• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکولوں کا بند ہونا اچھی خبر نہیں !

Updated: February 08, 2026, 2:08 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

چند روز پہلے جب یہ خبر مشتہر ہوئی تو بہت سے لوگ یہ جان کر تڑپ گئے ہوں گے کہ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۰ء کے درمیان ملک بھر میں ۹۳؍ ہزار اسکول بند ہوئے ہیں ۔

INN
آئی این این
  چند روز پہلے جب یہ خبر مشتہر ہوئی تو بہت سے لوگ یہ جان کر تڑپ گئے ہوں  گے کہ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۰ء کے درمیان ملک بھر میں  ۹۳؍ ہزار اسکول بند ہوئے ہیں ۔ یہ انکشاف گزشتہ پیر کو وزیر مملکت برائے تعلیم جینت چودھری نے لوک سبھا میں  ایک سوال کے جواب میں  کیا۔ اُنہوں  نے دو طرح کے اعدادوشمار پیش کئے۔ ۱۵۔۲۰۱۴ء سے ۲۰۔۲۰۱۹ء تک اور پھر ۲۱۔۲۰۲۰ء سے ۲۵۔۲۰۲۴ء تک۔ دونوں  دَور کے اعدادوشمار کو ملا کر ۹۳؍ ہزار کا عدد بنا جو شرمندہ کرتا ہے۔
آپ نے خبر پڑھی ہوگی، اس لئے آپ واقف ہوں  گے کہ کس ریاست میں  کتنے اسکول بند ہوئے، سب سے زیادہ کہاں  ہوئے اور سب سے کم کہاں ۔ ہم اس تفصیل سے گریز کرتے ہوئے کہنا چاہتے ہیں  کہ کسی بھی ریاست میں  ایک اسکول کھلوانا مشکل ہوتا ہے مگر جاری اسکول کا رُک جانا اور پھر کسی دن بند کردیا جانا، آج کے دور میں  یہ مشکل نہیں  رہا اسی لئے تو ۹۳؍ ہزار جیسا عدد سامنے ہے جسے دیکھ کر خوف آتا ہے۔ جس طرح ایک ایک ووٹ اہم ہے اور کسی علاقے میں  بہت کم ووٹر ہیں  تب بھی وہاں  پولنگ عملہ جاتا ہے تاکہ کسی کا ووٹ ضائع نہ ہو، اسی طرح ایک ایک طالب علم اہم ہے اور اگر کسی طالب علم کے علاقے میں  اسکول نہیں  ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انتخابی عملے کی طرح اُس طالب علم کے پاس تدریسی عملے کو روانہ کرے۔ یہ کیا گیا تو تعلیم کی کشش کا عالم ہی کچھ اور ہوگا۔ 
اسی سے تعلیم میں  حکومت کی سنجیدگی کا ثبوت ملے گا ورنہ کہنے سننے کیلئے باتیں  تو بہت ہیں ۔ وزیر اعظم ہر سال امتحانات کا دور شروع ہونے سے پہلے ’’پریکشا پہ چرچا‘‘ کرتے ہیں ۔ اس خطاب میں  لاکھوں  طلبہ شریک ہوتے ہیں ۔ مگر یہ وہ طلبہ ہیں  جو اسکولوں  سے وابستہ ہیں  اور ان کے اسکول جاری ہیں ۔ مسئلہ اُن کا ہے جن کے اسکول بند ہوگئے یا جن کے بارے میں  یہ اطلاع تھی کہ وہاں  طلبہ ہیں  ہی نہیں  ہیں ۔ اول تو یہ کہنا مشکل  ہے کہ کوئی اسکول طلبہ کے نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوا، اگر  فرض کرلیں  کہ ایسا ہوا ہے تو کیا یہ ضروری نہیں  ہے کہ حکومت صفر حاضری والے اسکول کو منتقل کرکے اُس علاقے میں  لے جائے جہاں  ایک ایک کلاس میں  طے شدہ تعداد سے زیادہ طلبہ پڑھ رہے ہیں ، اُن کے بیٹھنے کی جگہ نہیں  ہے اور اُن کے پاس ڈیسک نہیں  ہے؟اسکول بند کیوں  کیا جاتا ہے منتقل کیوں  نہیں  کیا جاتا؟ کیا ہی اچھا ہو اگر لوک سبھا میں  اعدادوشمار پیش کرتے وقت وزیر مملکت برائے تعلیم جینت چودھری بند ہونے والے اسکولوں  کی نشاندہی کرنے کے بجائے یہ بتاتے کہ کہاں  سے بند کرکے اُنہیں  کہاں  شروع کیا گیا ہے۔ 
کہنے کی ضرورت نہیں  کہ ابتدائی تعلیم ضروری ہے ورنہ ثانوی تعلیم ممکن نہیں  ہوگی اور جب ثانوی تعلیم ممکن نہیں  ہوگی تو اعلیٰ اور پیشہ جاتی تعلیم کے ممکن ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں  ہوگا۔ شہری علاقوں  کے بچے پڑھیں ، امیر ماں  باپ کے بچے پڑھیں  اس میں  کوئی کمال نہیں ۔ کمال تب ہوگا جب غریب محلوں ،  پسماندہ بستیوں  اور قبائلی آبادیوں  میں  اسکول پوری توانائی سے جاری رہیں ۔ یونیورسلائزیشن آف ایجوکیشن سے ہم نے یہی سمجھا تھا کہ بچے کو تعلیم کے اور تعلیم کو بچے کے قریب لایا جائیگا۔ یو پی اے حکومت نے رائٹ ٹو ایجوکیشن کے ذریعہ یہی چاہا تھا مگر جب پالیسی مخلصانہ نفاذ کو ترستی ہے تو پالیسی کتنی ہی اچھی ہو، نتائج برآمد نہیں  ہوتے ۔
education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK