Updated: September 21, 2026, 9:06 PM IST
| Jerusalem
قطر، سعودی عرب، کویت اور اردن نے اسرائیلی وزیرِ برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں کی جانے والی دراندازی کی مذمت کی، جو پولیس کی حفاظت میں آباد کاروں کے گروپس کے ہمراہ تھے۔ قطر نے اس حملے کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف ”ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی“ قرار دیا جس سے علاقائی عدم استحکام کو ہوا ملنے کا خطرہ ہے۔ سعودی عرب نے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی اسرائیلی اقدامات کو روکے۔
غیرقانونی آباد کار مسجد اقصیٰ کے احاطے میں تلمودی رسومات ادا کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
رپورٹس کے مطابق، اتوار کی صبح مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فورسیز کی حفاظت میں تقریباً ۱۰۰۰ غیرقانونی اسرائیلی آباد کاروں نے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے پر دھاوا بول دیا۔ یروشلم گورنریٹ کے میڈیا آفس نے ایک بیان میں کہا کہ آباد کاروں نے اسرائیلی پولیس کے تحفظ میں احاطے کے صحنوں پر دھاوا بولا اور تلمودی رسومات ادا کیں۔
یہ دراندازی اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو، متعدد وزراء اور ہزاروں غیرقانونی آباد کاروں کے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں سخت سیکوریٹی کے درمیان مغربی دیوار (دیوارِ گریہ) کے پلازہ میں داخل ہونے کے ایک دن بعد ہوئی۔ یہ پیش رفت یہودیوں کے تہوار یوم کپور کے دوران سامنے آئی جو اتوار کی شام سے شروع ہو کر پیر کی شام تک جاری رہے گا۔ حالیہ مہینوں میں، خاص طور پر یہودی تعطیلات کے دوران، مسجدِ اقصیٰ میں آباد کاروں کی دراندازیوں میں شدت آئی ہے۔ فلسطینیوں نے مسجد میں نئی حقیقتیں مسلط کرنے اور اسے وقتی اور مکانی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل کی قید تنہائی کے ایک ماہ مکمل، حقوق انسانی کے اداروں کا اظہار تشویش
عرب ممالک نے بن گویر کی دراندازی کی مذمت کی
قطر، سعودی عرب، کویت اور اردن نے اسرائیلی وزیرِ برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کی جانب سے احاطے میں کی جانے والی دراندازی کی مذمت کی، جو پولیس کی حفاظت میں آباد کاروں کے گروپس کے ہمراہ تھے۔ قطر نے اس حملے کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف ”ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی“ قرار دیا جس سے علاقائی عدم استحکام کو ہوا ملنے کا خطرہ ہے۔ سعودی عرب نے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی اسرائیلی اقدامات کو روکے۔
کویت کی وزارتِ خارجہ نے اس ناپاک حرکت کو ”اشتعال انگیز اقدام“ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس نے مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ ۱۹۶۷ء کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔ اردن کی وزارتِ خارجہ نے اس کارروائی کو ”مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور اس کے تقدس کی پامالی“ قرار دیا۔ عمان نے اس مقام کو وقتی اور مکانی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوششوں کے خلاف متنبہ کیا۔ اس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پورا ۴ء۱۴ ہیکٹر (۱۴۴ دونم) پر مشتمل احاطہ خالصتاً مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، جس کا انتظام مکمل طور پر اردن سے منسلک یروشلم کے اسلامی اوقاف کے ماتحت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے ناکہ بندی کرکے ۱۰۰؍ سے زائد فلسطینی اساتذہ کو اسکول جانے سے روکا
نیتن یاہو کے سرنگ کے دورے کی مذمت
علیحدہ طور پر، حماس نے احاطے کے نیچے کھدائی کے مقامات پر نیتن یاہو کے داخلے کی مذمت کی۔ حماس نے کہا کہ اشتعال انگیز بیانات کے ساتھ مسجدِ اقصیٰ اور دیوارِ براق کے نیچے سرنگوں اور کھدائی کے مقامات کا ان کا دورہ ”اس کی شناخت اور حیثیت پر ایک کھلم کھلا حملہ“ تھا۔ اس گروہ نے کہا کہ مسجدِ اقصیٰ اپنے صحنوں، عبادت گاہوں، دیواروں اور دروازوں سمیت ”مکمل طور پر ایک اسلامی مسجد ہی رہے گی۔“ اس نے مزید کہا کہ کھدائی اور بائبلی بیانیے اس مقام کی شناخت تبدیل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔