جتنا بھی احتجاج ہورہا ہے، یہ اپنی جگہ درست اور ضروری ہے۔ اس کی وجہ سے انتخابی کمیشن نے اپنے کئی فیصلے بدلے، کئی جگہ یوٹرن لیا اور کئی سہولتیں جاری کردیں جن کی اُمید اب سے دو ماہ پہلے تک نہیں کی جاسکتی تھی۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 3:49 PM IST | Mumbai
جتنا بھی احتجاج ہورہا ہے، یہ اپنی جگہ درست اور ضروری ہے۔ اس کی وجہ سے انتخابی کمیشن نے اپنے کئی فیصلے بدلے، کئی جگہ یوٹرن لیا اور کئی سہولتیں جاری کردیں جن کی اُمید اب سے دو ماہ پہلے تک نہیں کی جاسکتی تھی۔
جتنا بھی احتجاج ہورہا ہے، یہ اپنی جگہ درست اور ضروری ہے۔ اس کی وجہ سے انتخابی کمیشن نے اپنے کئی فیصلے بدلے، کئی جگہ یوٹرن لیا اور کئی سہولتیں جاری کردیں جن کی اُمید اب سے دو ماہ پہلے تک نہیں کی جاسکتی تھی۔ کمیشن کا تحکمانہ طرز عمل پورا ملک دیکھ چکا ہے کہ کس طرح اِس نے اپنی ہی ریاستی اکائیوں کے خطوط کا جواب نہیں دیا اور کس طرح اس کے اعلیٰ افسروں نے اراکین پارلیمان تک سے ملنا گوارا نہیں کیا۔ دھڑلے سے ووٹر لسٹ سےنام خارج کئے جاتے رہے اور شہریوں نیز سیاسی جماعتوں کی شکایتوں کی اَن سنی کرتے ہوئے ووٹ کا حق چھینا جاتا رہا۔ جب کرناٹک میں راہل گاندھی نے کمیشن کی دھاندلیوں کا پردہ فاش کیا تو غلطی کی جانچ کرنے، اس کو تسلیم کرنے اور غلطی درست کرنے کا یقین دلانے کے بجائے راہل ہی سے کہا گیا کہ وہ حلف نامہ داخل کریں۔ راہل کی اولین پریس کانفرنس سے لے کر انڈین ایکسپریس کی اُس تفصیلی رپورٹ تک جس نے ہاہاکار مچا دی اور پھر جنتر منتر نمبر دو تک کا عرصہ ایسا گزرا کہ جس میں الیکشن کمیشن کچھ سننے کا روادار نہیں تھا۔ آج بھی وہ اپنی بعض غلطیاں درست کرنے میں لگا ہوا ہے مگر یہ تسلیم نہیں کررہا ہے کہ ہاں ہم سے غلطی ہوئی۔ اتنا سب ہونے کے باوجود ایک بات بالکل صاف ہے کہ گیانیش استعفےٰ نہیں دیں گے۔ گیانیش کمار ہونے اور دھرمیندر پردھان ہونے میں فرق ہے۔ دھرمیندر پردھان کے استعفے سے حکومت کو تھوڑی بہت شرمساری ہوسکتی تھی مگر کچھ داؤ پر نہیں لگتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: چین کو لال آنکھ کب دکھائیں گے؟
گیانیش کے استعفے سے بہت کچھ داؤ پر لگ جائیگا کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کا استعفے ہوا تو یہ، بہت سے دوسرے استعفوں کی شروعات ہوگی۔ ایس آئی آر کے بعد جن ریاستوں میں الیکشن ہوا، وہاں کا الیکشن تو براہ ِ راست زد پر آجائیگا بالخصوص بہار اور مغربی بنگال کا۔ بی جے پی کی قیادت میں جاری مرکزی حکومت اتنا بڑا خطرہ مول نہیں لے سکتی اس لئے وہ گیانیش کو استعفےٰ دینے کیلئے نہیں کہہ سکتی جیسا کہ پردھان سے کہا تھا۔
ان دو عہدیداروں میں ایک تکنیکی فرق بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ پردھان مرکزی کابینی وزیر تھے۔ کابینہ کا سربراہ یعنی وزیر اعظم جس وزیر کا چاہے استعفےٰ طلب کرسکتا ہے۔ مگر، وزیر اعظم کو الیکشن کمیشن جیسے خود مختار اور آزاد ادارہ کے سربراہ یا معاون کمشنروں سے استعفےٰ لینے کا اختیار نہیں ہے۔ اس تکنیکی سبب کی بناء پر بھی حکومت خود کو ذمہ دار نہیں مان رہی ہے، یہ الگ بات ہے کہ جب بھی الیکشن کمیشن پر مخالفین کے حملے تیز ہوتے ہیں، بی جے پی کے لیڈران وکیل دفاع بن کر حاضر ہوجاتےہیں۔ خیال رہے کہ تین باتیں ایک ساتھ ہورہی ہیں: (۱) الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک طرف معترضین کے دباؤ کی وجہ سے غلطیوں کی اصلاح اور دوسری طرف مزید دھاندلیاں (۲) حکومت کی جانب سے احتجاج کو روکنے کی ہر ممکن کوشش اور (۳) اپوزیشن، سول سوسائٹی، طلبہ اور جین زی کا احتجاج۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ کہنا مشکل ہے مگر یہ طے ہے کہ احتجاج رُکے گا نہیںکیونکہ ایک ایک شہری اس نئے طریقہ کے کرپشن کیخلاف بیدار ہے۔