• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دو سبق آموز کہانیاں

Updated: February 07, 2026, 12:25 PM IST | Muhammad Yunus Hasrat | Mumbai

اتنے میں بیٹا بھی آگیا۔ باپ نے اس سے پوچھا تو اس نے صاف کہہ دیا ’’آپ ناراض تو ہوں گے مگر مَیں جھوٹ نہ بولوں گا۔ یہ درخت مَیں نے ہی کاٹا ہے۔ ‘‘

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مَیں جھوٹ نہ بولوں گا
ایک شریف آدمی نے نہایت شوق سے گھر کے پاس ایک چھوٹا سا باغ لگا رکھا تھا جسے وہ ہر روز اپنے ہاتھ سے سینچتا۔ ایک دن وہ کہیں باہر گیا ہوا تھا کہ اس کا چھوٹا لڑکا ہاتھ میں آری لئے باغ کی سیر کو نکلا اور اس نے آری کو آزماتے آزماتے ایک سب سے اچھا درخت کاٹ دیا۔ 
شام کو باپ نے آکر باغ کو دیکھا تو اس درخت کو کٹا ہوا پا کر بہت غصہ ہوا اور ہر ایک سے پوچھنے لگا کہ یہ درخت کس نے کاٹا ہے۔ 
اتنے میں بیٹا بھی آگیا۔ باپ نے اس سے پوچھا تو اس نے صاف کہہ دیا ’’آپ ناراض تو ہوں گے مگر مَیں جھوٹ نہ بولوں گا۔ یہ درخت مَیں نے ہی کاٹا ہے۔ ‘‘
باغ کا شوقین باپ یہ جملہ سننے سے پہلے تک غصے میں تھا لیکن اس نے نہایت خوشی سے بیٹے کو گود میں اٹھا لیا اور کہا ’’بیٹا! مجھے تمہاری سچائی سے اتنی خوشی ہوئی کہ درخت کٹ جانے کا رنج اس کے سامنے کوئی چیز نہیں۔ شاباش! اسی طرح ہمیشہ سچ بولا کرنا۔ ‘‘
باپ کے اس معاف کر دینے اور شاباشی دینے کا لڑکے کے دل پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے عمر بھر کبھی جھوٹ نہ بولا۔ ہوتے ہوتے اس کی سچائی سارے شہر میں مشہور ہوگئی۔ 
اس لڑکے کا نام جارج واشنگٹن تھا جس نے امریکہ کو آزاد کرایا اور وہی اس بہت بڑے ملک کا سب سے پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ امریکہ کے صدر مقام کا نام بھی اسی لڑکے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: بڑوں کی سیاست

استاد کی مار
ایک دن مامون رشید کی والدہ نے اس کے استاد سے کہلا بھیجا ’’شہزادہ گھر میں شوخی کرتا ہے۔ اسے سزا دینی چاہئے۔ ‘‘
استاد نے شہزادے کے منہ پر دو چار طمانچے لگا کر کان پکڑوا دیئے۔ جس سے مامون کو اتنی تکلیف ہوئی کہ بے اختیار آنسو جاری ہوگئے۔ 
یہ کان پکڑے ہوئے رو رہا تھا کہ کسی چوبدار نے آکر استاد سے کہا ’’جعفر برمکی وزیر سلطنت شہزادے کو دیکھنے کی اجازت چاہتا ہے۔ ‘‘
استاد نے شہزادے سے کہا ’’کان چھوڑ ذرا سنبھل بیٹھو۔ ‘‘
شہزادے کا چہرہ آنسوؤں سے بھرا ہوا سرخی سے تمتما رہا تھا، مگر وہ جھٹ رومال سے منہ پونچھ کر بدستور اپنی جگہ بیٹھ گیا اور وزیر کے جانے تک برابر اس طرح بیٹھا رہا کہ اسے اس کی کسی حرکت سے سزا کا خیال تک نہ گزرا۔ 
وزیر کے جانے پر استاد نے شہزادےسے کہا ’’اگرچہ مجھ سے یہ حرکت تمہاری ہی بھلائی کے لئے ہوئی تھی مگر تم نے اچھا کیا وزیر سے شکایت نہ کی۔ ‘‘
شہزادے نے کہا ’’جناب! جو لڑکا استاد کی شکایت کرتا ہے، وہ مراد کو نہیں پہنچ سکتا۔ مَیں آپ کی شکایت کرکے خود کیوں بے نصیب بنتا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK