Inquilab Logo Happiest Places to Work

عمارت

Updated: June 22, 2026, 1:54 PM IST | Yasmin Bano | Mumbai

وہ بنجاروں کے کچھ ٹوٹے پھوٹے خیمے تھے جن کے سامنے ایک عالیشان سرکاری عمارت کی تعمیر اختتام پزیر تھی۔

Building.Photo:INN
عمارت۔تصویر:آئی این این
وہ بنجاروں کے کچھ ٹوٹے پھوٹے خیمے تھے جن کے سامنے ایک عالیشان سرکاری عمارت کی تعمیر اختتام پزیر تھی۔ ان خیموں کے سامنے مزدوروں کے بچے مٹی میں کھیل رہے تھے۔
رجّو اپنے خیمے کے باہر اینٹوں کے چولہے پر کھانا پکا رہی تھی۔ اس کا چہرہ دھویں کی زد میں تھا۔ اسی وقت ننھا مگن دوڑتا ہوا آیا اور اس کی پیٹھ پر جھول گیا۔
’’ماں! کھانا دے۔‘‘ وہ معصوم سی آواز میں بولا۔
’’ابھی نہیں پکا، تو جاکر کھیل آ۔‘‘ وہ سر کا آنچل سنبھالتے، دھویں کی زد سے آنکھیں بچاتی ہوئی بولی۔
اس کا چولہا دہک رہا تھا۔ مگن اس کا جواب سن کر پلٹا اور میدان میں بندھے مویشیوں کے پاس جاکر کھیلنے لگا۔ تمام مزدور اپنے کاموں میں مصروف تھے۔
اس کا شوہر بھی بھوکا ہوں گا وہ تھوڑی دیر بعد آئے گا۔ رجّو نے وقت کا اندازہ لگایا اور خیمے میں آئی۔
اس کا خیمہ زندگی کی ایک بھدی سی تصویر تھا جہاں زندگی ہر قسم کے تکلفات  سے عاری تھی۔ چھوٹا سا کپڑے کا خیمہ، دو چار ٹوٹے پھوٹے برتن، رنگ برنگے بے جوڑ سے کپڑے.... اسے جلدی جلدی کام ختم کر اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانے جانا تھا۔ اس نے گھر کا کام سمیٹا اور فوراً مزدوروں کے جتھے میں پہنچ گئی۔
مگن پھر دوڑتا ہوا خیمے تک آیا لیکن اب وہاں رجّو نہیں تھی۔ اس نے سامنے عمارت کی طرف دیکھا، ان مزدور عورتوں میں اسے اپنی ماں اینٹیں اٹھاتی ہوئی نظر آئی۔ اس نے پلٹ کر سرد پڑے چولہے کی طرف دیکھا۔ وہ بڑھ کر دیگچی کھولنے ہی لگا تھا کہ زور دار شور کی وجہ سے چونکا۔
یہ شور عمارت کے قریب سے اٹھا تھا۔ مگن متجسس سا اس طرف بھاگا۔ عمارت کے سامنے سبھی مزدوروں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔ کوئی مزدور اونچائی سے گر پڑا تھا۔ مگن بھیڑ کو چیرتا ہوا درمیان میں پہنچ چکا تھا۔ اس نے سنا کوئی کہہ رہا تھا ایک مزدور عورت اونچائی سے پیر پھسلنے کی وجہ سے گر کر فوت ہوگئی۔ سارے مزدور افسوس سے اس کو دیکھ رہے تھے۔ مزدور عورتیں سروں کا آنچل سنبھالے سہمی ہوئی اسے دیکھی جارہی تھیں۔
مگن نے دیکھا اس کا باپ لاش کے پاس بیٹھا زور زور سے دہاڑے مارے روئے جا رہا ہے۔ وہ دیوانوں کی طرح ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا پھر اس کی نظر مگن پر پڑی تو وہ اور زور زور سے رونے لگا۔ مگن تیزی سے ڈور کر اس سے لپٹ گیا۔ رجّو کا خون آلود جسم زمین پر ساکت پڑا تھا۔ باپ کو روتا دیکھ کر وہ بھی رونے لگا۔ آنکھوں سے جھر جھر آنسو بہہ رہے تھے ناک کا مواد ہونٹوں تک آگیا تھا۔ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی بھیگی آنکھوں سے باپ کو سینا پیٹتے دیکھ رہا تھا جو کہے جارہا تھا ’’تیری ماں چل بسی مگن.... تیری ماں چل بسی....
تھوڑی دیر بعد تمام مزدور اس کی آخری رسومات سے فارغ ہو کر دوبارہ کام میں مصروف ہوچکے تھے۔ ننھا مگن کمہلایا ہوا نظر آرہا تھا۔ وہ مٹی میں بیٹھا کچھ کھیل رہا تھا۔ اسکے ہاتھ پاؤں گرد آلود تھے۔ اس نے کھیلتے کھیلتے اس شاندار عمارت کی طرف دیکھا۔ اس کو یہ بات سمجھ آگئی تھی کہ کچھ دیر کیلئے عمارت کا کام رک گیا تھا مگر یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی کہ اس کی ماں آخر کہاں چل بسی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK