بہت سوں کیلئے سونم وانگ چک کا نام نیا ہے مگر وہ لوگ بھی کم نہیں ہیں جو اِن کے نام اور کام سے کماحقہ واقف ہیں ۔ یہ وہ شخص ہے جسے اندرونِ ملک ہی نہیں ، بیرونِ ملک بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
EPAPER
Updated: September 30, 2025, 1:42 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
بہت سوں کیلئے سونم وانگ چک کا نام نیا ہے مگر وہ لوگ بھی کم نہیں ہیں جو اِن کے نام اور کام سے کماحقہ واقف ہیں ۔ یہ وہ شخص ہے جسے اندرونِ ملک ہی نہیں ، بیرونِ ملک بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
بہت سوں کیلئے سونم وانگ چک کا نام نیا ہے مگر وہ لوگ بھی کم نہیں ہیں جو اِن کے نام اور کام سے کماحقہ واقف ہیں ۔ یہ وہ شخص ہے جسے اندرونِ ملک ہی نہیں ، بیرونِ ملک بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جسے اُس کی خدمات کے پیش نظر ریمن میگ سیسے ایوارڈ سے نوازا گیا (۲۰۱۸ء) اور جس کی بابت سمجھا جاتا ہے کہ فلم ’’تھری ایڈیٹس‘‘ اُسی سے متاثر ہوکر بنائی گئی تھی اور فلم میں عامر خان نے پھانسکھ وانگڈو کے کردار کے ذریعہ کسی اور کو نہیں سونم وانگ چک ہی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وانگ چک کی پزیرائی اس لئے بھی ہوتی رہی ہے کہ وہ ایک سماجی خدمتگار کے طور پر ہمہ وقت سرگرم رہے۔ اس سلسلے میں ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ اُنہوں نے اپنی بی ٹیک کی تعلیم سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے خطے اور وطن عزیز کو اس طرح فائدہ پہنچایا کہ برف کا مصنوعی تودہ (آرٹیفیشل گلیشئر) ایجاد کیا تاکہ لداخ میں پانی کی قلت کا مسئلہ دور کیا جاسکے۔
سونم پہلی مرتبہ بھوک ہڑتال پر نہیں بیٹھے تھے۔ اُنہوں نے یہ احتجاج اب سے پہلے بھی کیا ہے مگر جب اہل اقتدار کو اُن کا احتجاج پسند نہ آیا تب اُسے یہ بات بھول جانے میں دیر نہیں لگی کہ جس وانگ چگ کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے وہ کون ہے اور لداخ کے عوام کے دِلوں میں یا عالمی سطح پر اُس کا کیا مقام ہے۔ سونم نے اس مطالبہ کے تحت بھوک ہڑتال شروع کی تھی کہ لداخ کو ریاستی درجہ ملے اور اس خطہ کو ہر ممکن ماحولیاتی تحفظ فراہم ہو۔ یہ کوئی ایسا مطالبہ نہیں تھا جو پورا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ آرٹیکل ۳۷۰؍ کے بے اثر کئے جانے اور لداخ کو ’’مرکزی علاقہ‘‘ بنا دینے کے بعد کسی اور نے نہیں خود مرکز کی حکمراں جماعت یعنی بی جے پی نے اعلان کیا تھا کہ لداخ کو ریاستی درجہ بھی دیا جائیگا اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت بھی لایا جائیگا۔ سونم وانگ چک کو احتجاج کا سہارا نہ لینا پڑتا اگریہ وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا۔ اُن کی اہلیہ نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ تو مرکزی حکومت اور حکمراں جماعت کے فیصلے سے خوش تھے، ہم نے الیکشن میں بی جے پی ہی کو ووٹ دیا تھا مگر کون جانتا تھا کہ اِتنی بڑی سزا ملے گی۔
چونکہ چند روز قبل احتجاجی مظاہرہ کے دوران تشدد پھوٹ پڑا جس میں چار افراد کی موت واقع ہوگئی اس لئے حکومت نے اس کی ذمہ داری سونم پر ڈال دی اور اُنہیں گرفتار کرلیا۔ سونم پر تشدد بھڑکانے کا الزام ہے جو ، بادی النظر میں اس لئے درست معلوم نہیں ہوتا کہ اُن کے مزاج میں تعمیر ہے، تخریب ہرگز نہیں ۔ اگر اُنہیں تشدد کی راہ اپنانی ہوتی تو سابقہ احتجاجی مظاہرے سو فیصد پُرامن نہ رہتے۔جس شخص نے اپنی اب تک کی زندگی میں تعلیم کیلئے کافی کام کیا، لداخ میں دی جانے والی تعلیم کو جدید تقاضو ں اور اپنے علاقے کی تہذیب و ثقافت کے مطابق ڈھالنے اور اس میں ماحولیاتی بیداری کا عنصر شامل کرنے کیلئے کئی ٹھوس اقدامات کئے اور اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ کی بنیاد ڈالی، وہ تشدد کی راہ کیسے اختیار کرسکتا ہے؟ رہا سوال غیر ملکی امداد کا تو یہ الزام کہاں تک درست ہےیہ کہنا مشکل ہے البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اُن پر یہ الزام ابھی ہی کیوں عائد ہوا، پہلے کیو ں نہیں لگا؟
ملک کیلئے سوچنے اور کام کرنے والے ممتاز رضاکار پر قومی سلامتی ایکٹ کی دفعات کے تحت معاملے کے اندراج اور پھر اُس کی گرفتاری سے کئی سوال پیدا ہورہے ہیں جن میں سے یہ سوال تو وہ رہا ہوجائیں تب بھی پوچھا جائیگا کہ کیا گرفتاری ضروری تھی؟