Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹوٹ پھوٹ اور توڑ پھوڑ

Updated: June 22, 2026, 1:31 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

عام آدمی پارٹی میں پھوٹ پڑی اور اس پارٹی کے راجیہ سبھا کے چھ اراکین بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ اپنے آپ میں حیرت انگیز اور بہت بڑی ہونے کے باوجود یہ چھوٹی بغاوت تھی۔

Trinamool Congress.Photo:INN
نرنمول کانگریس۔ تصویر:آئی این این
عام آدمی پارٹی میں پھوٹ پڑی اور اس پارٹی کے راجیہ سبھا کے چھ اراکین بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ اپنے آپ میں حیرت انگیز اور بہت بڑی ہونے کے باوجود یہ چھوٹی بغاوت تھی۔ یہ احساس تب ہوا جب ترنمول کانگریس میں بغاوت ہوئی۔ ۸۰؍ میں سے ۶۰؍ اراکین اسمبلی اور ۲۸؍ میں سے ۱۹؍ اراکین پارلیمان۔ یہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس پر بھی توڑ پھوڑ کی سیاست کا پیٹ نہیں بھرا۔ شیوسینا پر نگاہیں جمائی گئیں۔ ۹؍ میں سے ۶؍ اراکین پارلیمان کے تیور کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ اب سماج وادی پارٹی کے خلاف ماحول بنایا جا رہا ہے۔ اتنے کم وقت میں اتنی توڑ پھوڑ پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اور بھی کئی باتیں ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں۔ گزشتہ بارہ سال میں ایک سے بڑھ کر ایک ریکارڈ بن چکا ہے۔ ان بارہ برسوں کو ریکارڈ بنانے اور توڑنے کی تقریباً سوا دہائی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ سوال پوچھا جانے لگا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ فوراً ہی جواب ملنے لگا کہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کیلئے۔ پھر سوال کیا گیا کہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کیوں چاہئے تو جواب ملا کہ لوک سبھا کے حلقوں کی نئی حد بندی کیلئے۔ تجسس رکھنے والے کب خاموش رہ سکتے تھے۔ انہوں نے پھر پوچھا نئی حد بندی سے کیا ہوگا؟ وہ تو مردم شماری کی تکمیل کے بعد ہونی تھی؟ جواب دیا گیا کہ پرانی حد بندی کے بعد سے آبادی کافی بڑھی ہے اس لئے نئی حد بندی ضروری ہے۔ پوچھنے والوں نے پھر پوچھا کہ جب مردم شماری نہیں ہوئی اور ملک کی آبادی کے تازہ اعداد و شمار کا تعین نہیں ہوا ہے تو حد بندی کس بنیاد پر ہوگی؟ اس سوال کا جواب نہیں مل رہا ہے مگر حکومت پرزور طریقے سے دو تہائی اکثریت کا بندوبست کررہی ہے مگر عام لوگوں کے حساب سے یہ آسان نہیں ہے جبکہ بی جے پی کے نقطۂ نظر سے مشکل نہیں ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں سماج وادی نہیں ٹوٹ سکتی، اور ڈی ایم کے کا تو سوال ہی نہیں، وہ پہلے ہی سے نئی حد بندی کی مخالف ہے مگر کچھ لوگ ہیں جو اتنے وثوق سے کہی جانے والی باتوں پر دل ہی دل میں مسکراتے ہیں۔
 
 
شاید یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ای ڈی کے ذریعہ دائر کئے گئے مقدمات میں جرم ثابت ہونے کی شرح بھلے ہی بہت کم ہو مگر ای ڈی کا حوصلہ اب بھی اتنا ہی بلند ہے جتنا پہلے تھا۔ پیسے کی طاقت اب بھی اتنی ہی ہے جتنی پہلے تھی۔ عہدوں کا لالچ بھی کم نہیں ہوا ہے اس لئے اب بھی بہت کچھ ممکن ہے۔ مان لیا کہ ممکن ہے مگر کیا وہ سارے لوگ جو پارٹیوں کی ٹوٹ پھوٹ کیلئے آلۂ کار بننے کیلئے تیار بیٹھے رہتے ہیں کبھی سوچتے بھی ہیں کہ وہ اپنی اس پارٹی کو دغا دے رہے ہیں جس نے انہیں پالا پوسا، موقع دیا، ٹکٹ دیا، شناخت دی اور ایک سے بڑھ کر ایک منصب عطا کیا، کیا اس کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے؟
 
 
ایسا ہونا تو نہیں چاہئے مگر ہو رہا ہے اور بار بار ہو رہا ہے۔ راہل گاندھی جب اپنی پارٹی میں پرائی پارٹی کے سلیپنگ سیل کی بات کرتے ہیں تو نظریات اور کردار دونوں کی کمزوری کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس ضرورت کو محسوس کیا جانا چاہئے جو راہل گاندھی نے کیا اور بلا جھجک اس کا اظہار بھی کر دیا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK