• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سدا رمیا بمقابلہ ڈی کے

Updated: November 28, 2025, 2:47 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

کانگریس کے پاس گنی چنی ریاستیں رہ گئی ہیں ۔ اگر اس کی جھولی میں ہماچل اور تلنگانہ جیسی ریاستیں نہ آگئی ہوتیں تو بی جے پی کا ’’کانگریس مُکت بھارت‘‘ کا خواب بڑی حد تک شرمندۂ تعبیر ہوگیا ہوتا۔ اِدھر ایک دہائی کے قلیل عرصہ میں اس کے ہاتھ سے زیادہ ریاستیں پھسلیں اور کم ریاستیں ہاتھ آئی ہیں ۔

INN
آئی این این
کانگریس کے پاس گنی چنی ریاستیں  رہ گئی ہیں ۔ اگر اس کی جھولی میں  ہماچل اور تلنگانہ جیسی ریاستیں  نہ آگئی ہوتیں  تو بی جے پی کا ’’کانگریس مُکت بھارت‘‘ کا خواب بڑی حد تک شرمندۂ تعبیر ہوگیا ہوتا۔ اِدھر ایک دہائی کے قلیل عرصہ میں  اس کے ہاتھ سے زیادہ ریاستیں  پھسلیں  اور کم ریاستیں  ہاتھ آئی ہیں ۔ مدھیہ پردیش میں  اس کی زبردست کامیابی کا امکان تھا، چھتیس گڑھ سے واضح اشارے مل رہے تھے، ہریانہ کے بارے میں  ہر خاص و عام کی رائے تھی کہ کانگریس جیتے گی اور حال ہی میں  بہار مہا گٹھ بندھن کو چکمہ دے گیا۔ وجوہات جو بھی ہوں ، کانگریس کی طاقت کم ہوتی جارہی ہے۔ پارٹی کو اس کا اعتراف تو ہے مگر اس کے ارباب اقتدار اب تک کوئی ایسی حکمت عملی تیار نہیں  کرسکے ہیں  جس کے ذریعہ تمام کارکنان، تمام عہدیداران اور تمام قانون سازوں  کو متحد رکھ سکیں ، فرد پر پارٹی کی اولیت کا فلسفہ  مستحکم کرسکیں  اور عہدہ سے زیادہ عہد کے جذبے کو پروان چڑھا سکیں ۔
اس کمی کے سبب، بچی کھچی ریاستوں  میں  بھی بیڑا غرق ہونے کا اندیشہ قائم رہتا ہے۔ جو کچھ دو سال پہلے راجستھان میں ، جہاں  پارٹی کی حکومت تھی،  ’’گہلوت بمقابلہ سچن پائلٹ‘‘ ہورہا تھا اور ایک سال پہلے ہریانہ میں ، جہاں  پارٹی اقتدار میں  آسکتی تھی، بھوپندر سنگھ ہڈا اور کماری شیلجا کے درمیان چل رہا تھا، وہی اب کرناٹک میں  وزیر اعلیٰ سدا رمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کے درمیان نزاع کا سبب بنا ہوا ہے۔ ہماری نظر میں  اس کی دو بڑی وجوہات ہیں : (۱) کانگریس نے اپنے نظریات کو پارٹی کارکنان میں  اس حد تک مضبوط نہیں  کیا ہے کہ وہ عہدہ سے زیادہ عہد اور حاصل کرنے سے زیادہ کچھ دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں ۔ (۲) اس کی دوسری بڑی وجہ ریاستی قیادتوں  کی مضبوطی ہے جس کے آگے مرکزی قیادت خود کو منوانے میں  ناکام رہتی ہے۔
راجستھان میں  گہلوت کو مان جانا چاہئے تھا اور سچن کو موقع دینا چاہئے تھا مگر نہ تو گہلوت فراخدلی کے مظاہرہ کیلئے تیار تھے نہ ہی سچن کو یہ صبرو اطمینان تھا کہ آج نہیں  تو کل مطلوبہ عہدہ بھی حاصل ہوہی جائیگا۔ آخر کو کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ ریاست پر قبضہ ختم ہوگیا اور بی جے پی اقتدار میں  آگئی (جس کی اور بھی کئی وجوہات ہیں )۔ ہریانہ میں  کیا ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ریاست پر قبضہ حاصل ہوسکتا تھا مگر نہیں  ہوا (جس کی اور بھی کئی وجوہات ہیں )، اقتدار بی جے پی کو مل گیا۔ اس کی اور بھی مثالیں  ہیں ۔ مدھیہ پردیش میں  کمل ناتھ اور دگ وجے سنگھ کے اپنے اپنے خیمے تھے، کانگریس کا خیمہ کون سا تھا؟ کسی کو نہیں  معلوم۔
اب کرناٹک میں  دشواری یہ ہے کہ دونوں  لیڈران فیصلہ اعلیٰ کمان کے سپرد کر رہے ہیں  مگر اپنے اپنے طور پر محاذ آرائی میں  بھی مبتلا ہیں ۔ اگر ڈھائی ڈھائی سال کا طے ہوا ہے تو ڈی کے کو موقع ملنا چاہئے مگر سدا رمیا اس کیلئے تیار نہیں  ہونگے۔ وہ اپنی بالادستی ثابت کرنے پر تُل جائینگے یا الگ خیمہ بنالیں  گے جو ممکنہ طور پر ڈی کے کی قیادت کی مخالفت کریگا۔ اگر اعلیٰ کمان نے ڈی کو کمان نہیں  دی تو اُن کے بددل ہوجانے کا خطرہ ہے۔ اعلیٰ کمان کیلئے سدا رمیا بھی اہم ہیں  اور ڈی کے بھی مگر ان دونوں  کیلئے پارٹی سے زیادہ عہدہ اہم ہے۔ رہا اعلیٰ کمان تو کسی تیسرے کو وزیراعلیٰ بنادے یہ ممکن نہیں ۔ فیصلہ چند ہی دنوں  میں  ہونا ہے، دیکھئے کیا ہو!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK