• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماںبیٹی ایک ہی اسکول میں، ماں دسویں میں ہے اور بیٹی سینئرکے جی میں

Updated: February 08, 2026, 4:46 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ماں بیٹی ایک ہی طرح کےیونیفارم میں ایک ساتھ اسکول جاتےہیں۔تعلیم کےغیر معمولی شوق اورسسرالی عزیزوں کی حوصلہ افزائی کےسبب غوثیہ کاعزم پختہ ہے ،وہ ڈاکٹر بنناچاہتی ہیں۔

Ghousia Ilyas Sheikh with her daughter Zainab. Photo: INN
غوثیہ الیاس شیخ اپنی بیٹی زینب کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

باندرہ: غوثیہ الیاس شیخ (۲۲)ایک پُرعزم اور باحوصلہ خاتون ہیں۔گھریلو ناگفتہ بہ حالات اور کسمپرسی کی وجہ سے بچپن سے شوق ہونے کے باوجو د وہ باقاعدہ پڑھائی نہیں کرسکیں لیکن شادی اوربیٹی کی ولادت کےبعد ، موقع ملتے ہی، انہوں نے دوبارہ پڑھائی شروع کردی ہے۔وہ اسی اسکول میں پڑھ رہی ہیں جہاں اپنی بیٹی کاداخلہ کرایاہے۔ گھریلو کام کاج سے فارغ ہوکرماں بیٹی ایک ہی طرح کےیونیفارم میں ایک ساتھ اسکول جاتےہیں۔ غوثیہ اس سال ایس ایس سی امتحان دینےکی تیاری کررہی ہیں اور ڈاکٹر بننےکی متمنی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ریتو تاؤڑے ممبئی میں بی جے پی کی پہلی میئر

غوثیہ کےبقول’’ میرا بچپن مختلف قسم کی آزمائشوں اوردقتوںمیں گزرا۔ والدین کی عدم توجہی سے معمول کےمطابق پڑھائی نہیں ہوسکی ۔ سب سے پہلے نوی ممبئی ، نیرول کےایک مراٹھی میڈیم اسکول میںمیرا داخلہ کرایا گیا۔ جہاں سے میںنے چہارم جماعت کاامتحان پاس کیا۔ بعد ازیں گھریلو حالات کی وجہ سے پڑھائی منقطع ہوگئی۔ہمیں نیرول چھوڑکر مانخورد منتقل ہوناپڑا، پھر میرا داخلہ ۵؍ویں جماعت میں کرایاگیا۔ جس وقت میں نویں جماعت میں زیرتعلیم تھی ،ان دنوں بھی بعض مسائل کی وجہ سے میں امتحان نہیں دے سکی۔ ایک مرتبہ پھر میری پڑھائی چھوٹ گئی۔ اسی تگ ودومیں مارچ ۲۰۲۰ء میںمیری شادی طے ہوگئی۔ شادی کےوقت میں نے سسرال والوں سے درخواست کی تھی کہ میں امور خانہ داری کےساتھ پڑھنا چاہتی ہوں۔و ہ راضی ہوگئے۔ شادی کےفوراً بعد کوروناوائرس کی وباء سے لاک ڈائون نافذ ہوگیا جس کی وجہ سے اسکول میں داخلہ نہیں لیاجاسکا۔اس دوران ۲۰۲۱ءمیںبیٹی کی ولادت ہونےپر خاوند نے کہاکہ بچی ابھی چھوٹی ہے ۔اسے ایک سال کا ہوجانے دو پھر پڑھائی شروع کرنا، بات بھی درست تھی ۔میں چاہتی تھی کہ جن دشوارکن حالات کی وجہ سے میری پڑھائی نہیں ہوسکی ہے ،اس کا سایہ میری بیٹی زینب کی پڑھائی پر نہ پڑے۔زینب کی پرورش اور دیکھ بھال میںوقت گزرتا گیا۔ اس کے ڈھائی سال کے ہونےپر جب میں اس کاداخلہ کرانے گئی ،تب میں نےپرنسپل سے اپنی پڑھائی سےمتعلق تحقیقات کی۔انہوںنے کہاتم بھی داخلہ لے سکتی ہو۔ سسرال والوں سے اجازت لے کر میں نے، زینب اور اپنا داخلہ ۲۰۲۴ءمیں اسی اسکول میں ایک ساتھ کرایا۔ ہم دونوں گزشتہ ۲؍سال سے یہاں زیر تعلیم ہیں۔ ہماری پڑھائی معمول کےمطابق جاری ہےاور امسال میں ایس ایس سی امتحان دینے کی تیاری کررہی ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: میئر انتخاب سے قبل بی جے پی میں پھوٹ!

ماں بیٹی کے ایک ساتھ اسکول جانے سےمتعلق سوال کرنےپر غوثیہ نے بتایاکہ ’’ ہم دونوں یونیفارم میں گھر سے نکلتےہیں۔ زینب کےاسکول کاوقت دوپہر ایک سے شام ۴؍بجے کاہے ،جبکہ میرا وقت دوپہر ایک سے شام ۶؍بجے تک ہے۔ زینب ۴؍سے ۶؍بجے تک میرے ساتھ میری کلاس میں بیٹھتی ہے ۔ میں اسے کچھ لکھنے پڑھنےیا ڈرائنگ وغیرہ بنانےکا کام دےدیتی ہوں۔ بعدازیں ۶؍بجے چھٹی ہونےپر اسے ساتھ لےکر گھر آتی ہوں۔ یہ سلسلہ گزشتہ ۲؍سال سےباقاعدہ جاری ہے۔‘‘

ایک سوال کےجواب میں غوثیہ نے کہاکہ ’’ مجھے پڑھائی کا بہت شوق ہے ۔ ۲؍مرتبہ پڑھائی میں خلل پڑنے کے باوجود میںنے گھرپر پڑھائی کرنےکامعمول جاری رکھا جس کی وجہ سے ۲۰۲۵ءمیں نویں جماعت کے امتحان میں ۶۸ء۶۰؍ فیصد سےمجھے کامیابی ملی اور میں کلاس ٹاپر رہی۔ شادی کےبعدبھی گھر میں پڑھتی تھی۔ آج بھی روزانہ رات ۱۲؍سے ۳؍ بجے تک پڑھائی کرتی ہوں۔اس دوران جن مشمولات پر زیادہ توجہ دینےکی ضرورت ہوتی ہے،ان کے پوائنٹس لکھ کر دیوار پرچسپاں کردیتی ہوں تاکہ وقتاً فوقتاً انہیں پڑھاجاسکے۔ دوپہر ۱۲؍بجے تک گھر کے کاموں سے فارغ ہوکرپہلے زینب کو پھر خود تیارہوتی ہوں،ہم دونوں ایک ساتھ اسکول یونیفارم میں گھر سے نکلتےہیں۔ایس ایس سی امتحان کیلئے بڑی محنت کررہی ہوں۔ مجھے اُمید ہےکہ کم ازکم ۸۵؍ فیصد مارکس سے کامیابی ملے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مودی حکومت کے خلاف کانگریس کا احتجاجی مورچہ ، پولیس کا ہلکا لاٹھی چارج

ڈاکٹر بننے کی خواہش سے متعلق دریافت کرنےپر غوثیہ نے کہاکہ ’’ ایس ایس سی پاس کرکےمیں سائنس میں داخلہ لیناچاہتی ہوں۔مجھے بچپن سے ڈاکٹر بننےکاشوق رہا ہے۔ ڈاکٹر بن کر غریب ، مستحقین اور عمررسیدہ افراد کی خدمت کرناچاہتی ہوں۔ اس شوق کے پیچھے ایک درد چھپاہے جو مجھے بےچین رکھتاہے۔دراصل میرے والد ذیابیطس کے مریض تھے۔ ذیابیطس کی وجہ سے ان کے پیروںمیں اکثر زخم ہونےسے بڑی تکلیف ہوتی تھی۔ان کےساتھ کبھی کبھی میں بھی سرکاری اسپتال جاتی تھی۔والد اور دیگر مریضوں کے عملےکاسلوک دیکھ کر بڑی تکلیف ہوتی تھی۔تبھی میں نے فیصلہ کیاتھاکہ ڈاکٹر بن کر غریب اور مجبور مریضوںکا علاج کروںگی۔ ‘‘

غوثیہ نے یہ بھی بتایاکہ ’’ خاوند کے علاوہ ساس سسر کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے ،جس سےمیرے حوصلے بلند ہیں۔ان شاء اللہ میں ڈاکٹر ضرور بنوں گی۔‘‘

غوثیہ کےسسر عبدالرحمٰن شیخ نے اس نمائندہ کو بتایاکہ ’’آج کادور تعلیم کاہے۔ ا س لئے غوثیہ کی خواہش کا احترام کرتےہوئے اسے پڑھائی کرنےکی اجازت دی ہے، ساتھ ہی جس طرح کی بھی مدد درکار ہے وہ دی جارہی ہے۔ ہم چاہتےہیں کہ وہ گھریلو ذمہ داریوںکےساتھ ڈاکٹر بن کر عوام کی خدمت کرے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: آج ممبرا میں متل گراؤنڈ پرسنّی اجتماع، علماء اہم عناوین پرخطاب کریں گے

اسکول کے ایک ذمہ دار نے بتایاکہ ’’ جب غوثیہ داخلہ لینے اپنے خاوند کے ہمراہ آئی تھی ، ہم نے ایس ایس سی امتحان کیلئے نجی طورپر فارم نمبر ۱۷؍ بھرنےکا مشورہ دیاتھا لیکن وہ ریگولر اسکول کاحصہ بنناچاہتی تھی۔ وہ ریگولر اسکول سے دسویں کا امتحان دیناچاہتی تھی۔ اس کے عزم اورجذبہ کو دیکھ کر اسے داخلہ دیاگیااوراب اسی جذبہ کی وجہ سے ہم اس کی ہرطرح مدد کرتےہیں تاکہ وہ اپنے ڈاکٹر بننےکےخواب کو پورا کرسکے۔‘‘ غوثیہ نے اسکول میں پڑھائی کےساتھ الیکٹریکل سوئچ بورڈ ، واشنگ مشین اور ٹوٹے ہوئے بجلی کے تاروں کوکیسے ٹھیک کیاجا ہے،یہ بھی سیکھ لیاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK