• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۶؍سالہ امریکی نوجوان کا کارنامہ،’ آن لائن ری سیلنگ‘سےماہانہ لاکھوں کمائے!

Updated: October 28, 2026, 4:06 PM IST | Inquilab News Network/Agency | Mumbai

ایتھن الیگزینڈر نے ہر ماہ تقریباً۲۴؍ لاکھ روپے کی ری سیلنگ کی، جانئے ری سیلنگ انڈسٹری کیسے کام کرتی ہے، ہندوستان کی ای کامرس مارکیٹ کس طرح ترقی کر رہی ہے اور اس کاروبار کے چیلنجز کیا ہیں؟

Ethan Alexander. Photo: INN
ایتھن الیگزینڈر۔ تصویر: آئی این این

امریکہ کے ایک نوجوان نے۵۰۰؍ ڈالر (کم و بیش ۴۸؍ ہزار روپے) کی سرمایہ کاری سےری سیلنگ( آن لائن مصنوعات دوبارہ فروخت کرنے کا کاروبار) شروع کیا، جس سے ہر ماہ ہزاروں ڈالر کی فروخت ہونے لگی۔ ایتھن الیگزینڈر نے۱۶؍ سال کی عمر میں والمارٹ سے مصنوعات خرید کر انہیں امیزون پر فروخت کرنا شروع کیا۔  بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق، اس نے پہلے ہی مہینے تقریباً۱۰؍ہزار ڈالر (تقریباً۹ء۷؍ لاکھ روپے) کی آمدنی حاصل کی، جبکہ بعد کے مہینوں میں اسکی ماہانہ فروخت ۲۵؍ہزارڈالر سے تجاوز کر گئی۔اس نوجوان کی کہانی آن لائن ری سیلنگ کے بڑھتے ہوئے کاروبار کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔ اس کاروبار میں لوگ کم قیمت پر مصنوعات خریدتے ہیں اور انہیں ای کامرس پلیٹ فارمز پر زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں اس ماڈل پر توجہ بڑھی ہے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اضافی آمدنی حاصل کرنے یا اپنا کاروبار قائم کرنے کیلئے آن لائن فروخت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔

 آن لائن ری سیلنگ کا کاروبار کیسے کام کرتا ہے؟

آن لائن ری سیلنگ میں مصنوعات کم قیمت پر خرید کر ای کامرس مارکیٹ پلیسز کے ذریعے صارفین کو زیادہ قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ فروخت کنندگان عام دکانوں، تھوک فروشوں، ڈسکاؤنٹ سیلز یا دیگر سپلائرز سے سامان خریدتے ہیں اور پھر اسے آن لائن فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ اس کاروبار کے ایک طریقے کو ’ریٹیل آربیٹریج ‘ کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں فروخت کنندگان حقیقی دکانوں یا آن لائن اسٹورز پر رعایتی قیمتوں میں دستیاب مصنوعات تلاش کرتے ہیں اور انہیں امیزون جیسے پلیٹ فارمز پر زیادہ قیمت میں فروخت کرتے ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیا، ذاتی نگہداشت کی مصنوعات، کپڑے، کھلونے اور الیکٹرانک سامان اس کاروبار کا حصہ ہو سکتے ہیں۔فروخت کنندگان سامان کا ذخیرہ رکھنے، پیکنگ کرنے اور ڈیلیوری کا انتظام خود کر سکتے ہیں یا مارکیٹ پلیس کی جانب سے فراہم کی جانے والی ’Fulfilment Services‘  استعمال کر سکتے ہیں۔ ان خدمات سے کاروباری سرگرمیوں کو منظم کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دل کو صرف دھڑکنے نہ دیں، اسے صحت مند بھی رکھیں

 ہندوستان کی آن لائن مارکیٹ تیزی سے پھیل رہی ہے

یہ کاروباری موقع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان میں ای کامرس کے ذریعے فروخت کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امیزون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر۲۰۲۶ء میں اس کے مارکیٹ پلیس پر فروخت کنندگان کی تعداد۲۰؍ لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ۳؍ لاکھ سے زیادہ نئے فروخت کنندگان اس پلیٹ فارم سے جڑے۔ امیزون انڈیا نے یہ بھی بتایا کہ۲۸؍ہزار سے زیادہ فروخت کنندگان اس کے پروڈکٹ اپرچیونٹی ایکسپلورر ٹول کا استعمال کر رہے تھے تاکہ ممکنہ طور پر کامیاب مصنوعات کی شناخت کی جا سکے۔اس طرح کے ٹولز فروخت کنندگان کو صارفین کی مانگ کا جائزہ لینے، خریداری کے رجحانات سمجھنے اور مقابلے کی صورت حال جانچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس سے انہیں سامان خریدنے میں سرمایہ لگانے سے پہلے بہتر فیصلے کرنے کا موقع ملتا ہے۔ دوسری جانب، پہلے سے استعمال شدہ مصنوعات کو دوبارہ فروخت کرنا بھی اس وسیع مارکیٹ کا ایک حصہ ہے۔ پے این ایکس ٹی۳۶۰؍ کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی ری کامرس مارکیٹ کے۲۰۲۶ء میں ۹۱ء۵؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اس مارکیٹ میں پہلے استعمال کی جا چکی اشیا کی دوبارہ فروخت شامل ہے۔ اسے ریٹیل آربیٹریج سے الگ سمجھنا چاہیے، کیونکہ ریٹیل آربیٹریج میں نئی مصنوعات خرید کر زیادہ قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔

 کیا ری سیلنگ سے منافع کمایا جاسکتا ہے؟

ری سیلنگ ای کامرس کی دنیا میں قدم رکھنے کا ایک راستہ بن سکتی ہے، لیکن اس کاروبار میں کامیابی صرف سستی مصنوعات تلاش کرنے پر منحصر نہیں ہے۔ فروخت کنندگان کو مارکیٹ پلیس کی کمیشن فیس، سامان کی ترسیل، گودام میں ذخیرہ کرنے، اشتہارات، مصنوعات کی واپسی اور نہ فروخت ہونے والے سامان کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔زیادہ فروخت کا مطلب لازماً زیادہ منافع نہیں ہوتا۔  کوئی پروڈکٹ تیزی سے فروخت ہو سکتی ہے، لیکن تمام اخراجات نکالنے کے بعد اس سے حاصل آمدنی بہت کم رہ سکتی ہے۔ اسی طرح، مارکیٹ کی مانگ کو سمجھے بغیر ضرورت سے زیادہ سامان خریدنے پر وہ فروخت نہ ہونے کی صورت میں اسٹاک میں پھنسا رہ سکتا ہے۔ اصل چیلنج صرف سستا خرید کر مہنگا فروخت کرنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر فروخت کاروبار کے منافع میں حقیقی اضافہ کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK