• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجہ کون بنے گا؟

Updated: February 07, 2026, 12:25 PM IST | Sayed Aaliya Shakeel | Mumbai

ژراف نے کہا ’’اب باری لومڑی گروپ کی ہے۔ ‘‘ لومڑی گروپ کا سردار شیر کو مسکرا کر دیکھا، پھر اسٹیج پر چڑھ گیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

جنگل کے راجہ شیر کی موت کے بعد آج نئے راجہ کے انتخاب کیلئے میٹنگ منعقد کی گئی تھی۔ میٹنگ کے تمام انتظامات ژراف اور زیبرا نے کئے تھے۔ جنگل کے پرانے قلعے میں ہی میٹنگ منعقد کی جانے والی تھی۔ جنگل کی تمام اہم میٹنگیں اسی قلعے میں منعقد کی جاتی تھیں۔ یہ ایک پرانا قلعہ تھا جو اپنے آپ میں تاریخی اہمیت کا حامل تھا۔ قلعے کے درمیان ہال میں لکڑی کی کرسیاں اور میز رکھی ہوئی تھیں، اطراف کی دیواروں پر جنگل کے پرانے راجاؤں کی تصویریں چسپاں تھیں۔ اسٹیج پر نامزد کئے گئے سینئر جانوروں کیلئے میز اور کرسیاں رکھی تھیں جن پر شیروں کے نئے سردار ’شیرو‘ اور ہاتھیوں کے سردار ’ایلی‘ کے نام درج تھے۔ سبھی جانوروں کے جمع ہونے اور ایلی اور شیرو کے اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جانے کے بعد ژراف نے میٹنگ کا آغاز کرتے ہوئے غرض و غایت بیان کی اور یاد دہانی کروائی کہ تمام جانوروں کے گروہوں کو نئے راجہ کے انتخاب کا حق حاصل ہوگا۔ شروعات ہاتھیوں کے گروہوں سے کی جانے والی تھی۔ ژراف نے ہاتھیوں کے گروہوں کے ترجمان کو اسٹیج پر آنے اور اپنی بات رکھنے کیلئے کہا ’’صبح بخیر پیارے جانورو! اور تمام جانوروں کو میرا سلام۔ ہمارے گروپ کا انتخاب ایلی ہے کیونکہ ایلی ایک عقلمند، رحمدل اور ہوشیار جانور ہے جو جنگل کے تمام فیصلے درست کرسکتا ہے اور امن قائم کرسکتا ہے۔ ‘‘ ہاتھیوں کے ترجمان نے اپنی بات پیش کی اور اسٹیج سے اتر کر اپنے گروپ کے پاس چلے گئے۔ 
دوسری باری منکی گروپ کی ہے۔ بندروں کے بادشاہ درخت سے اچھل کر اسٹیج پر کودے، پھر مائیک لے کر کہا ’’ہمارا انتخاب بھی شیرو ہے کیونکہ اس نے ہمارے گروپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ ‘‘ شیرو نے ’منکی گروپ‘ کے ترجمان کو ایسے دیکھا جیسے اسے سراہ رہا ہو۔ 
ژراف نے کہا ’’اب باری لومڑی گروپ کی ہے۔ ‘‘ لومڑی گروپ کا سردار شیر کو مسکرا کر دیکھا، پھر اسٹیج پر چڑھ گیا۔ 
’’ہمارے گروپ کا انتخاب شیرو ہے، آج تک جنگل کے تمام راجہ شیروں کے گروپ کے ہی بنے ہیں، اسی لئے ہم اپنے جنگل کے قوانین اور روایت کو توڑ نہیں سکتے۔ ہمیں شیرو کو چننا چاہئے، وہ ایلی سے زیادہ عقلمند ہے۔ ‘‘ شیر اور لومڑی کے سردار کے درمیان مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا جیسے دونوں کو کل کی ملاقات یاد آگئی ہو۔ 
’’اب باری ہمارے گروپ کی ہے۔ ‘‘ ژراف نے اپنے گروپ کے سردار کو اسٹیج پر بلایا۔ 
’’ہمارا انتخاب ایلی ہے، وہ ایک ہونہار جانور ہے جو جنگل کے راجہ بننے کا اصلی حقدار ہے۔ ‘‘ ’زیرا‘ نے ایلی کو دیکھتے ہوئے کہا جیسے شیرو کو نظرانداز کر رہا ہو۔ 
ژراف نے مائیک تھامتے ہوئے کہا ’’اب باری ہرنوں کے گروہوں کی ہے۔ ‘‘ ہرنوں کے گروپ کے ترجمان بار بار شیرو کو دیکھ رہے تھے اور پسینے میں شرابور تھے۔ 
’’ہمارا انتخاب شیرو ہے۔ وہ ای.... ک.... اچ... ھ.... ا... باد.... شاہ.... ثابت ہوگا۔ ‘‘ ہرنوں کے سردار نے گھبراتے ہوئے کہا، ان کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔ وہ اتنا کہہ کر ژراف کو مائیک تھماتے ہوئے جلدی سے اسٹیج سے اتر کر اپنے گروپ کے پاس چلے گئے۔ آج جنگل کے سبھی جانور بار بار ہرنوں اور نیل گائے کے گروپ کو دیکھ رہے تھے جن کے تمام ممبران خوفزدہ لگ رہے تھے جیسے انہیں کسی نے دھمکایا ہو۔ 

یہ بھی پڑھئے: پکنک

’’اب نیل گائے کے سردار آئیں۔ ‘‘ ژراف نے نیل گائے کے سردار کو آواز دی اور اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ 
نیل گائے کے سردار بھی ہرنوں کے سردار کی طرح خوفزدہ تھے۔ وہ شیرو کی جانب دیکھ ہی نہیں رہے تھے جیسے اس سے ڈر رہے ہوں۔ 
’’ہمیں بھی ایلی بطور راجہ قبول ہے۔ ‘‘ سردار کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ 
تمام گروہوں کی باری ختم ہونے کے بعد ژراف نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ’’تمام گروہوں کے انتخاب....‘‘
’’رک جاؤ۔‘‘ پرندوں کا سردار دور سے اڑتے ہوئے آیا اور مائیک پر بیٹھ گیا۔ 
ژراف کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ تمام جانور ہکا بکا رہ گئے۔ 
’’شیرو ایک چالاک جانور ہے، جسے راجہ نہیں بنانا چاہئے۔ کل میں نے لومڑی اور شیرو کی باتیں سنی تھیں۔ شیرو اور لومڑی نے مل کر ہرنوں اور نیل گائے کے گروہوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے اس کا انتخاب نہیں کیا تو وہ ان کے گروہ کے تمام جانوروں کو کھاجائیں گے۔ ‘‘ پرندوں کے سردار نے ہرنوں اور نیل گائے کے گروپ سے پوچھا ’’کیا مَیں سچ نہیں کہہ رہا؟‘‘
ہرنوں اور نیل گائے کے گروپ کے تمام ممبران کی نظریں شیرو پر تھیں جس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ دم دبا کر بھاگنے کی تیاری میں ہو۔ 
ہرنوں اور نیل گائے کے گروہوں کے تمام ممبران نے ہمت کرکے کہا ’’ہاں ! شیرو اور لومڑی نے ہمارے گروپ کے سبھی جانوروں کو کھاجانے کی دھمکی دی تھی۔ ‘‘
لومڑی اور شیرو کی حالت خراب تھی۔ دونوں بار بار ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جیسے اشاروں اشاروں میں ہی کوئی منصوبہ بنا رہے ہو۔ 
سبھی جانور شیرو اور لومڑی کو غصے سے دیکھنے لگے اور ان پر حملہ آور ہونے ہی والے تھے کہ دونوں دم دبا کر بھاگ گئے۔ 
سبھی جانور ہنسنے لگے۔ پھر ژراف نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ’’ایلی کو جنگل کا نیا راجہ منتخب کیا جاتا ہے۔ ‘‘ سبھی ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے اور ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK