• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین کو لال آنکھ کب دکھائیں گے؟

Updated: October 28, 2026, 3:37 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

من موہن سنگھ کے دورِ حکومت میں چینی دراندازی پر مودی جی کا ایک پرانا ویڈیو ہے جس میں وہ یہ دعویٰ کرتے نظرآتے ہیں کہ من موہن سنگھ حکومت کو ’’چین کو لال آنکھ دکھانا چاہئے تھا۔‘‘ آج صورتحال یہ ہے کہ مودی جی آنکھیں دکھانا تو دور ،چین سے مسلسل آنکھیں چراتے رہتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

خبریں توتین چار ماہ سے آرہی تھیں، تصدیق اب ہوئی ہے۔ اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی اور چینی فوج کی دراندازی کی اطلاعات جولائی سے متواتر مل رہی تھیں۔ مقامی صحافی،سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوا ن اور سول سوسائٹی کے اراکین یہ شکایت کررہے تھے کہ اپر سبنسرضلع کے تاکسنگ علاقے میں چینی فوج کی غیر قانونی پیش قدمی جاری ہے اور کئی مقامات پر ہندوستانی فوج کو گشت کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ اروناچل ٹائمز کے ایک نامہ نگار کو ایک پنچایت لیڈر نے ویڈیو انٹرویو میں بتایا کہ مقامی لوگوں کے ذریعہ انتظامیہ اور فوج کو صورتحال سے آگاہ کئے جانے کے بعد بھی کاروائی نہیں کی گئی۔ ایک مقامی فلاحی تنظیم نے ضلع حکام کو یہ اطلاع بھی فراہم کی تھی کہ جس علاقے میں مقامی لوگ مویشی چرانے، جنگل سے لکڑیاں لانے اور شکار کرنے جایا کرتے تھے وہاں اب چین سڑکیں پل اور فوجی کیمپ تعمیر کررہا ہے۔ان سب کے باوجود صوبے کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو ہوں یا مودی کابینہ کے اہم وزیر کرن رجیجو سب کے سب چینی دراندازی کی خبروں کو لگاتار مستر دکرتے رہے۔  
 ۲۲؍اکتوبر کو انڈو۔ تبت بارڈرپولیس کے سربراہ شتروجیت کپور نے جب اعلانیہ یہ تسلیم کیا کہ اروناچل پردیش میں کئی مقامات پر ہندوستان اور چین کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی تھیں اور یہ بھی مانا کہ روایتی طریقے سے چین کا مقابلہ کرنا ہندوستان کیلئے کٹھن ہے کیونکہ پی ایل اے صلاحیتوں میں ہم سے کہیں آگے ہے تب حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں رہا۔ ان کے اس بیان پر جب تنازع کھڑا ہوگیا اور اپوزیشن نے حکومت سے سوال کرنے شروع کردئے تو مودی حکومت حرکت میں آگئی اور اس نے فوری اقدام کئے۔ جی نہیں! کاروائی چینی دراندازوں کو سرحد کے اس پاردھکیلنے کے لئے نہیں بلکہ آئی ٹی بی پی کے پلیٹ فارم سے کپور کا ویڈیو ہٹانے کے لئے کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر مخالف تحریک خوش آئند ہے!

 ہمیں یہ بخوبی علم ہے کہ مودی سرکار پچھلے بارہ برسوں سے مضبوط حکومت کے اپنے امیج کی ہر قیمت پر حفاظت کرنے میں مصروف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ملک کی سیکوریٹی کی قیمت پر بھی؟ ۲۰۲۰ء   میں  چینی فوج لداخ کی گلوان گھاٹی میں گھس آئی تھی۔ اب خبر ہے کہ وہ شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں بھی اپنے خیمے گاڑ رہی ہے۔معروف دفاعی تجزیہ کار برہما چیلانی کے مطابق چینی افواج نے ۲۰۲۰ء میں جس طرح مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر بغیر گولی چلائے زمینی صورتحال تبدیل کردی تھی وہ اب  اروناچل پردیش کی سرحدوں پر بھی وہی گیم کھیل رہی ہیں۔ اس فوجی حکمت عملی کے تحت جسے salami slicing کہتے ہیں چینی فوج دھیرے دھیرے دراندازی اور جارحانہ گشت کے ذریعہ ایل اے سی کی موجودہ حیثیت(status quo)کو بدل دیتی ہے۔ چین دھیرے دھیرے ان سرحدی علاقوں میں جہاں نگرانی نہیں ہے یا کم ہے ہماری زمین نگلتا جاتا ہے۔ پیپلز لبریشن آرمی وہاں سڑکیں، فوجی چوکیاں اور عارضی مکانات تعمیر کرنے لگتی ہے اور کچھ عرصے بعد بیجنگ اس خطے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کر دیتا ہے۔
۲۰۲۰ء میں گلوان میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد سے ہندوستان اور چین کے تعلقات کافی بگڑ گئے تھے۔لیکن ۲۰۲۴ء   میں دونوں  ممالک نے ایل اے سی پر اپنی اپنی فوج کو پیچھے ہٹاکر  کشیدگی کم کرنے اور رشتے سدھارنے پر اتفاق کیا۔صدر شی جن پنگ اور مودی جی کی تین تین ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ ستمبر میں چینی صدر سات سال کے بعد برکس کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے نئی دہلی تشریف لائے۔چین اور دلی کے درمیان پروازیں بھی بحال ہوگئی ہیں۔ پچھلے ماہ مشرقی محاذ پر ہندوستان اور چین کے کارپس کمانڈر کی پہلی بارمیٹنگ بھی ہوئی تھی۔ لیکن چین اپنی حرکتوں سے کبھی باز نہیں آتا ہے۔اروناچل پردیش کو تو وہ ہندوستان کا علاقہ تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔ وہ اسے جنوبی تبت کہتا ہے۔
من موہن سنگھ کے دور اقتدار میں اگر کبھی ایل اے سی پر چینی گھس پیٹھ کاکوئی واقعہ ہوجاتا تھا تو نریندر مودی(جواس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے) کہا کرتے تھے کہ مسئلہ بارڈر پر نہیں مسئلہ دلی میں ہے۔ان کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستانی فوج کی شجاعت اور وطن پرستی تو کسی بھی شک و شبہ سے بالا تر ہے لیکن شاید سیاسی قیادت کو ہی  چین سے لوہا لینے کا حوصلہ نہیں ہے۔  مودی جی کی پرانی تقریرکا ایک ویڈیو بھی سب نے دیکھا ہوگا جس میں وہ یہ دعویٰ کرتے نظرآتے ہیں کہ منموہن سنگھ حکومت کو ’’چین کو لال آنکھ دکھانا چاہئے تھا۔‘‘ آج صورتحال یہ ہے کہ مودی جی آنکھیں دکھانا تو دور چین سے مسلسل آنکھیں چراتے رہتے ہیں۔جرم چین کرتا ہے اور اس کے جرائم کی پردہ پوشی ہم کرتے ہیں۔ گلوان سانحہ کے بعد جس میں پی ایل اے کے ہاتھوں ہمارے بیس جانباز شہید ہوئے تھے ایک کل جماعتی کانفرنس میں مودی جی کا دیا یہ بیان ساری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا سبب بناتھا:

یہ بھی پڑھئے: آج نیتن یاہو‘ کی قسمت کا فیصلہ

’’ نہ ہماری سرحدوں میں کوئی گھسا تھا نہ کوئی گھسا ہوا ہے اور نہ ہی ہماری کسی چوکی پر کسی کا قبضہ ہے۔‘‘ مودی جی گلوان تصادم کے بعد چین کا نام تک اپنی زبان پر نہیں لائے ۔ نہ جانے کیا مصلحت ہے اور نہ جانے کیا راز ہے؟ ایک بدمعاش ہمسایہ کو توہم گھر میں گھس کر مارتے ہیں لیکن اس سے بڑے بدمعاش ہمسایہ کے سامنے ہم خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے بعدسے مودی جی چھ بار چین کا دورہ کرچکے ہیں۔ اس سے قبل جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اس دوران انہوں نے چین کے چار دورے کئے تھے۔ نہرو جی اپنے سترہ سالہ دور اقتدار میں صرف ایک بار چین گئے تھے۔ان کی صاحبزادی اندرا گاندھی اپنے سولہ سالہ دورحکومت میں ایک بار بھی چین نہیں گئیں۔ اٹل بہاری واجپائی، راجیو گاندھی اور نرسمہاراؤ نے چین کا ایک دورہ کیاتھا۔ کیا کوئی مجھے بتائے گا کہ مودی جی کے چین سے اس قدر لگاؤ کا سبب کیا ہے؟ اور یہ کہ مودی جی نے چین سے نزدیکیاں بڑھاکر آخر کیا حاصل کرلیا؟ شی جن پنگ سے تو ان کا خصوصی یارانہ ہوا کرتا تھا۔کیا صلہ دیا ان کے خصوصی دوست نے ان کی نوازشوں کا؟ چین سے ۱۵۰؍ارب ڈالر کی تجارت کرکے ہم نے اسے اپنا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بنالیا ہے اور چین ہمارے اس فراخدلانہ رویے کے بدلے میں ایل اے سی پر ہمارے خلاف مسلسل دشمنی کا مظاہرہ کرتارہتا ہے۔
مودی جی کے ’’نیوانڈیا‘‘ میں غریب  ہندوستانی شہریوں کے گھروں، دکانوں اور عبادت گاہوں کو غیر قانونی تجاوزات قرار دے کر بلڈوزروں سے مسمارکردیا جاتا ہے۔ لداخ کے بعد اب اروناچل پردیش میں بھی چین ہماری سرزمین پر ناجائز گھراور انفراسٹرکچر تعمیر کر رہا  ہے۔  ان غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر کب چلائے جائینگے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK