ٹرمپ انتظامیہ نے یہ اقدام، واشنگٹن ڈی سی میں فائرنگ کے واقعے کے بعد اٹھایا ہے، جس میں ایک افغان شہری نے مبینہ طور پر دو نیشنل گارڈ فوجیوں کو شدید زخمی کر دیا تھا۔
EPAPER
Updated: November 29, 2025, 9:06 PM IST | Washington
ٹرمپ انتظامیہ نے یہ اقدام، واشنگٹن ڈی سی میں فائرنگ کے واقعے کے بعد اٹھایا ہے، جس میں ایک افغان شہری نے مبینہ طور پر دو نیشنل گارڈ فوجیوں کو شدید زخمی کر دیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ۱۹ ممالک کے تارکین وطن کو جاری کئے گئے گرین کارڈز کا ایک وسیع جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسیز کے سربراہ جوزف ایڈلو نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’ہائی رسک‘ سمجھے جانے والے ممالک سے منسلک مستقل رہائش کی منظوریوں کا ”مکمل اور سخت جائزہ“ لینے کا حکم دیا ہے۔
اگرچہ حکام نے ان ممالک کی مکمل فہرست جاری نہیں کی، لیکن ایجنسی نے میڈیا کے سوالات کیلئے وائٹ ہاؤس کے جون کے ایک اعلان کا حوالہ دیا جس میں پہلے ہی افغانستان، کیوبا، ہیٹی، ایران، صومالیہ اور وینزویلا کا نام لیا گیا تھا۔ یہ اعلان حکومت کو دہشت گردی کے خطرات، دستاویزات کے کمزور کنٹرول یا ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کے پیمانوں پر ان ممالک سے امیگریشن کو محدود کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تصدیق شدہ اضافی ممالک جن کا جائزہ لیا جائے گا ان میں میانمار اور افریقی ممالک چاڈ، جمہوریہ کانگو اور لیبیا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے افغان شہریوں کے ویزا اورپناہ گزینی سے متعلق درخواست پر روک لگائی
ٹرمپ انتظامیہ نے یہ اقدام، واشنگٹن ڈی سی میں فائرنگ کے واقعے کے بعد اٹھایا ہے، جس میں ایک افغان شہری نے مبینہ طور پر دو نیشنل گارڈ فوجیوں کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ حملہ آور ۲۰۲۱ء میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد افغانوں کیلئے خصوصی تحفظ کے تحت امریکہ میں داخل ہوا تھا۔ اگرچہ ایڈلو نے جائزے کو براہ راست اس حملے سے نہیں جوڑا، لیکن صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس واقعے نے قومی سلامتی سے جڑے ایک بڑے خطرے کو اجاگر کیا۔
ٹرمپ نے اس کا الزام پچھلی انتظامیہ پر عائد کیا۔ انہوں نے جو بائیڈن انتظامیہ پر ”لاکھوں غیر تصدیق شدہ غیر ملکیوں“ کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کا الزام لگایا اور نئے جائزے کو قومی سلامتی کیلئے ضروری قرار دیا۔ جون کے اعلان میں خاص طور پر طالبان کا بھی حوالہ دیا گیا تھا جسے امریکہ نے ایک دہشت گرد گروپ نامزد کیا ہے اور افغانستان میں سول دستاویزات جاری کرنے کیلئے ایک قابل اعتماد مرکزی اتھارٹی کی کمی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔