Updated: November 29, 2025, 9:59 PM IST
| Tel Aviv
پی پی ایس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی فوج ہر ہفتے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں فلسطینیوں کو حراست میں لے رہی ہے۔ ان سے فیلڈ انٹروگیشن کی جاتی ہے، اور ان کے ساتھ ناروا سلوک ، جسمانی تشدد، دھمکیاں، گھروں کی تلاشی اور املاک کی تباہی ، کی جا رہی ہے، لیکن فوج باضابطہ گرفتاریوں سے آگے کی حراستوں کو تسلیم نہیں کرتی، جس کے باعث بہت سے معاملات رپورٹ نہیں ہوتے۔
گزشتہ دن فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی Palestinian Prisoners Society (پی پی ایس)نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج مقبوضہ مغربی کنارے کے اضلاع میں ، بشمول شمالی حصوں ، ہر ہفتے سیکڑوں فلسطینیوں کو حراست میں لے کر فیلڈ انٹروگیشن کرتی ہے، اور ان کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالی کرتی ہے۔ پی پی ایس کے میڈیا اہلکار ایمانی صراحین نے بتایا کہ فوج صرف رسمی گرفتاریوں کا اعتراف کرتی ہے ، یعنی ان افراد کی جو جیلوں یا حراستی مراکز میں منتقل کئے جاتے ہیں۔ اس کی بدولت اکثر ان ہزاروں فلسطینیوں کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہوتا جو ’’عارضی حراست‘‘ کے بعد چند گھنٹوں یا دنوں بعد رہا کر دیئے جاتے ہیں، چاہے ان پر تشدد یا ان کی املاک کی تباہی ہوئی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی ممالک نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے تشدد کی مذمت کی
پی پی ایس کے مطابق ۲۶؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو شروع کئے گئے تازہ ترین فوجی آپریشن جسے اسرائیلی فوج نے ’’واضح دہشت گردی مخالف کارروائی‘‘ قرار دیا تھا ، کے دوران صرف ٹوباس میں ۱۶۲؍ فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے برعکس فوج نے خود دعویٰ کیا تھا کہ ’’چند درجن‘‘ افراد گرفتار کئے گئے۔ ایمان نے بتایا کہ ’’فیلڈ انٹروگیشن‘‘ کے دوران گرفتار افراد کو شدید تشدد، دھمکیوں، اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ گھروں پرچھاپے مارے گئے، املاک کو تباہ کیا گیا، اور نقدی یا دیگر املاک اسمگل کی گئیں۔ علاوہ ازیں، جنگی کارروائیوں کے دوران فوج نے عربی زبان میں پمفلٹس تقسیم کئے جن میں تبصرہ کیا گیا کہ ’’آپ کا علاقہ دہشت کا گڑھ بن چکا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آپ کا حشر ویسا ہی ہوگا جیسا کہ حنین اور طولکرم کا ہوا تھا۔‘‘ واضح رہے کہ ان دونوں علاقوں میں ماضی میں کئے گئے بڑے آپریشنز کے دوران فرضی کالعدم ٹھکانوں کے نام پر ۴۲؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا، پناہ گزین کیمپوں کی عمارتیں مسمار کی گئیں، اور آبادکاری کی اجازت واپس نہیں دی گئی۔
ان معلومات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیاں اور گرفتاریاں ، اگرچہ بظاہر ’’رہائشی سلامتی‘‘ کے نام پر شروع کی گئی ہیں ، دراصل روزمرہ زندگی، انسانی حقوق اور بنیادی تحفظ کے خلاف ہیں۔ ان کارروائیوں نے نہ صرف ہزاروں افراد کو عارضی طور پر حراست میں لیا بلکہ بڑی تعداد میں خاندانوں کو بے گھر بھی کیا ہے۔۲۶؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو شروع کئے جانے والے آپریشن فائیو اسٹونز کے تحت اسرائیل نے شمالی مغربی کنارے کے بہت سے علاقوں پر جارحانہ حملے کئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں متعدد شہروں پر محاصرہ لگا دیا گیا، راستے بند کئے گئے، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل ہندوستان کے قبیلہ منسی کے ہزاروں یہودیوں کو شہریت دے گا
انسانی حقوق کے مبصرین نے اس کو ’اجتماعی سزا‘ اور ’بے گھر بنانے کی مہم‘ قرار دیا ہے۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فوج کی کارروائیاں اور حراستیں نہ صرف باقاعدہ طاقت کے استعمال کے دائرے سے باہر ہیں بلکہ فلسطینی آبادی کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ باضابطہ گرفتاریوں کی رپورٹنگ کے باوجود، سیکڑوں ، شاید ہزاروں ، فلسطینی کوتعداد میں حراست میں لیا جاتا ہے، اور ان میں سے اکثر کا بچاؤ بعد ازِ تشدد اور تباہی کے بعد ہوتا ہے۔ سوسائٹی نے کہا ہے کہ اقوامِ عالم کو چاہئے کہ اس صورتحال پر توجہ دے، اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو آزادانہ تحقیقات اور شفاف رپورٹنگ کے ذریعے ، چاہے وہ گرفتاریاں ہوں، بے گھر کرنا ہو یا تشدد ، فوری اور واضح احتساب کا مطالبہ کرنا چاہئے۔