• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انوکھا مقابلہ

Updated: February 14, 2026, 10:40 AM IST | M. M. Rajendra | Mumbai

محنتی سلیم اور بے پروا اصغر کے درمیان دلچسپ مقابلے کو بیان کرتی کہانی

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

جب سلیم اپنے ابّا کے ساتھ چھٹی کلاس میں داخل ہوا تو ساری کلاس کی نظریں اس پر جم گئیں۔ بہت سے بچے تو اُچک اُچک کر دیکھنے لگے۔ ماسٹر جنید نے ایک لڑکے کو پیچھے بھیج کر سلیم کو دروازے کے پاس ہی والے ایک ڈیسک پر رمیش کے ساتھ بٹھا دیا۔ جب سلیم بیٹھ گیا اور اس کے ابّا ماسٹر جنید سے بات کرکے چلے گئے تو ماسٹر جنید کلاس کو مخاطب کرتے ہوئے بولے ’’بچّو! آج سے تمہارے ساتھ تمہارا ایک نیا ساتھی اور دوست سلیم شامل ہوگیا ہے۔ جب سلیم کمرے میں داخل ہوا تو تم سب اس کی طرف کچھ حیرت سے دیکھ رہے تھے کیونکہ وہ بیساکھیوں کے سہارے چل رہا تھا۔ پھر وہ تمہارے سامنے ہی دروازے کے باہر رکھی ہوئی اپنی پہیے لگی ہوئی کرسی پر سے اترا تھا۔ یہ کرسی دراصل سلیم کی سائیکل ہے اور سلیم اس پر بیٹھ کر اور اسے ہاتھ سے چلا کر اِدھر اُدھر جاسکتا ہے۔ سلیم پہلے لکھنؤ میں پڑھتا تھا اور اب اس کے ابّا کا تبادلہ یہاں کا ہوگیا ہے۔ سلیم کے ابّا نے گھر سلیم کی وجہ سے اسکول کے بالکل پاس لیا ہے تاکہ سلیم اپنے آپ اپنی سائیکل پر اسکول آجا سکے۔ سلیم کے بارے میں یہ بھی پتہ لگا ہے کہ پڑھائی میں ہوشیار ہے اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔‘‘
’’لیکن  ماسٹر صاحب!‘‘ شنکر نے کھڑے ہو کر پوچھا ’’سلیم ہم سب کی طرح کیوں نہیں چلتا۔ اُسے اِن بیساکھیوں اور کرسی کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: راجہ کون بنے گا؟

ماسٹر جنید سوچ میں ڈوب گئے۔ پھر انہوں نے سلیم کی طرف دیکھا اور اُسے مسکراتا دیکھ کر خود بھی مسکرا دیئے۔ کہنے لگے ’’جو سوال شنکر نے پوچھا ہے وہ دوسروں کے دل میں بھی ہوگا۔ میں خود اس کا جواب دینے والا تھا۔ بچّو! سلیم بیچارہ پولیو کا مریض ہے، جس کی وجہ سے وہ چلنے سے معذور ہے۔ سلیم کی طرح اور بھی بچے ہمارے ملک میں، بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی ہیں۔ لیکن بچّو ایک بات یاد رکھنا۔ معذوری یعنی اپاہج ہوجانا مجبوری نہیں ہے۔ انسان کی ہمت ناقابلِ تسخیر ہے، یعنی اسے کوئی نہیں فتح کرسکتا۔ ہم ہمت اور حوصلے سے بڑی سے بڑی مجبوری پر قابو پاسکتے ہیں اور سلیم جیسے بچے اس کی مثال ہیں۔‘‘
’’ماسٹر صاحب!‘‘ رمیش اُٹھ کر بولا ’’اسی ہمت اور حوصلے کی وجہ سے تو آج آدمی چاند تک پہنچ رہا ہے۔‘‘ ’’شاباش! تم نے بالکل ٹھیک کہا۔‘‘
ماسٹر جنید نے یہ کہہ کر انگریزی پڑھانی شروع کر دی اور کلاس میں پھر خاموشی چھا گئی۔
چھٹی کلاس میں ایک اور ہوشیار لڑکا اصغر تھا جو پانچویں جماعت میں فرسٹ آیا تھا۔ اصغر ہوشیار تو تھا مگر کچھ مغرور بھی تھا۔ دراصل اُس پر بُرا اثر ایک اور لڑکے جسونت کا پڑ رہا تھا۔ جسونت پڑھائی میں صفر تھا مگر ڈیل ڈول کا اچھا تھا۔ کلاس کے سب لڑکے اس سے ڈرتے تھے۔ اُسے نقل مارنے کی عادت تھی اور اس کے لئے اس نے اصغر سے دوستی کرلی تھی۔ وہ ہر روز گھر سے پیسے لاتا تھا اور اصغر کو بھی کھلاتا پلاتا رہتا تھا۔ ایک دن جب وہ دونوں اسکول کے باہر گول گپّے کھا رہے تھے تو جسونت نے کہا ’’یار اصغر، ماسٹر جنید تو اس لنگڑے کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اپنے مضمونوں انگریزی اور حساب میں تو اُسی ہی پہلا نمبر دیں گے، اور بچّوُ تو رہ جائے گا۔‘‘ ’’نہیں ایسی بات نہیں۔‘‘ اصغر بولا ’’کوئی ٹیچر ایسا نہیں کرتا اور ماسٹر جنید تو اس اسکول کے بہترین ٹیچر ہیں۔‘‘
’’ابے رہنے دے اپنے لیکچر کو۔ مَیں نے خود ماسٹر جنید اور سلیم کے ابّا کو کئی دفعہ اسکول کے باہر بات کرتے دیکھا ہے۔ تُو نے ایک بات نوٹ نہیں کی۔ ماسٹر جنید کو اب کچھ بھی پوچھنا ہو تو پہلے لنگڑے سے ہی پوچھتے ہیں۔ تیری وہ بات نہیں رہی کلاس میں۔‘‘ ’’میرا خیال ہے ماسٹر جی ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ سلیم کو ہم سب کی ہمدردی کی ضرورت ہے۔‘‘ اصغر بولا۔

یہ بھی پڑھئے: دو سبق آموز کہانیاں

’’ابے بڑا تیز ہے وہ لڑکا۔ مَیں نے اُسے خود ماسٹر جنید کی تعریف کرتے سُنا ہے اور وہ رمیش تو بالکل اس کا نوکر ہوگیا ہے۔ جب دیکھو لنگڑے کا کوئی نہ کوئی کام کر رہا ہے۔ ہر روز اُسے کرسی پر سے اتارتا اور بٹھاتا ہے اور ایک دن تو اسکول کے دروازے تک اس کی کرسی خود ہی دھکیل کر لے گیا۔ خیر چھوڑ ان باتوں کو۔ کل چھٹی ہے۔ تین بجے کے شو میں پکچر چلیں گے! بڑی مار دھاڑ کی فلم ہے۔ مزہ آجائیگا۔‘‘ ’’مگر سہ ماہی امتحان بھی تو اب ہونے والے ہیں۔‘‘ ’’ابھی تو دس دن پڑے ہیں۔ ایسا کیجئو۔ گھر سے یہ بہانہ بنا کرکے آجانا کہ باغ میں لڑکے اکٹھے پڑھنے جا رہے ہیں۔ تو پکی ہے نا؟‘‘ اصغر نے مجبور ہو کر ہاں کر دی۔
اُدھر سلیم کسی مقابلے کی خواہش سے بے نیاز اپنی پڑھائی میں لگا ہوا تھا۔ رمیش صرف ہمدردی کے جذبے میں سلیم کو اُٹھنے بیٹھنے اور چلنے میں مدد کر رہا تھا۔ سلیم اسے روکتا بھی تھا، مگر رمیش اُسے اپنا فرض سمجھتا تھا۔ اور پھر سلیم اُس کے ڈیسک کا ساتھی بھی تو تھا۔ سلیم رمیش کی پڑھائی میں مدد کر رہا تھا۔ اور ایک دوسرے کیلئے اس جذبے نے انہیں سچے دوست بنا دیا تھا۔ یہ دوستی جسونت اور اس کے ساتھیوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی۔
کلاس میں اچھے اور بُرے سب ہی طرح کے لڑکے ہوتے ہیں۔ مگر رمیش کو بہت ہی دکھ ہوتا جب سلیم کو کوئی لنگڑا لولا کہہ کر پکارتا۔ کچھ لڑکے تو سلیم سے بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتے تھے۔ اس لئے سلیم کلاس میں تنہا تنہا، کٹا کٹا سا رہتا تھا، مگر رمیش کا ساتھ اور اس کی سچی دوستی اس تنہائی کو محسوس تک نہ ہونے دیتی۔ سلیم کو کوئی کچھ بھی کہہ دے، وہ بُرا نہ مانتا تھا۔ وہ تو ہر وقت مسکراتا رہتا اور اپنی پڑھائی میں دل لگائے رکھتا۔ وہ صاف ستھرا رہتا اور اچھے کپڑے پہنتا تھا۔ وہ سب کی عزت کرتا تھا اور سب سے ہنس کر بولتا تھا۔ استادوں کا اور بڑوں کا وہ خاص طور پر ادب کرتا تھا۔
سہ ماہی امتحان میں اصغر ہی اوّل آیا۔ سلیم کا نمبر تیسرا تھا۔ مگر سب سے زیادہ حیرانی کی بات یہ تھی کہ رمیش بھی اعلیٰ نمبر حاصل کرنے والے پہلے سات لڑکوں میں تھا۔ اس کی سب سے زیادہ خوشی سلیم کو ہوئی۔ رمیش جانتا تھا کہ اُس کی اعلیٰ کامیابی میں سلیم کا کتنا بڑا ہاتھ تھا۔ اس کی اور سلیم کی دوستی اور زیادہ پکی ہوگئی۔
کلاس میں اس کے بعد جو امتحان یا ٹیسٹ ہوئے اُس میں کسی مضمون میں اصغر فرسٹ آجاتا اور کسی میں سلیم۔ مجموعی طور پر بھی ان دونوں کے نمبروں میں کوئی خاص فرق نہ رہتا۔ دراصل جہاں سلیم نے ہر امتحان میں کچھ بہتر نمبر حاصل کئے وہاں اصغر نے کچھ کھو دیئے اور اس طرح سے یہ فرق کم ہوتا چلا گیا۔ اس کے علاوہ اصغر جسونت کی صحبت میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگا تھا اور پڑھائی سے بےپروا ہوگیا تھا۔ سلیم کے مقابلے میں وہ بلاشبہ کہیں زیادہ ذہین تو تھا مگر مغرور ہونے کے باعث بعض دفعہ بڑا بول بولنے سے بھی نہ چوکتا۔ سالانہ امتحان نزدیک آتے جا رہے تھے۔ اور وہ یہ اعلان کرنے لگا تھا کہ وہ یقیناً فرسٹ آئے گا اور اگر کسی میں ہمت ہے تو اس کا مقابلہ کرے یا شرط لگا لے۔ جسونت کے بار بار کہنے سے اور پچھلے نتیجوں کی بنا پر اصغر یہ بھی یقین کرنے لگا تھا کہ ماسٹر جنید سلیم کو جان کر اپنے مضمونوں میں زیادہ نمبر دے رہے ہیں۔ مگر سالانہ امتحان کے پرچے دوسرے ماسٹر صاحبان دیکھیں گے اور اس لئے وہ یہ چیلنج دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پکنک

یہ ایک طرف ذہانت مگر بدنیتی، بے پروائی اور غرور اور دوسری طرف محنت، صداقت اور حوصلے کا مقابلہ تھا۔ یہ مقابلہ جب بھی اس دنیا میں لاکھوں، کروڑوں بار ہوا، فتح محنت، صداقت اور حوصلے ہی کی ہوئی اور اصغر اور سلیم کے مقابلے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ سلیم امتحان میں اوّل آیا۔ اصغر امید کے خلاف پانچویں نمبر پر تھا اور اس کا ساتھی جسونت فیل ہوگیا تھا۔ سب سے زیادہ حیرانی تو اس بات پر تھی کہ رمیش بھی اصغر سے بازی لے گیا تھا اور دوسرے نمبر پر تھا۔ مگر ریاضی اور انگریزی کے استاد، ماسٹر جنید اس نتیجے پر حیران نہیں تھے وہ اسکول کے احاطے میں مسکراتے ہوئے اور دوستوں سے گھرے ہوئے سلیم اور رمیش کے پاس پہنچے اور مسکرا کر بولے، ’’شاباش! سلیم اور رمیش تم دونوں نے ثابت کر دیا کہ محنت اور صدق دلی سے اعلیٰ کامیابی حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اور بیٹے رمیش تمہیں خدا نے تمہاری نیکی کا صلہ بھی دیا ہے۔‘‘
سلیم اور رمیش خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ اچانک سلیم اپنی بیساکھیوں کے سہارے کرسی پر سے اُتر کر تن کر کھڑا ہوگیا اور جوش میں بولا ’’ماسٹر جی کامیابی اور نتیجہ تو خدا کے ہاتھ میں ہے مگر ہمارا فرض تو حوصلے، ہمت اور لگن سے کام کرنا ہے۔ میں آپ کے سامنے یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ اصغر میرا بھائی ہے۔ مَیں نے اُس کے بارے میں کبھی کوئی بُری بات نہیں سوچی اور نہ کبھی سوچوں گا۔ ہم سب پڑھنے والے بچے بھائی بھائی ہیں۔‘‘
ماسٹر جنید کا چہرہ مسرت سے تمتما اُٹھا۔ انہوں نے سلیم کے سَر پر ہاتھ رکھ کر اُسے دعا دی۔ رمیش نے اپنے سہارے سے سلیم کو اُس کو پہیے دار کرسی پر بٹھا دیا اور بچوں میں گھرا ہوا سلیم اپنی کرسی کو دھکیل کر دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ لیکن آج صرف رمیش کے ہاتھ ہی نہیں بلکہ بہت سے ہاتھ خوشی سے سلیم کی کرسی کو دھکیل رہے تھے۔
ان ہاتھوں میں دو ہاتھ اصغر کے بھی تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK