھڑا لیں
دوسرا، حوصلہ افزائی اور اعتماد کی فضا قائم کرنا۔ اکثر والدین نمبروں اور نتائج پر اس قدر زور دیتے ہیں کہ بچہ انجانے میں دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلسل تنقید اور ڈانٹ کے بجائے چند مثبت جملے اور اعتماد بھرے الفاظ بچے کے دل میں نئی توانائی بھر دیتے ہیں۔ ’’ہمیں تم پر یقین ہے!‘‘ جیسے سادہ مگر پراثر الفاظ اس کیلئے ڈھال بھی بن جاتے ہیں اور طاقت بھی۔ چھوٹی کامیابیوں پر خلوص سے داد دینا اور کمزوریوں پر نرمی سے رہنمائی کرنا اس کے حوصلے کو بلند رکھتا ہے۔
تیسرا اصول صحت کا خیال رکھنا ہے، کیونکہ ایک صحتمند جسم ہی بیدار اور متحرک ذہن کی بنیاد ہوتا ہے۔ امتحان کے دنوں میں نیند کی کمی، بے قاعدہ معمولات اور غیر متوازن غذا ذہنی صلاحیتوں کو ماند کرسکتی ہے۔ والدین کو چاہئے کہ بچوں کے کھانے پینے، مناسب آرام اور مختصر تفریح کا خاص خیال رکھیں۔ تھکا ہوا جسم اکثر ذہنی کارکردگی کو بھی متاثر کر دیتا ہے، اسلئے توازن ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بورڈ امتحانات: کامیابی کے سفر میں ماں کا روشن کردار
ایک اور نہایت ضروری رہنما اصول موازنہ کرنے سے گریز ہے۔ ہر بچہ اپنی صلاحیت، دلچسپی اور رفتار کے اعتبار سے منفرد ہوتا ہے۔ دوسروں سے تقابل اس کے دل میں احساسِ کمتری پیدا کرسکتا ہے جو اعتماد کی جڑوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچے کی انفرادی ترقی پر توجہ دیں اور اسے یہ احساس دلائیں کہ اس کی محنت اور بہتری ہی اصل معیار ہے، نہ کہ دوسروں سے آگے نکل جانا۔
اسی کے ساتھ دوستانہ گفتگو بھی بے حد اہم ہے۔ روزانہ چند منٹ کی مخلصانہ گفتگو بچے کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیتی ہے۔ وہ اپنے خدشات، الجھنوں اور کمزوریوں کو بلا جھجھک بیان کر پاتا ہے۔ یہ رابطہ ذہنی سکون کا ذریعہ بنتا ہے اور والدین کو بچے کی اصل کیفیت سمجھنے کا موقع دیتا ہے، جو کسی بھی نصیحت سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گھر سنبھالنا بھی ایک فن ہے
آخر میں یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہئے کہ امتحان زندگی کا ایک مرحلہ ہے، پوری زندگی نہیں۔ اگر والدین اسے حد سے زیادہ اہم بنا دیں تو بچہ خوف اور دباؤ کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے، جبکہ متوازن سوچ اور مثبت رویّہ اسے پُراعتماد بناتا ہے۔ اصل کامیابی محض اچھے نمبر حاصل کرنے میں نہیں بلکہ ایک مضبوط، بااعتماد اور متوازن شخصیت کی تعمیر میں پوشیدہ ہے۔
یوں کہا جاسکتا ہے کہ بورڈ امتحانات کے دوران والدین کے لئے بہترین رہنما اصول محبت، برداشت، حوصلہ افزائی اور دانائی ہیں۔ جب والدین دباؤ کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو امتحان بوجھ نہیں رہتا بلکہ ترقی کی سیڑھی بن جاتا ہے، اور بچہ نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ زندگی کے طویل سفر میں بھی مضبوط قدموں کے ساتھ آگے بڑھنے لگتا ہے۔