وائرل ویڈیو میں ایک مسلمان شخص پر ”بھارت ماتا کی جے“ کا نعرہ لگانے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے اور جب وہ مذہبی بنیادوں پر نعرہ لگانے سے انکار کر دیتا ہے تو اس کی حب الوطنی پر سوال کھڑے کئے جاتے ہیں۔
EPAPER
Updated: November 29, 2025, 9:59 PM IST | Itanagar
وائرل ویڈیو میں ایک مسلمان شخص پر ”بھارت ماتا کی جے“ کا نعرہ لگانے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے اور جب وہ مذہبی بنیادوں پر نعرہ لگانے سے انکار کر دیتا ہے تو اس کی حب الوطنی پر سوال کھڑے کئے جاتے ہیں۔
اروناچل پردیش کا ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شمال مشرقی ریاست میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ دھمکیوں پر نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس وائرل ویڈیو میں اروناچل پردیش انڈیجینس یوتھ آرگنائزیشن (اے پی آئی وائی او) کے اراکین کو مسلم علماء کا مقابلہ کرتے اور اٹانگر کیپیٹل ریجن میں ایک مسجد کو مسمار کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
हर मुसलमान टेररिस्ट नहीं होता।
— P.N.Rai (@PNRai1) November 28, 2025
लेकिन हर टेररिस्ट मुसलमान क्यों होता है?
रोटी देने वाली भारत माता की जय नहीं बोलते, कैसे भारतीय है?
अरुणाचल प्रदेश के काफिरों ने अवैध दुकान बंद कर देने की चेतावनी जारी कर दी। pic.twitter.com/66SopjcQNs
جمعرات کو سامنے آنے والی ویڈیو میں اے پی آئی وائی او کے جنرل سیکریٹری ٹاپور میئینگ اور صدر ٹارو سونم لیاک، ایک مسجد کے پاس کھڑے ہوئے ہیں۔ ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ مذکورہ اراکین مسجد کو ”غیر قانونی“ قرار دے رہے ہیں اور اسے اگلے چند دنوں کے اندر بند کرنے کا الٹی میٹم دے رہے ہیں۔ اس دوران، لیاک وہاں موجود مسلمان شخص پر ”بھارت ماتا کی جے“ کا نعرہ لگانے کیلئے دباؤ ڈالتے ہیں۔ جب وہ مذہبی بنیادوں پر نعرہ لگانے سے انکار کر دیتا ہے تو اراکین ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اس انکار کے بعد مسجد کو مسمار کردینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۵؍ سال کی قیدو بند کے بعد ۶؍ مسلم نوجوان دہلی فساد کے کیس سے بری
اسی ویڈیو میں، لیاک نے مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی اور بغیر کسی ثبوت کے الزام لگایا کہ مذکورہ مسجد ریاست میں داخل ہونے والے نام نہاد ”دراندازوں“ سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو اروناچل پردیش میں جاری قومی کھیلوں سے جوڑنے کی بھی کوشش کی اور آسام کی مائیگریشن مخالف مہموں میں پہلے استعمال کئے گئے دعوؤں کو دہرایا۔
مسلمانوں کا ردعمل اور حکومت کی خاموشی
مقامی افراد کے مطابق، یہ اے پی آئی وائی او کی ایک ماہ سے جاری مہم کا حصہ ہے جو مساجد اور مدرسوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جس کے بارے میں گروپ کا دعویٰ ہے کہ وہ غیر مجاز ہیں۔ اس مہینے کے شروع میں، اس کے اراکین نے مبینہ طور پر غیر قانونی مذہبی ڈھانچوں پر عوامی الٹی میٹم جاری کئے تھے اور ہڑتالوں اور بندشوں کی دھمکی دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: شملہ: سنجولی مسجد کے باہر جمعہ کو پھر ہنگامہ آرائی
مسلم لیڈران نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کیپیٹل جامع مسجد کے پی آر او گایا لیمپییا سلطان نے کہا کہ علاقے کی تمام مساجد حکومت سے منظور شدہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دھمکیاں اور دباؤ اروناچل کی بین المذاہب ہم آہنگی کی روایت کو تباہ کرنے کا خطرہ رکھتے ہیں۔
جمعہ تک، مسجد کو مسمار کرنے کی دھمکی دینے والوں کے خلاف کسی پولیس کیس یا سرکاری کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے عوامی طور پر کوئی جواب جاری نہیں کیا ہے۔ حقوق گروپس نے ریاستی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مداخلت کرے، مذہبی مقامات کا تحفظ یقینی بنائے اور دھمکیوں اور دباؤ کے خلاف کارروائی کرے۔